خوشخبری! تیار ہو جائیے ایک ایسے لمحے کے لیے، جو دلوں میں چراغ جلائے گا، آنکھوں کو خواب دکھائے گا، اور روح کو وہ لمس عطا کرے گا جو مدتوں یاد رہے گا۔
اسلام آباد کی فضا عنقریب اس خالص جذباتی، فکری، ادبی اور ثقافتی شان دار شام کی گواہ بننے جا رہی ہے، جو نوے ژوند یعنی ” نئی زندگی” ادبی، ثقافتی و فلاحی تنظیم کی جانب سے منعقد کی جا رہی ہے۔ امن ایوارڈ کی یہ تقریب صرف تقاریر، تالیوں یا رسمی اعزازات کی بات نہیں یہاں احساس بولے گا، فن مہکے گا، اور انسانیت کی اصل خوشبو فضاؤں میں بکھرے گی۔ یہ ایک ایسی محفل ہوگی جہاں لفظوں کی خوشبو دلوں تک پہنچے گی، اور ہر نظر میں ایک نیا خواب چمکے گا۔
جذبوں سے بھرپور اس تقریب کی وقعت میں مزید اضافہ اس وقت ہوگا جب تمام مہمانانِ خصوصی اپنے وقار اور دانش کے ساتھ اس میں شرکت کریں گے۔ ان سب کی موجودگی ایک پختہ پیغام بنے گی کہ علم، ادب، انسانیت اور سماجی ہم آہنگی کو بلند مقام دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اس شام، ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے شعرا، ادبا، فنکار، مصور، صحافی اور سماجی کارکنان کی خدمات کو اجاگر کیا جائے گا، اور انہیں امن ایوارڈز سے نواز کر ان کی روشنی کو مزید وسعت دی جائے گی۔ یہ ایوارڈز محض اعزازات نہیں ہوں گے، بلکہ وہ آئینے ہوں گے جن میں معاشرے کا سنوارا ہوا چہرہ نظر آئے گا۔
اسی شام کی رعنائی میں پشتون ثقافت کی جھلک ایک نئی زندگی بخشے گی۔ 23 ستمبر کو منایا جانے والا پشتون ثقافت ڈے، اس تقریب کا ایک رنگین، پُر وقار اور دل کو چھو لینے والا منظر پیش کرے گا۔ اسلام آباد کی اعلیٰ جامعات سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں پشتون تہذیب، روایات، لباس، موسیقی اور فن کو ایسی چمک عطا کریں گے جو ایک نسل کی شناخت بن جائے گی۔ اتن کی تال، روایتی نغموں کی گونج، اور ریمپ واک لباس کی دلکشی و خوبصورتی ایسی فضا تشکیل دے گی جو ہر دیکھنے والے کو اس تہذیب کی خوبصورتی سے متاثر کیے بغیر نہ رہنے دے گی۔ یہ لمحہ فخر کا ہوگا، وقار کا، اور تہذیبی جڑوں سے وابستگی کا۔
محفل کی شان اس وقت اور بڑھ جائے گی جب پختون قوم کے عظیم انقلابی شاعر، مفکر اور رہنما اجمل خان خٹک کی صد سالہ ولادت کا جشن، کیک کاٹا جائے گا اور عقیدت کے پھولوں سے سجایا جائے گا۔ ان کی فکری میراث، انقلابی شاعری، اور مزاحمتی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنا، دراصل ان اقدار کی قدر دانی ہے جو ایک باشعور، بیدار اور زندہ معاشرے کی پہچان ہیں۔ اجمل خان خٹک ان ناموں میں شامل ہیں جنہوں نے قلم کو تلوار نہیں، چراغ بنایا۔ ان کے الفاظ نے کئی نسلوں کو بیدار کیا، اور ظلم و استبداد کے خلاف ایک مسلسل بیداری کی لہر بن کر ابھرے۔ ان کی صد سالہ سالگرہ، صرف ان کی یاد کا جشن نہیں، ایک فکری انقلاب کی تجدید ہوگی۔
پھر منظر تبدیل ہوگا، لیکن روشنی کی شدت کم نہیں ہوگی، کیونکہ معروف شاعر و صحافی روخان یوسفزئی کی کتاب "روشنی کا گھر” کی تعارفی نشست اس تقریب کا دل بن جائے گی۔ روخان یوسفزئی، جنہوں نے روشنی کو اپنے نام، اپنے فکر، اور اپنے فن کا محور بنایا، آج وہ ادبی دنیا کے لیے ایک جلتا ہوا چراغ ہیں۔ ان کا نیا شعری مجموعہ، صرف اشعار کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ درد، فکر، اور امید سے بنا ایک فکری باغ ہے۔ ان کی تحریروں میں جس انداز سے مظلوم کی آواز، بیداری کی صدا، اور محبت کا نغمہ بکھرا ہوا ہے، وہ پڑھنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ان کے الفاظ میں احساس کا ایسا سفر ہے جو دل سے ہوتا ہوا ذہن تک رسائی حاصل کرتا ہے۔
تقریب کے ایک گوشے میں، ایک ننھے سپاہی کی زندگی کو سراہا جائے گا زریاب خان، جو بلڈ کینسر سے جنگ لڑ رہا ہے، اس شام کا سب سے مظلوم مگر باوقار چہرہ ہوگا۔ اس معصوم کی زندگی پر بنائی گئی ڈاکیومنٹری دلوں کو جھنجھوڑ دے گی، اور جذبات کے دروازے کھول دے گی۔ زریاب کے لیے اکٹھے کیے جانے والے فنڈز، صرف مالی امداد نہیں ہوں گے، بلکہ یہ تو اس کے لیے دعاؤں، امیدوں اور روشن کل کی نوید بنیں گے۔ اس گوشے کی ہر لمحہ ایک فریاد ہوگی، جو نہ صرف ہمدردی جگائے گی، بلکہ انسانیت کے سچے جذبے کو بیدار کرے گی۔
مزید برآں، اس شاندار شام میں انعامات اور اعزازات کے ذریعے جس انداز سے افراد کی خدمات کو سراہا جائے گا، وہ معاشرتی نفسیات پر گہرا اثر چھوڑے گا۔ کسی کی محنت کو جب پہچان ملتی ہے، تو وہ نہ صرف اس کے لیے ایک نئی توانائی بن جاتی ہے، بلکہ دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بھی بنتی ہے۔ ایوارڈز، سرٹیفیکیٹس، اور اعزازی کلمات اس تقریب کا ایسا حصہ ہوں گے جو معاشرے میں عزت، جذبہ اور لگن کو فروغ دینے کا ذریعہ بنیں گے۔ جب ایک فنکار، شاعر، استاد یا سماجی کارکن کو اس کے کام کا اعتراف ملتا ہے، تو صرف وہی فرد نہیں جگتا، پوری قوم جاگنے لگتی ہے۔
یہ شام ایک ثقافتی اور فکری کارنیوال بن جائے گی، جہاں ہر زاویے سے روشنی چھنکے گی، اور ہر رنگ ایک پیغام لے کر آئے گا۔ ادب، موسیقی، رقص، خیالات، جذبے، نغمے، سچائیاں سب ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر ایک مکمل تصویر بنائیں گے۔ یہ تصویر ہماری تہذیب کی ہوگی، ہماری شناخت کی، اور اس امید کی کہ ہم اپنی اصل سے جڑے ہوئے ہیں۔ نوے ژوند تنظیم کی یہ کوشش ایک مثال بنے گی، جو آنے والے وقت میں ایسی ہی تقریبات کی بنیاد رکھے گی، جن میں صرف تقریر نہ ہو، بلکہ دلوں کی دھڑکنیں شامل ہوں۔
آخرکار، جب تمام رنگ بکھر جائیں گے، سب روشنیاں جھلملانے لگیں گی، اور زریاب جیسے بچوں کے لیے امید کے چراغ جلائے جائیں گے، تو یہ یادگار لمحہ ہمیشہ کے لیے دلوں میں نقش ہو جائے گا۔ یہ کوئی عام دن نہیں ہوگا، بلکہ ایسا موقع ہوگا جو روح کی گہرائیوں میں اتر جائے گا۔ وہاں ہونا صرف شرکت نہیں، ایک عہد ہوگا انسانیت، تہذیب، امن، اور روشنی کے ساتھ جینے کا عہد۔
آئیے، اپنے دلوں کو چراغ بنائیں، علم کو قافلہ بنائیں، اور محبت کو دنیا کی سب سے طاقتور زبان بنا کر اس شام کو امر کر دیں۔
مقام: پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس
تاریخ: 23 ستمبر 2025
وقت: شام 3 بجے
آئیے، اپنی موجودگی سے اس جشن کو مکمل کریں، اور ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھنے والے سفر کا حصہ بنیں۔ یہ روشنی آپ کی منتظر ہے۔