تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب کی سرزمین پر کسی پاکستانی وزیراعظم کا استقبال شاہی گھوڑوں اور شاندار پروٹوکول کے ساتھ ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف جب سعودی عرب پہنچے تو ریاض کی شاہراہیں رنگ و نور میں نہا گئیں۔ جیسے ہی وہ گاڑی سے اُترے، ولی عہد محمد بن سلمان نے آگے بڑھ کر انہیں نہ صرف گلے لگایا بلکہ بوسہ دے کر برادرانہ تعلقات کو ایک نئے انداز میں دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔ یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے یہ پیغام تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض رسمی نہیں بلکہ دلوں کی دھڑکنوں جیسے ہیں۔
استقبالیہ تقریب میں فیلڈ مارشل نے سعودی شہزادے کو سلیوٹ پیش کیا جو اس بات کی علامت تھی کہ عسکری قیادت بھی اس تعلق کو ایک نئے اسٹریٹجک رشتے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ شاہی گھوڑوں کے جلو میں یہ تاریخی لمحہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور محبت کی نئی فضا کا عکاس تھا بلکہ عالمی سطح پر یہ پیغام بھی دے گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا اتحاد خطے کی سیاست میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
یہ پہلا موقع تھا کہ سعودی عرب نے پاکستانی قیادت کو اس قدر پروٹوکول دیا۔ اس کا مقصد محض ظاہری شان و شوکت نہیں بلکہ عملی طور پر یہ باور کرانا تھا کہ پاکستان کی سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے سعودی عرب قدم بہ قدم ساتھ کھڑا ہے۔ توانائی کے منصوبے ہوں یا سرمایہ کاری کے مواقع، دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں ایک دوسرے کے ساتھ نئے دروازے کھولے ہیں۔
محمد بن سلمان کی شخصیت خود جدید سعودی عرب کی علامت بن چکی ہے۔ اُن کا یہ اندازِ میزبانی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ پاکستان کو خطے کا لازمی شراکت دار سمجھتے ہیں۔ شہباز شریف کے لیے بھی یہ ایک بڑا موقع ہے کہ وہ اس سفارتی گرمجوشی کو اقتصادی معاہدوں، روزگار کے مواقع، اور توانائی کے نئے منصوبوں میں ڈھال کر پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز کریں۔
یہ استقبال دراصل دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی محنت کش اس تعلق کی اصل بنیاد ہیں۔ اُن کی قربانیاں اور محنت دونوں ملکوں کے رشتے کو مضبوطی فراہم کرتی ہیں۔ آج جب پاکستان مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے، سعودی عرب کی یہ دوستانہ جھلک ایک سہارا اور امید کی نئی کرن ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شہباز شریف کے اس دورے اور تاریخی استقبال نے پاک–سعودی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ تعلقات محض الفاظ سے نکل کر عملی میدان میں اپنے رنگ دکھائیں گے۔