کل سے بار بار سوچ رہا ہوں کہ راجہ کاشان کے بارے میں کیا لکھوں، الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ہیں نہ ہی دماغ۔ ایس پی گلگت اسحاق صاحب کی زبانی، راجہ کاشان کے قتل کیس کے متعلق جو کچھ سنا وہ ناقابل بیان ہے۔ سلیم طبیعت اس کو ڈسکس بھی نہیں کر سکتی۔ "درندگی” کا لفظ بھی اس ظلم کے آگے بہت معمولی محسوس ہوتا ہے۔ کاش کوئی ایسا مضبوط عدالتی اور انتظامی سسٹم ہوتا کہ آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں دو سے تین دن کے اندر اس کیس کے سارے ناقابلِ تردید شواہد جمع کر کے مجرموں کو تختۂ دار پر لٹکا دیا جاتا۔
یہ کڑوا سچ ہے کہ راجہ کاشان کے والدین کو اس خطے کے دکھی اور سلیم فطرت لوگوں کی دعائیں اور ہمدردیاں تو مل سکتی ہیں، لیکن انصاف کی توقع کرنا عبث ہے۔ اس نظام میں اتنی جان ہی نہیں کہ وہ کمزوروں کو انصاف دے سکے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے مقدمے کو اللہ کی عدالت میں ڈال دیں اور ربِ کائنات کے فیصلے کے منتظر رہیں، کیونکہ وہی عدل کرنے والا حقیقی حاکم ہے۔
یا اللہ! راجہ کاشان کے ساتھ بربریت کرنے والوں کو فوری اور عبرتناک انجام تک پہنچا۔
لفظ کاشان فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں "آبادی، خوشحالی، اور تعمیر کرنے والا”۔ ایران کے صوبہ اصفہان میں ایک قدیم شہر بھی "کاشان” کہلاتا ہے، جو اپنی تہذیب، دستکاری اور خوبصورتی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ بھی کہیں پڑھا ہے کہ کاشان میں کمال کی قالین بنائی جاتی ہیں، شاید ہمارے ہاں جو ایرانی قالین مشہور ہیں وہ کاشان میں بنتی ہوں، بہرحال جب والدین کسی بچے کا نام کاشان رکھتے ہیں تو والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ اس شہر کی طرح خوبصورت،معزز، باوقار،حسین و جمیل ، اور لوگوں کے لیے سکون اور خوشی کا باعث بننے والا ہو۔
ہم سب جانتے ہیں کہ بچوں کے نام صرف پہچان کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ والدین کی امیدیں، خواب اور دعائیں جڑی ہوتی ہیں۔ کسی کا بیٹا اس کے بڑھاپے کا سہارا، گھر کی رونق، اور خاندان کا وارث ہوتا ہے۔ اس لیے والدین اپنے بچے کے لیے سب سے بہتر نام کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ اس کی شخصیت میں بھی وہ خوبصورتی اور عظمت جھلکے جو نام کے معنی میں پوشیدہ ہو، کاشان کی بھی ایسی ہی بات تھی۔
راجہ کاشان بھی یقیناً اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا، ان کے خوابوں کی تعبیر، اور ان کے بڑھاپے کا سہارا تھا، بہنوں کا راج دلارا اور بھائیوں کا سہارا۔ لیکن افسوس کہ درندگی نے اس ننھی کلی کو مسل دیا اور ان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ چھین لیا۔ یہ صدمہ والدین کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، اور ایسے وقت میں دل سے بس یہی دعا نکلتی ہے
یا اللہ! راجہ کاشان کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرما، اور ان کے بیٹے کے قاتلوں کو جلد اپنے عبرتناک انجام تک پہنچا بلکہ ہم سب کے آنکھوں کے سامنے وہ نشان عبرت بنیں تاکہ ہمارا بھی دل ٹھنڈا ہو۔
احباب کیا کہتے ہیں؟