قطر پر اسرائیلی حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی و دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔اسرائیل کی پالیسی ہمیشہ سے خوف اور طاقت کے ذریعے خطے پر اپنا دباؤ قائم رکھنے پر مبنی رہی ہے۔
فلسطین کے بعد لبنان، شام اور اب قطر پر جارحیت دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ اسرائیل اب مسلم دنیا کی کمزوریوں کو بھانپ چکا ہے اور وہ جانتا ہے کہ امتِ مسلمہ میں وہ اتحاد باقی نہیں رہا جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا:
"ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر”
قطر گزشتہ دو دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم کردار کے طور پر ابھرا ہے۔ الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک ہو یا حماس و فلسطینی کاز کے لیے اس کی کھلی حمایت، قطر نے ہمیشہ ایک الگ اور جرات مندانہ موقف اپنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکہ کے لیے قطر ایک مشکل ملک بن گیا تھا۔ اب جب خطے میں تیل و گیس کے نئے معاہدے اور توانائی کی عالمی منڈی پر قبضے کی دوڑ جاری ہے تو اسرائیل چاہتا ہے کہ قطر کو بھی خاموش کرا دیا جائے۔
ایسے نازک وقت میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور اس کی تربیت یافتہ فوج مسلم دنیا کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب اسلامی دنیا کا مرکز ہے جہاں حرمین شریفین موجود ہیں۔ اگر یہ دونوں ممالک مشترکہ حکمتِ عملی بناتے ہیں تو یہ نہ صرف قطر بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک مضبوط پیغام ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان نے ماضی میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ چاہے 1991 کی خلیج جنگ ہو یا بعد کے بحران، پاکستان کی افواج نے اپنی خدمات فراہم کیں۔ آج اگر اسرائیل کا دائرہ کار قطر تک پہنچ چکا ہے تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اگلا ہدف کوئی اور خلیجی ملک بھی ہو سکتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مسلم ممالک میں سیاسی تقسیم، مفادات کی سیاست اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر اختلافات نے ہمیں کمزور کر دیا ہے۔ عرب لیگ ہو یا او آئی سی، یہ ادارے آج تک محض بیانات دینے تک محدود ہیں۔ فلسطین کے ستر سالہ مسئلے سے لے کر شام، یمن اور افغانستان تک، کہیں بھی مسلم دنیا مشترکہ حکمتِ عملی اختیار نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی ایک ایک کر کے مسلم ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
قطر پر حملہ ایک وارننگ ہے۔ اب وقت ہے کہ مسلم دنیا خوابِ غفلت سے جاگے اور پاکستان اور سعودی عرب اس اتحاد کی قیادت کریں۔ اگر مسلم ممالک اپنی افواج، وسائل اور سفارتی طاقت کو یکجا کر لیں تو اسرائیل سمیت کوئی بھی طاقت مسلم دنیا کو کمزور نہیں کر سکتی۔ مگر اگر یہ تقسیم برقرار رہی تو ہمیں آنے والے برسوں میں مزید تباہی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اخباری نتیجہ یہی ہے کہ قطر پر حملہ محض ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت کا امتحان ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب اگر آگے بڑھ کر عملی کردار ادا کریں تو مسلم دنیا سرخرو ہوگی، لیکن اگر ہم نے صرف بیانات پر اکتفا کیا تو تاریخ ہمیں کمزور، بے بس اور منتشر قوم کے طور پر یاد رکھے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ امتِ مسلمہ اقبال کے خواب کو حقیقت بنائے، ورنہ دشمن ایک ایک کر کے ہمارے سب قلعے گراتا چلا جائے گا۔