منفی اور مثبت

میں بنیادی طور پر ایک مثبت مزاج رکھنے والا شخص ہوں، خوامخوا تجسس میں پڑنے کی عادت نہیں، اپنی ذمہ داریوں کی فکر رہتی ہے دوسروں کے معاملات میں الجھنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو انجوائے کرنا، زندگی کے حسین اور باریک لمحوں کو محسوس کرنا، یہ سب میرے مزاج کا حصہ ہے۔ میں ان بے شمار خوشیوں کی تلاش اور ان کے فروغ کا حصہ بنتا ہوں جنہیں عمومی طور پر لوگ معمولی، غیر اہم یا طنز کے قابل سمجھتے ہیں۔

کسی اچھی سی تحریر یا کتاب پر نظر پڑ جائے تو دل باغ و بہار ہو جاتا ہے۔ اپنے صحن میں اُگے دو درختوں کو دیکھ کر مسکرا دینا، مزدوروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لینا یا ان کے ساتھ مل کر کام کرنا، اپنے کسی دوست کے پاس اچھی گاڑی ہو یا خوبصورت مکان بنایا ہو، یا فیس بک اور واٹس ایپ پر احباب کیساتھ دل لگی ، ایسے دسیوں چیزیں ہیں ، یہ سب لمحے میرے لیے انتہائی مسرت بخش اور شکر گزاری کے مواقع ہوتے ہیں۔ خوب محظوظ ہوتا، کچھ ہاتھ نہ آئے تو دوسری اور تیسری شادی کا ذکر کرکے بھی محفل سجانے کی کوشش کرتا۔

مگر المیہ یہ ہے کہ چاہے نجی محفل ہو یا احباب کے ساتھ نشست، تقریر کا موقع ہو یا تحریر کا میدان، ایک نہ ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے کہ موضوع خود بخود منفیت اور مایوسی کی طرف مڑ جاتا ہے۔ میں چاہ کر بھی اس کیفیت سے نکل نہیں پاتا، میں کیا ہر ایک کا یہی حال ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارا سماجی، حکومتی اور دینی ڈھانچہ اس حد تک کھوکھلا ہوچکا ہے کہ ہر روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر، واقعہ یا عمل سامنے آتا ہے جو منفی سوچ کو مزید ہوا دیتا ہے۔ میڈیا کے لیے بھی ایسی خبریں ہی "اہم” ہیں، یوں وہ بار بار ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور ذہنوں پر چھا جاتی ہیں۔

ذرا اسی مہینے کی دو تین مثالیں سامنے رکھ لیجیے۔

چلاس میں چند انتہائی بے ہودہ اور افسوسناک واقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں قتل و غارت گری کا ایک خوفناک سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس پر سماجی فضا ایسی مکدر ہوئی کہ بیان کرنا مشکل ہے۔ اس صورت حال پر جو کچھ لکھا گیا، جو باتیں ہوئیں، ان سب کا مرکز و محور یہی منفیت بن گئی۔ میں بھی "چلاسیت” پر لکھنے لگا، یوں "چلاسیت” کا تذکرہ ہر زبان پر تھا۔ ہر محفل، ہر نشست میں یہی موضوع زیر بحث رہا۔ ابھی ہم اس ذہنی دباؤ اور مایوسی سے پوری طرح نکل بھی نہ پائےتھے کہ ہمارے لیے ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آگیا کہ پروفیسر ہاؤس پر دھاوا بول دیا گیا۔ اس نے بھی ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی، مطالعہ تک کو شوق سلب ہوا۔ ہمارے احباب باتیں ہوں یا تحریریں، سب اسی موضوع کے گرد گھومنے لگیں، اور ہر مجلس میں یہی باتیں چھا گئیں۔ میں تو تنگ آگیا تھا یہ سب سن سن کر.

ابھی اس زخم پر مرہم بھی نہ رکھ پائے تھے کہ راجہ کاشان کے حادثے نے ہر دل کو لرزا دیا۔ ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ فیس بک ہو یا واٹس ایپ گروپس، نجی محفلیں ہوں یا عوامی مجالس، ہر جگہ اسی دکھ کی بات ہورہی ہے۔
ذرا سوچیے! ایسے حالات میں ایک شخص کس طرح مثبت رخ کی طرف سوچ سکتا ہے؟

مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ سیرتِ النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسے مقدس موضوعات پر بھی ہم آخر میں منفیت کی بات کرنے لگتے ہیں۔ ہم نبی کریم کی مبارک زندگی کے روشن پہلو بیان کرتے ہیں، مگر اختتام پر معاشرتی برائیوں کا تذکرہ کرکے سامعین کو یہی پیغام دیتے ہیں کہ "اب بس! ان منفی حالات سے نکل کر مثبت کی طرف آجاؤ۔” لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے الفاظ اور انداز بیان خود اس منفیت کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری ہر مختصر یا مفصل تحریر، ہر تقریر، ہر محفل، آخرکار منفیت ہی کے گرد گھوم رہی ہے۔ خوشی کی خبریں آتی ہیں مگر ان کی روشنی زیادہ دیر نہیں ٹکتی۔ معاشرتی اندھیرے اتنے گہرے ہیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی روشنیاں ان میں نگل لی جاتی ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے

جب سماج کے ڈھانچے کی بنیاد ہی ہل گئی ہو، جب حکومتی ادارے اعتماد کھو بیٹھے ہوں، جب دینی قوتیں خود ٹکڑوں میں بٹ چکی ہوں، تو فرد اپنی مثبت سوچ کو کہاں سے توانائی دے؟

ہم میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ زندگی کو خوشی، محبت، امن، ترقی اور روشنی کے رنگوں سے بھر دے، لیکن حالات کی سنگینی اور خبروں اور واقعات و حالات کی کثافتیں بار بار ہمیں اندھیروں میں دھکیل دیتی ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مثبت سوچ محض ذاتی مزاج کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ سماجی جدوجہد کا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ ہمیں اپنے اندر اتنی طاقت پیدا کرنی ہوگی کہ نہ صرف خود کو منفی خبروں کے بوجھ سے بچا سکیں بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی روشنی دینے کا ذریعہ بن سکیں۔ ورنہ یہ اندھیرا ہمارے لفظوں، سوچوں، تحریروں، تقریروں، باتوں، مکالموں اور خوابوں کو یوں ہی نگلتا رہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے