پاکستان اور سعودی عرب تعلقات بلندی اور عروج کی نئی راہوں پر ہیں۔ اس دائمی اور ابدی تعلق کو حالیہ دفاعی معاہدے نے ہمیشہ کے لیے دوام بخش دیا۔
قرضوں کے بوجھ تلے ڈوبے،اندرونی اور بیرونی سازشوں اور دہشت گردی سے دوچار اور بہت سارے چیلنجز سے نبرد آزما ملک کے وزیراعظم کا سعودی عرب کی فضاؤں میں جو استقبال ہوا وہ صرف رسمی استقبال نہیں تھا بلکہ محبت، اخوت اور رواداری کا ایک بےمثال مظاہرہ تھا۔ اور باہمی تعلقات کی نئی بلندیوں اور عروج کا اعلان تھا۔ سعودی عرب کی دور اندیش قیادت اس وقت جہاں دیدہ، تجربہ کار، دور بین نظر رکھنے والے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ہاتھوں میں ہے وہاں انھیں نوجوان، مدبر، جدید اور قدیم علوم پر دسترس رکھنے والے رہنماء امیر سلمان بن عبدالعزیز کی بھرپور اور عملی معاونت حاصل ہے۔ امیر محمد بن سلمان بن عبدالعزیز جب سے ولی عہد بنے ہیں انھوں نے سعودی عرب کو نئی جہتوں سے متعارف کرایا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے ان کے لیے ترجیح رہا۔ اور اسی وجہ سے انھوں نے پاکستان کی قیادت کو عزت اور احترام دیا۔
اور اس کا عروج اس دفعہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے دورے کے دوران دیکھنے کو ملا۔
یہ معاہدہ راتوں رات نہیں ہوا، بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخ ہے۔ اور یہ تاریخ قلم سے نہیں عمل سے رقم ہو۔ اور اس کی ایک جہت یہ ہے کہ افواج پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معرکہ بنیان مرصوص میں جس لازوال دلیری اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنے سے دس گنے زیادہ طاقت رکھنے والے دشمن کو شکست فاش سے دوچار کر کے پاکستانی قوم کو عزت و احترام کی نئی منزلوں سے روشناس کرایا۔
اور اور دنیا کو باور کرا دیا کہ ہم مفلوک الحال ضرور ہیں لیکن اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔
اس معاہدے کی ایک شق ہی تمام باتوں پر بھاری ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہو گا۔ اور دفاع مل کر ہوگا۔اب کسی ناگہانی کیفیت میں دونوں ملک ایک ساتھ ہوں گے اور انھیں یہ ساتھ دینے کے لیے کسی اجازت یا پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بہت اہم ترین پیش رفت ہے اور اس کے دور رس اثرات اور نتائج برآمد ہوں گے۔ سابق وزیر پنجاب ابراہیم حسن مراد کے مطابق اس معاہدے سے دونوں ملک پہلے سے زیادہ مستحکم ہوں گے۔ بھارت جس کے سعودی عرب سے بہت زیادہ معاشی مفادات وابستہ ہیں اس کو بھی بہت کچھ سوچنا ہو گا۔
اسرائیل جو کے کھلے سانڈ کی طرح پھر رہا ہے اس کو بھی اب بہت کچھ دیکھنا اور سوچنا ہو گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کا ساتھ بہت پرانا اور تب سے ہے جب نوزائیدہ مملکت سعودی عرب وجود میں آئی تھی۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ جب سعودی عرب کی بنیاد رکھی گئ تو برصغیر کے علمائے کرام کا ایک بتیس رکنی فد مولانا ثناءاللہ امرتسری کی قیادت میں نقدی اور عطیات لے کر سعودی عرب گیا۔
سعودی عرب وہ ملک ہے جس نے ہر کڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔اور بے لوث ساتھ دیا۔2004ء کے زلزلہ میں سعودی عرب نے امریکہ سے زیادہ پاکستان کے عوام کی مدد کی۔امداد کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بڑی تعداد میں گھر بنا کے دیے۔
پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے رسمی تعلقات 1951ء میں شروع ہوئے۔شاہ فیصل کے زمانے میں ان تعلقات کو عروج ملا۔مسئلہ کشمیر پاکستان کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔اور اس پر پاکستان کے موقف کا جنہوں نے سب سے زیادہ ساتھ دیا۔ان میں سے ایک سعودی عرب ہے۔ستمبر 1965 کی جنگ میں یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستان کی ہر لحاظ سے مدد کی۔اور کھل کر ساتھ دیا۔
اپریل 1966 ء میں شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔اور اسلام آباد میں ایک تاریخی مسجد بنانے اور اس کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا۔دنیا آج اس مسجد کو شاہ فیصل مسجد کے نام سے جانتی ہے۔پاکستان نے اس محبت کے جواب میں لائل پور کا نام تبدیل کر کے فیصل آباد رکھا۔
موجودہ دفاعی معاہدہ در اصل اس معاہدے کا تسلسل ہے جو 1967ء میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہوا۔جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔
سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان لانے کے لیے بھی بہت اہم کوششیں ہوئی ہیں۔پاکستان میں سعودی عرب کے موجودہ سفیر جناب نواف بن سعید المالکی نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔ریاض میں انھوں نے سعودی سرمایہ کاروں کو اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے۔اور یہاں پر سرمایہ کاری لے وسیع مواقع موجود ہیں۔چنانچہ ان کوششوں کے نتیجہ میں سمو الامیر محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے ایک بھاری بھرکم وفد کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا۔اور بہت سارے تاریخی معاہدوں پر دستخط کیے۔
پاکستان کے عوام سعودی عرب کے ساتھ بے پناہ لگاءو اور محبت رکھتے ہیں۔2014 ء میں جب یمن کا تنازعہ شروع ہوا۔اور حوثی باغیوں نے ارض حرمین پر میزائل برسانے شروع کیے ،تب پوری پاکستانی قوم سعودی عرب کی حمایت میں کھڑی ہو گئی۔اسلام آباد میں تحریک دفاع حرمین شریفین کے زیر اہتمام سینیٹر پروفیسر ساجد میر مرحوم اور سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کی قیادت میں ایک تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی۔جس میں پاکستان کی مذہبی اور قومی قیادت نے شرکت کی اور عزم کیا کہ وہ ہر حال میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔مولنا علی محمد ابو تراب صدر تحریک دفاع حرمین، صاحب زادہ شاہ اویس نورانی نائب صدر ،مولانا فضل الرحمن خلیل اور راقم کی کاوشوں سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولنا فضل الرحمان،وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف،مولانا حامد الحق حقانی سمیت قومی سیاسی قیادت نے شرکت کی۔اور اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ہر حال میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔
آئمہ حرمین شریفین بھی گائے بگائے پاکستان کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔اور پاکستان کے عوام ان سے اپنے لگاو اور محبت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔2018ء میں سئینیر امام حرم شیخ صالح بن حمید پاکستان تشریف لائے۔تو اس وقت کے وفاقی وزیر مواصلات سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے وزیراعظم سے بات کی اور امام صاحب کو کابینہ کے اجلاس میں مدعو کیا گیا اور وہاں نے اراکین کابینہ کے ساتھ ملاقات اور وعظ و نصیحت کی۔2019 میں امام حرم شیخ عبداللہ عواد الجھنی پاکستان تشریف لائے۔اسلام آباد اور لاہور کے دوروں میں پاکستان کے عوام نے ان سے بے پناہ لگاوء کا اظہار کیا۔اسی طرح امام مسجد نبوی ﷺ شیخ صالح البدیر بھی گزشتہ سال پاکستان تشریف لائے۔
سعودی عرب کا ایک اہم ادارہ رابطہ عالم اسلامی ہے۔اس وقت الشیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی اس کے سیکرٹری جنرل ہیں۔رابطہ عالم اسلامی پوری دنیا میں اسلام کی اشاعت اور ترویج کے لیے بھرپور کام کر رہا ہے۔ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے اس کو مزید وسعت دی ہے۔اسلام کے حوالے سے اس وقت مغربی دنیا شدید غلط فہمی شکار ہے۔ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے اسلامو فوبیا کے حوالے سے خصوصی اقدامات کیے۔انھوں نے خود مغرب کے دورے کیے ۔عیسائی اور یہودی علماء کو اکٹھا کیا۔اور مکالمہ کا آغاز کیا۔ان کی یہ جدوجہد جاری ہے۔اور اس کے خاطر خواہ نتائج نکلیں گے۔پاکستان میں جناب سعد محمود الحارثی اس کے سربراہ ہیں۔اور انھوں نے کووڈ کے دوران اور موجودہ سیلاب میں بھرپور کام کر رہے ہیں۔گزشتہ سیلاب میں سفیر محترم جناب نواف بن سعید المالکی نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور خود کشتی میں بیٹھ کر متاثرین تک پہنچے۔
پاکستان اور سعودی عرب دوستی حکومتوں کی بجائے عوام کی دوستی ہے۔حکومت کوئی بھی ہو،دوستی کا یہ سفر انشاءاللہ جاری رہے گا۔