شہرِ اقتدار میں سیرت میلہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد یوں تو بدلتے موسموں کے سبب معروف ہے چاہے وہ سیاسی ہوں یا قدرتی۔ اس شہر کے دلفریب مناظر اور دلکش موسم اپنے اندر اک عجب نوع کی جاذبیت آمیز کشش سموۓ ہوئے ہیں جو ہر آنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک مرتبہ آنے والا بھی اس شہر کو آسانی سے فراموش نہیں کر سکتا کہ کہیں نہ کہیں نہاں خانۂ دل میں کوئی یادوں کا گوشہ بن ہی جاتا ہے جو تادیر لو دیتا رہتا ہے۔

مگر گزشتہ ایک برس سے اس شہر کی سرگرمیوں میں ایک تقدس مآب خوشبو کے خوش گوار جھونکے کا گزر ہوا ہے جس نے دارالحکومت کی مجموعی فضا کو مشکبو بنا دیا ہے۔ یہ راحت آمیز اور کیف آگیں ماحول قومی رحمتہ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کی بدولت میسر آیا ہے۔

یہ ادارہ اکتوبر 2021 میں ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت قائم ہُوا۔ چوں کہ آئینی و قانونی نکتہ نظر سے صدارتی آرڈیننس ایک محدود معینہ مدت تک ہی نافذ العمل رہ سکتا ہے لہذا بعد ازاں سن 2023 میں ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے اس ادارے کو باقاعدہ آئینی و قانونی حیثیت دے دی گئی اور نام میں تبدیلی کے بعد اب یہ ادارہ قومی رحمتہ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کہلاتا ہے جس کے موجودہ سربراہ معروف دانش ور اور ممتاز کالم نگار جناب خورشید ندیم ہیں۔

اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد سیرتِ نبوی ﷺ پر تحقیق اور اس کی روشنی میں معاشرے کی تعمیر ہے۔ رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ مبارکہ عالمین کے لیے باعثِ رحمت ہے۔ اُسوۂ رسول ﷺ کی ضیاء بار کرنوں کے ذریعے سماج کے اخلاقی وجود کی تعمیر و تشکیل اور حفاظت اس ادارے کا اہم ترین فریضہ ہے۔ نسلِ نو تک آنحضرت ﷺ کی حیاتِ طیبہ اور آپﷺ کے پیغام کی ترسیل کی حساس ذمہ داری بھی یہ ادارہ ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے وہیں مختلف تعلیمی اداروں بالخصوص جامعات میں "رحمۃ للعالمین یوتھ کلبز” قائم کیے گئے ہیں تاکہ نسلِ نو تک رسالت پناہ ﷺ کی سیرت و کردار کا ابلاغ عملی صورت میں ممکن ہو اور وہ عملاً خود کو نبی کریم ﷺ کی سیرت کے سانچے میں ڈھالنے کی شعوری کاوش کا حصہ بنیں۔

گزشتہ برس کی طرح امسال بھی قومی رحمتہ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے زیر اہتمام "سیرت فیسٹیول” کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس کا بنیادی سلوگن "رحمت زمین کے لیے” رکھا گیا۔ جنابِ خورشید ندیم کی پرخلوص دعوت پر انتہائی مشفق و مہربان ادیب اور کالم نگار ڈاکٹر فاروق عادل صاحب کے ہمراہ شرکت کا اعزاز نصیب ہُوا۔

جناب سبوخ سید سے مدت مدید کے بعد وہیں ملاقات ہوئی اور ہر بار کی طرح اُن کی گفتگو سے محظوظ ہونے۔ بہر کیف سیرت میلے کے موقع پر اہلِ علم کی جانب سے اسوۂ رسول ﷺ کی روشنی میں ماحولیاتی حفاظت کے انتہائی اہم موضوع پر تحقیقی مقالے پڑھے گئے۔ ڈاکٹر ریاض محمود کی کتاب The Holy Prophet’s Approach to Disaster Management شائع کی گئی جسے رواں برس حکومت کی جانب سے پہلے انعام سے نوازا گیا۔ اس موقع پر ادبی اور جمالیاتی ذوق کی تسکین اور آبیاری کے لیے محفلِ نعت، نعتیہ مشاعرے، کتاب میلے اور خطاطی کی نمائش کا بھی بصیرت افروز اور بصارت افزا انتظام کیا گیا تھا۔ اربابِ فکر و دانش کے پُر مغز خطابات سامع نواز ہوۓ۔

طلباء کے مابین مختلف مقابلوں کا انعقاد کیا گیا جس میں مضمون نویسی اور معلوماتِ عامہ کے مقابلے شامل ہیں۔ یہ صحت افزا مقابلے یقیناً طلباء کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ انھیں صاحبِ سیرت ﷺ سے قریب ہونے میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ اس موقع پر طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جو یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ سیرت میلے کے موقع پر "یوتھ کنونشن” کا منظر دیدنی تھا۔

اس شان دار”سیرت فیسٹیول” کے عمدہ انعقاد پر ادارہ یقیناً مبارک باد کا بجا طور پر حق دار ہے کہ جس نے سماج کے مختلف طبقات اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے وابستہ افراد کو ایک ہی چھت تلے اس خوب صورتی سے یکجا کیا کہ:

جس طرح ملتے ہیں لب نامِ محمدﷺ کے سبب
آج مل چکے ہیں سب نامِ محمدﷺ کے سبب

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے