پاکستان اور سعودی عرب: دفاعی تعاون کی مضبوط داستان

آج جب ہم پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بات کرتے ہیں تو یہ محض دو ممالک کے درمیان سفارتی رشتے کا قصہ نہیں، بلکہ یہ دل سے دِل کا ایک رشتہ ہے۔ یہ ایسی کہانی ہے جس میں عقیدے کی پاکیزگی، تاریخ کے مقدس اورثے، اور باہمی مفادات کی گہرائی سب شامل ہیں۔جب بھی ان دونوں اسلامی ملکوں کے تعلقات پر غور کرتا ہوں تو مجھے اپنے بزرگوں کی وہ بات یاد آتی ہے جو وہ اکثر کہا کرتے تھے: "سعودی عرب اور پاکستان کا رشتہ خون کے رشتے سے کم نہیں۔” یہ بات اس وقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے جب ہم دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

قیام پاکستان کے فوری بعد ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد پڑ گئی تھی۔ 1951ء میں ہونے والا "معاہدہ دوستی” درحقیقت ایک ایسا پھول تھا جو آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف سیاسی بلکہ فوجی اور معاشی تعاون کی راہیں ہموار کیں۔یہ معاہدہ اس وقت کے حکمرانوں کی دوراندیشی کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ دونوں اسلامی ملک مل کر نہ صرف ایک دوسرے کے لیے مضبوط سہارا بن سکتے ہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے طاقت کا مظہر بھی بن سکتے ہیں۔

1967ء میں ایک اور اہم موڑ آیا جب پاکستانی فوجی افسران اور پائلٹس نے پہلی بار سرزمین سعودی عرب پر قدم رکھا۔ ان پاکستانی جوانوں کے دل میں کیا جذبات ہوں گے جو اسلامی مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے اپنے وطن سے دور جا رہے تھے۔ یقیناً ان کے دل میں ملک سے محبت کے ساتھ ساتھ اسلامی اخوت کا جذبہ بھی موجزن تھا۔1982ء میں ہونے والا معاہدہ تو درحقیقت ایک انقلاب تھا۔ اس معاہدے کے تحت تقریباً 15,000 پاکستانی فوجی دستوں کو سعودی عرب میں تعینات کیا گیا۔ میں اکثر ان پاکستانی جوانوں کے جذبات کے بارے میں سوچتا ہوں جو مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں کی حفاظت کے لیے تعینات ہوئے۔اس وقت خطے میں ایران میں انقلاب، افغانستان میں روسی مداخلت اور ایران-عراق جنگ جیسے واقعات ہو رہے تھے۔ ایسے مشکل وقت میں سعودی عرب نے پاکستان پر اعتماد کیا اور پاکستان نے اس اعتماد کو پورا کیا۔

ان تعلقات کا دائرہ صرف فوجی تعاون تک محدود نہیں رہا۔ پاکستانی فوجی اہلکار نہ صرف سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ وہ سعودی فوجیوں کی تربیت کا بھی فریضہ انجام دیتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ہونے والی مشترکہ مشقیں نہ صرف فوجی مہارت کا تبادلہ ہیں بلکہ یہ دونوں قوموں کے درمیان محبت کے پُل بھی ہیں۔سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 2014ء میں جب پاکستان معاشی مشکلات سے گزر رہا تھا، سعودی عرب نے 1.5 ارب ڈالر کے قرضے سے ہمارا ساتھ دیا۔ یہ کوئی قرضہ نہیں تھا، بلکہ یہ بھائی کا بھائی کے لیے ہاتھ بڑھانا تھا۔2019ء میں گوادر میں تیل پلانٹ اور پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کے معاہدے نے تو دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ یہ 10 ارب ڈالر کا منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی ایک نئی مثال بھی ہے۔

2025ء میں ہونے والا اسٹریٹجیک باہمی دفاعی معاہدہ درحقیقت ہمارے تعلقات کی سب سے خوبصورت تصویر ہے۔ اس معاہدے کے تحت اب اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوگا تو اسے دونوں ملکوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ یہ معاہدہ صرف کاغذوں پر لکھی گئی چند شقوں کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ تو وہ عہد ہے جو دونوں قوموں کے دل نے ایک دوسرے سے کیا ہے۔ یہ وہ وعدہ ہے جو دو بھائیوں نے ایک دوسرے کی حفاظت کے لیے کیا ہے۔
آج جب پوری دنیا دہشت گردی کی جنگ لڑ رہی ہے، پاکستان اور سعودی عرب مل کر اس جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلامی ملٹری کاؤنٹر terrorism Coalition میں پاکستان کی شرکت درحقیقت ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات درحقیقت ایک مثالی شراکت داری ہیں۔ یہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے فخر کی بات ہیں۔میں اپنی اس تحریر کا اختتام ایک دعا کے ساتھ کرنا چاہوں گا: اے اللہ! ہمارے دونوں ملکوں کی حفاظت فرما۔ ہمارے تعلقات کو مزید مضبوط فرما۔ اور ہمیں امن و سلامتی کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔آمین۔یہ تعلقات آنے والی نسلوں کے لیے امن و سلامتی کی ضمانت ہیں۔ یہ وہ روشن چراغ ہیں جو آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتے رہیں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی یہ دفاعی شراکت داری درحقیقت اسلامی دنیا میں اتحاد و یکجہتی کی وہ کہانی ہے جسے آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے