شمالی علاقوں کا سحر اور سیاحت

جب بھی میں شمال کی طرف نکلتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین اپنی تھکن اُتار کر نئی توانائی سے سانس لے رہی ہو۔ گندم کے کھیتوں کے سنہری خوشے پیچھے رہ جاتے ہیں، اور سامنے برف پوش پہاڑ اپنی سفیدی میں ایک خاموش اعلان کرتے ہیں کہ یہ ہے فطرت کا اصل چہرہ۔ ناران کی وادی میں داخل ہوں تو دریائے کنہار کا شور، گاڑی کے شیشے کے پار، کسی سرود کی مانند کانوں میں رس گھولتا ہے۔ اور جب آپ لولو سر جھیل کے کنارے کھڑے ہوں تو لگتا ہے جیسے نیلا آسمان خود زمین پر اُتر آیا ہو۔

ہنزہ پہنچیں تو انسان حیرت میں گم ہو جاتا ہے۔ راکا پوشی کے دامن میں کھڑے ہو کر آپ کو لگتا ہے کہ کائنات کی ساری عظمت آپ کے سامنے مجسم ہے۔ مقامی بچے اپنے معصوم قہقہوں کے ساتھ آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ اس وادی میں وقت تھم سا گیا ہے۔ بالائی ہنزہ میں گوجال کی فضائیں، جھیل عطا آباد کا نیلا پانی اور شاہراہ قراقرم کا گھماؤ آپ کو یاد دلاتا ہے کہ یہ خطہ انسان کے صبر اور فطرت کی سختیوں کے درمیان ایک داستان ہے۔

چترال میں جب شندور کے میدانوں میں ہوا تیز چلتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ زمین نہیں بلکہ کسی اور سیارے کا حصہ ہے۔ کالاش کی وادیوں میں رنگ برنگے کپڑے پہنے بچے، ڈھول کی تھاپ پر ناچتے لوگ، اور پہاڑوں کے دامن میں بسا یہ تمدن آپ کو بتاتا ہے کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ تہذیبوں کا خزانہ بھی ہے۔

اب بلتستان کا ذکر کیجیے، جہاں حالیہ برسوں میں ایک خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔ اسکردو کی ہواؤں میں اب نئے نئے ریزورٹس کے دروازے کھل گئے ہیں۔ کچورا جھیل کے کنارے جدید رہائش گاہیں اور خوبصورت ریزورٹس سیاحوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ فطرت اور سہولت ایک ساتھ بھی مل سکتے ہیں۔ شگر اور خپلو کے قدیم قلعوں کو ہوٹلوں میں ڈھال دیا گیا ہے جہاں قیام کرنا گویا صدیوں کے سفر میں واپس لوٹنے کے مترادف ہے۔

ادھر وادی کالام کا ذکر لازم ہے۔ بحرین سے اوپر جاتے ہوئے جب دریائے سوات آپ کے ساتھ ساتھ بہتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے یہ دریا آپ کا ساتھیِ سفر ہے۔ کالام کے سبزہ زار، پہاڑوں پر اترتی دھند، اور مہوڈنڈ جھیل کے نیلگوں پانی کو دیکھ کر انسان کا جی چاہتا ہے کہ وقت تھم جائے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کالام تک پہنچنے والی سڑکیں اکثر دشوار گزار ہیں، جگہ جگہ کھڈے اور ٹریفک کی رکاوٹیں سیاح کے صبر کا امتحان لیتی ہیں۔

رہائش کی سہولت محدود ہے، ایمرجنسی صحت کی خدمات نہ ہونے کے برابر ہیں، اور موبائل نیٹ ورک اکثر خاموش ہو جاتا ہے۔ بارشوں کے موسم میں زمین کھسکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گھنٹوں بلکہ دنوں سفر رُک جانا عام سی بات ہے۔ یہ مشکلات بعض اوقات سیاحوں کے جوش کو کم کر دیتی ہیں، مگر دوسری طرف انہی کٹھن راہوں کے پار پہنچ کر جو منظر نظر آتے ہیں وہ ان سب تکالیف کو بھلا دیتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور حکومتوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ اگر صوبائی اور وفاقی حکومتیں شمالی علاقوں کی شاہراہوں کو بہتر اور محفوظ بنائیں، چھوٹے چھوٹے اسپتال قائم کریں، ریسکیو سروسز اور ایمرجنسی مراکز مہیا کریں، تو سیاحت نہ صرف زیادہ آرام دہ ہو جائے گی بلکہ عالمی معیار کی بھی ہو سکے گی۔ اسی طرح ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پلاسٹک کے استعمال پر پابندی، ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے اور مقامی آبادی کو سیاحت کے بنیادی اصولوں پر تربیت دینا بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سیاحت کو صرف ایک عارضی تفریح نہ سمجھے بلکہ اسے ایک مستقل معیشتی سرمایہ تصور کرے۔

شمالی وادیوں کا حسن بے مثال ہے۔ یہ وادیاں محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی معیشت اور دنیا کے سامنے ہمارے مثبت تشخص کی ضامن بھی ہیں۔ اگر آج ہم نے ان کی حفاظت اور سہولیات کی بہتری کے لیے قدم نہ اٹھائے تو آنے والے کل میں یہ حسن محض تصویروں اور یادوں تک محدود ہو جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے