شناخت کا عالمی دن اور ہمارا المیہ

آج میں نے فیس بک پر نادرا کی ایک پوسٹ دیکھی پوسٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں بھی دنیا کے ساتھ ساتھ شناخت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ نادرا نے شہریوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی شناخت مکمل کرائیں قومی شناختی کارڈ بنوائیں اور اس عمل کو اپنی شہریت کا ثبوت بنائیں۔ بظاہر یہ باتیں بالکل درست ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ شناخت کا تحفظ ضروری نہیں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شناخت صرف ایک کارڈ کے ٹکڑے کا نام ہے؟

شناخت کارڈ اور اصل شناخت شناختی کارڈ تو سب کے پاس ہےامیر بھی دکھاتا ہے، مفلس بھی لیکن کیا سب کو برابر حقوق بھی ملتے ہیں؟ کارڈ پر کہیں نہیں لکھا ہوتا کہ یہ شہری غریب ہے یا یہ سرمایہ دارکارڈ سب کے لیے ایک جیسا ہے، لیکن ملک کا نظام سب کو ایک جیسا نہیں دیکھتا۔

ہمارے ہاں اگر کوئی صاحبِ وسائل ہے تو اس کے دروازے ہر ادارے میں کھل جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی محروم ہے تو اس کی فائل سرکاری دفاتر میں اسی طرح دھکے کھاتی رہتی ہے جیسے وہ خود بس اڈوں پر دھکے کھاتا ہے۔ عدالتی نظام میں بھی یہی حال ہےاگرچہ قانون کہتا ہے سب برابر ہیں لیکن جب جج صاحب کی کرسی کے سامنے ایک دولت مند اور ایک غریب کھڑے ہوں تو برابری کہیں پچھلی صفوں میں جا چھپتی ہے۔

تعلیمی اداروں میں بھی یہی فرق نمایاں ہے۔ جن کے پاس دولت ہے وہ بڑے بڑے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ تعلقات اور مواقع بھی ملتے ہیں۔ لیکن ایک عام خاندان کا بچہ سرکاری اسکول کی کمزور بنیادوں پر مستقبل تعمیر کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اکثر یہ کوشش ناکام رہتی ہے۔

صحت کے معاملے میں بھی یہی حال ہے۔ اگر جیب بھری ہے تو بہترین اسپتال اور ڈاکٹر میسر ہیں، اور اگر جیب خالی ہے تو سرکاری ہسپتال کے در و دیوار اور خالی دوائیوں کی الماریاں ہی نصیب ہیں اصل مسئلہ کہاں ہے؟

یہ مسئلہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے نادرا اپنی جگہ کوشش کرتا ہے لیکن وہ بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ اوپر سے جب انصاف اور مساوات کی ہوائیں ہی نہیں چل رہیں تو نیچے بیٹھے ادارے کتنی بھی خوشبو دار عطر چھڑکیں، بدبو ختم نہیں ہوگی.

ہم عوام بھی شاید تھوڑے معصوم” ہیں ہمیں لگتا ہے کہ حکومت بدلنے سے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ کبھی فلاں پارٹی، کبھی ڈھمکاں پارٹی لیکن ستر چھہتر برس سے یہ کھیل چل رہا ہے اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
حل کیا ہے؟

میرے نزدیک اصل مسئلہ "نظام” ہے۔ اگر نظام سب کو برابر سمجھے تو پھر غریب اور سرمایہ دار کی تفریق باقی نہ رہے۔ ادارے بھی ایمانداری سے کام کریں اور انصاف کا معیار سب کے لیے یکساں ہو ورنہ شناختی کارڈ تو سب کو ملے گا لیکن حقیقی شناخت اور شہری حقوق بس کاغذ پر ہی رہ جائیں گے۔

آخر میں بس اتنا کہہ سکتا ہوں
میرے نزدیک یہی خیال ہے

آپ کے خیال میں یہ مسئلہ کہاں سے پیدا ہوتا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے