صبر کیا ہے

صبر استعانت ہے۔ صبر اظہارِ بندگی ہے۔ صبر خوشخبری ہے۔ صبر رحمان کی طرف سے فلاح کی پیشگی خوشخبری ہے۔ صبر ایسی حکمتِ عملی ہے جو نتائج دینے میں اٹل ہے۔ صبر مصیبت اور مایوسی میں خود اعتمادی ہے۔ صبر دشمن کو دوست بنانے کا نسخہ ہے۔ صبر خالقِ کائنات کی محبت کے حصول کا وسیلہ ہے۔ صبر انسان کو عزیمت کی بلندیوں سے سرفراز کرتا ہے۔ صبر امتحانی پرچے کا لازمی اور بنیادی جزء ہے۔ صبر خدا کی معیت کا ذریعہ ہے۔ صبر خدا کو اپنا سہارا بنانے اور ماننے کی دلیل ہے۔ صبر سے دنیا کی امامت ملتی ہے۔ صبر اطاعتِ خداوندی ہے۔

صبر جمال ہے اور جلال میں جمال ہے اور یہی انسانیت کی تکمیل ہے۔ صبر اتنی قیمتی شے ہے کہ اس کا معمولی سا حصہ بھی انسان کو خدا کی بے شمار اور لامحدود نعمتوں کا وارث بناتا ہے۔ صبر خدا کے وعدوں کو حقیقت میں بدلتا ہے، اپنے وعدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے خدا نے یہی سنت ہمیں بتائی ہے۔ صبر خدا کی بخشش ہے۔ لوگوں کی ایذا رسانیوں پر صبر دراصل خدا کی بندگی پر ڈٹے رہنے کا اعلان ہے۔ صبر اللہ پاک کی طرف سے عطیہ ہے۔ صبر محض لازمی مجبوری نہیں بلکہ خوبصورتی بھی ہے۔ صبر موحدین کا لباس ہے جسے پہن کر انسان موحدین کی صفوں میں مستقل رہ سکتا ہے۔ صبر احسان کی بلندیوں تک پہنچنے کی سیڑھی ہے۔ صبر صابر کو مستعان سے جوڑتا ہے۔

صبر ایسی بے مثال دوا ہے جو زبان کے زخموں کے لیے بھی شفا بنتی ہے، اگرچہ شعراء اور ادباء کے نزدیک زبان کے زخم تلوار کے زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں اور عمر بھر ان سے افاقہ نہیں ملتا۔ صبر خدا کی حاکمیت پر ایمان کی دلیل ہے۔ صبر بیس کو دو سو پر غالب کرتا ہے۔ صبر کا بدلہ دنیا میں ممکن نہیں، اس لیے اس کا بدلہ جنت میں دیا جائے گا۔ صبر تعریف کے ساتھ خدا کی پاکی بیان کرنے سے ملتا ہے۔ صبر انسان کو خدا کی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ صبر کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ اعترافِ گناہ ہے اور اس کی بخشش کو خدا سے طلب کرنا ہے۔ صبر بے چینی کا نام نہیں بلکہ قرآنِ حکیم اسے اطمینان بتاتا ہے۔ صبر خدا کی نگاہوں میں رہنے کے لیے متعلقہ اہلیت ہے۔ خدا کی رضا اور صبر لازم و ملزوم ہیں۔ صبر محض نیکی کا ذریعہ نہیں بلکہ بذاتِ خود مطلوب و مقصود ہے۔ صبر جہاد کے دوران دشمن کے خلاف سب سے زیادہ مہلک ترین ہتھیار ہے۔

صبر کے بغیر انسانوں کے مابین ربط ممکن نہیں۔ صبر نہ ہو تو منکر کو دفع کرنے سے انسان عاجز رہتا ہے۔ بے صبری انسان کو گمراہوں کے در پر لے جاتی ہے۔ حاملِ حق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ صبر اختیار کیا جائے۔ بیہودہ اور جھگڑالو لوگوں کی بیہودگی اور جھگڑوں سے بچنے کے لیے واحد نسخہ صبر ہے۔

صبر وہ آزادی ہے جو انسان کو اپنے آپ کی غلامی سے بھی نجات عطا کرتا ہے۔زمانے کی طبیعت میں جتنے بھی خسران کی صورتیں ہیں، ان سب سے بچاؤ کا ذریعہ صبر ہے۔

الغرض! صبر وہ سعادت ہے جو انسان کو ولایت کے مقام تک پہنچاتا ہے، یعنی بندہ خدا کا ولی بن جاتا ہے۔ وہ ولایت جس کے لیے لوگ سالوں سال تک گوشوں میں بیٹھے رہتے ہیں، خدا نے اس کے حصول کا آسان، عام فہم اور انسان کی دسترس میں طریقہ بتایا یعنی صبر۔ صبر سے جو ولایت ملتی ہے اس سے انسان خدا کی دائمی نعمتوں کا وارث بنتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے