گرین پاسپورٹ کی بحالی—پاکستان کی نئی عالمی پہچان

رواں برس پاکستان کے لیے عالمی سطح پر کئی مثبت پہلو نمایاں ہوئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور نئے جغرافیائی تقاضوں سے دوچار ہے، پاکستان نے اپنی سفارت کاری میں وہ توازن اور وقار حاصل کیا ہے جس کی ایک عرصہ سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف اور پاک فوج کے سپہ سالار کی مشترکہ کاوشوں نے عالمی دنیا میں پاکستان کو وہ عزت دلائی ہے جس کا خواب برسوں سے دیکھا جا رہا تھا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ ماضی میں بعض اوقات ہماری پالیسی یا تو یک طرفہ رجحان کا شکار رہی یا پھر وقتی فائدوں کے گرد گھومتی رہی، لیکن اب ایک مربوط حکمتِ عملی کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور باوقار ملک ہے جو خطے اور دنیا کے امن کے لیے کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ سعودی عرب، چین، ترکی، امریکہ اور یورپ سمیت مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات میں جو بہتری آئی ہے وہ اسی متوازن رویے کا ثبوت ہے۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان نے اپنی خودمختار خارجہ پالیسی کی نئی بنیاد رکھی ہے۔ عالمی پلیٹ فارمز پر پاکستانی قیادت کی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری قربانیوں، مسائل اور اہداف کو اب سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے۔

خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی ملاقاتیں اور سپہ سالار کے عالمی دورے پاکستان کے وقار میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ مستقبل میں "گرین پاسپورٹ” کی بہتری کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ آج اگر دنیا پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد کو محدود سہولتیں دیتی ہے تو آنے والے وقت میں یہ تصویر بدلنے کی امید بڑھ گئی ہے۔ ایک مضبوط خارجہ پالیسی، معاشی اصلاحات اور داخلی استحکام ہی وہ عوامل ہیں جو پاسپورٹ کی ساکھ کو بہتر بناتے ہیں۔ رواں برس کی پیش رفت اسی سمت ایک مثبت اشارہ ہے۔

قوموں کی عزت اور پاسپورٹ کی وقعت محض بیانات سے نہیں بڑھتی بلکہ عملی اقدامات سے بڑھتی ہے۔ اگر حکومت اسی تسلسل کو برقرار رکھے، معاشی ڈھانچے کو مستحکم کرے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے تو یقیناً آنے والے برسوں میں دنیا کے لیے پاکستان ایک باوقار اور معتبر شراکت دار ہوگا۔

یہ وقت پاکستان کے لیے نئی سفارتی تاریخ رقم کرنے کا ہے۔ قوم کو چاہیے کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اس قومی کامیابی کو تسلیم کرے اور اسے مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ آنے والا وقت اس بات کا گواہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کا گرین پاسپورٹ عزت اور وقار کی علامت بن جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے