9 ستمبر 2025 کا دن مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کے لیے ایک غیرمعمولی اور ہنگامہ خیز دن ثابت ہوا۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل کی جانب سے کیا گیا فضائی و ڈرون حملہ نہ صرف خطے کی حساس جغرافیائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا گیا بلکہ عالمی سطح پر امن و ثالثی کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچا گیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب قطر، امریکا اور دیگر طاقتیں حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک نئے جنگ بندی معاہدے اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے ثالثی کر رہی تھیں۔ اس واقعے نے بین الاقوامی قوانین، سفارتی اصولوں اور علاقائی خودمختاری کے تصورات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اسرائیل کے اس اقدام نے جہاں براہِ راست حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا، وہیں قطر جیسے غیر جانبدار ثالثی ملک کو بھی عالمی تنازع کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ عالمی برادری کی طرف سے اس حملے کی مذمت کی گئی اور اسے بین الاقوامی امن کے خلاف ایک سنگین قدم قرار دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ، یورپی ممالک، اور خطے کے عرب ممالک نے اس اقدام کو ناقابل قبول اور قطر کی خودمختاری پر حملہ کہا۔ یہ صورتحال نہ صرف فلسطین-اسرائیل تنازع کو مزید طول دینے کا خطرہ ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن، سفارتی تعلقات، اور عالمی امن پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کی رہائشگاہوں کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، قطر کا دارالحکومت دوحہ 9 ستمبر کو دھماکوں سے گونج اٹھا جبکہ آسمان پر دھویں کے بادل چھا گئے ،حملے کے وقت حماس کےچیف مذاکرات کار خلیل الحیا، خالد مشعل اور دیگر مرکزی رہنما امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز پر غور کیلئے ملاقات کررہے تھے ،حماس کا کہنا ہے کہ حملے میں خلیل الحیا کا بیٹا، 3محافظ اور ایک معاون سمیت6 افراد شہید ہوگئے جبکہ مرکزی رہنما محفوظ رہے ہیں اور دشمن اپنے عزائم میں ناکام رہا، یاد رہے یہ حملہ نماز عصر کے وقت کیا گیا، اس وقت حماس کے رہنما نماز ادا کرنے کے لیے مسجد تشریف لے گئے تھے، ان کے موبائل آفس میں ہی تھے، اسرائیلی انٹیلیجنس موبائل سگنلز کو نشانہ رکھتے ہوئے حملہ کر رہی تھے لیکن حماس کی قیادت معجزانہ طور پر بچ گئی۔ اس حملے میں قطر کا ایک سکیورٹی آفسیر شہید اور متعدد سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں ،اسرائیل نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے امن مذاکرات میں شریک حماس کے مرکزی رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے ،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ حملہ یروشلم پر حملے کا جواب تھا، مزید اسرائیل نے یہ بھی کہا کہ اس حملے کی مکمل ذمے داری ہم قبول کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف قطر اور اسرائیل کے اتحادی امریکا نے کہا ہے کہ انہوں نے حملے سے قبل دوحا کو آگاہ کردیا تھا تاہم قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس وقت انہیں آگاہ کیا گیا اس وقت حملہ شروع ہوچکا تھا،وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ ٹرمپ اپنے اتحادی کی سرزمین پر حملے سے متفق نہیں تھے،قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور قطری شہریوں اور قطر میں مقیم افراد کی سلامتی و تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے قومی سلامتی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کرکے سفارتکاری کی توہین کی ہے اور اسرائیل حماس رہنماؤں پر حملہ کر کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ قطرکا ثالثی کا کردار عالمی سطح پر سراہاگیا، انہوں نے ساتھ ہی واضح کردیا کہ وہ خونریزی روکنے کے لیے اپنے انسانی اور سفارتی کردار کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جاری رکھیں گے۔ سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین نے حملے کی شدید مذمت کی، اس کے علاوہ عالمی برادری نے حملے پرشدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مجرمانہ اقدام قرار دیا ہے، سعودی عرب ،ترکیہ ، چین، جرمنی، برطانیہ، فرانس، پاکستان، ایران ، متحدہ عرب امارات ،مصر،کویت، اردن ، عراق، مراکش، شام، یمن، الجزائر، لبنان، عمان،فلسطینی اتھارٹی، اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس،خلیج تعاون کونسل، اسلامک جہاد و دیگر ممالک اور تنظیموں نےحملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قطرکیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قطری امیر کو پہلے فون کرکے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، اور بنفس نفیس قطر کا ہنگامی دورہ کیا، قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان چٹان کی طرح قطری عوام کےساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے کہا ”کہ پاکستان کی قیادت اور عوام کو برادر ملک قطر کے خلاف حملے پر سخت تشویش ہے، پاکستان مشکل وقت میں امیر قطر، شاہی خاندان اور قطری عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔” پاکستان نے سلامتی کونسل، عرب و اسلامی سربراہی اجلاس اور دیگر تمام سفارتی فورمز پر قطر کے ساتھ ایک برادر ملک کی حیثیت سے یکجہتی اور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔ جبکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا ہے کہ اس جنگ کو خطے میں مزید پھیلنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے۔ "وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری، کیرولین لیویٹ نے ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا، "صدر ٹرمپ نے فوری طور پر خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو آنے والے حملے کے بارے میں قطریوں کو مطلع کرنے کی ہدایت کی، جو انہوں نے کیا۔”انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے ٹرمپ انتظامیہ میں دیگر افراد کو اسرائیل کے آنے والے حملے سے آگاہ کیا تھا، لیکن انہوں نے بار بار یہ واضح کرنے سے انکار کیا کہ آیا فوج کو اسرائیل کی جانب سے پہلے آگاہ کیا گیا تھا۔اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل امریکا کو اعتماد میں لیا تھا جبکہ واشنگٹن نے حملے میں مدد بھی فراہم کی۔ حماس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ اُس وقت ہوا جب حماس کے مذاکرات کار امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین جنگ بندی کی تجویز پر غور کرنے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں ۔
قطر پر اسرائیل کا حملہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی سفارتی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی قانون (International Law)، خصوصاً اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت ناقابلِ قبول ہے، جبکہ ایسے ممالک یا مقامات کو تو بالکل بھی نشانہ نہیں بنایا جاتا جو امن قائم کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہوں۔ قطر کی مثال قریب ماضی میں بھی ہمارے سامنے ہے، جہاں افغانستان کی دو دہائیوں پر محیط جنگ کے دوران طالبان کی قیادت نے امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا۔ دوحہ نے اس دوران ایک غیر جانبدار، متوازن اور سہولت کار ملک کے طور پر کردار ادا کیا اور اسی وجہ سے اسے خطے میں امن کی کوششوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اسرائیل نے قطر جیسے نیوٹرل اور ثالثی ملک کو نشانہ بنا کر نہ صرف عالمی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا بلکہ ان اصولوں کو بھی توڑ دیا جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران بھی تسلیم کیے گئے تھے، جب جنیوا اور اسپین جیسے ممالک کو جنگی فریقین نے محفوظ رکھا اور انہیں نشانہ نہیں بنایا۔
عالمی مبصرین بھی اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ایسے اقدامات ایک نئے عالمی منظرنامے (New World Order) کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں، جس میں طاقتور ریاستیں بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے وضع کردہ ضابطوں کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ اگر ہر ملک اس روش پر چلنے لگے تو پھر کوئی بھی امن مرکز یا ثالثی پلیٹ فارم محفوظ نہیں رہے گا۔ اسرائیل نے ماضی میں بھی عرب خطے میں اور حالیہ غزہ جنگ میں ایسے اقدامات کیے ہیں جنہیں عالمی سطح پر جنگی جرائم کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور عالمی عدالت نے کئی ایسے کیسز پر سزائیں بھی سنا رکھی ہیں، قطر پر حملہ بھی ایک ایسا ہی ناقابلِ معافی جرم ہے جو نہ صرف عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی ساکھ پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر عالمی ادارے اور بڑی طاقتیں اس پر خاموش رہیں تو یہ اصول طے ہو جائے گا کہ کسی بھی ملک کو، چاہے وہ ثالث ہو یا نیوٹرل، بلا جواز نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اس پر کوئی جواب دہی نہیں ہوگی۔