گداگری ایک ایسا سماجی مسئلہ ہے جو آج کے دور میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ گلیوں، بازاروں، مساجد کے باہر، اشاروں پر اور عوامی مقامات پر بھیک مانگتے ہوئے افراد کا نظر آنا ایک عام منظر بن چکا ہے۔ گداگری نہ صرف شہر کے حسن کو بگاڑتی ہے بلکہ یہ ایک مضبوط اور خوددار قوم کی تصویر کو بھی دھندلا دیتی ہے۔
گداگری کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ لوگ واقعی مجبوری کی حالت میں بھیک مانگتے ہیں، جیسے معذور، یتیم، یا بے سہارا افراد۔ تاہم ایک بڑی تعداد ان افراد کی بھی ہے جو صحت مند ہونے کے باوجود محنت کی بجائے بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کل منظم گروہوں اور مافیاز نے گداگری کو ایک منافع بخش کاروبار بنا لیا ہے۔ چھوٹے بچوں، عورتوں، اور معذوروں کو اس دھندے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو ایک انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
گداگری کے فروغ کے کئی اسباب ہیں۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم کی کمی، اور سماجی ناہمواری اس مسئلے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ بعض اوقات خاندان کا سہارا بننے والا فرد وفات پا جائے یا معذور ہو جائے تو گھر والے مجبوری میں بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود جب ریاست کی سطح پر کوئی مؤثر نظام موجود نہ ہو تو عوام سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ عوامی رویہ بھی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ بھیک مانگنے والے کو کچھ نہ کچھ دے کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے نیکی کر دی، مگر یہ نیکی درحقیقت ایک برائی کو مزید بڑھاوا دیتی ہے۔ پیشہ ور گداگر اسی وجہ سے سڑکوں پر بیٹھے رہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ لوگ بغیر تحقیق کیے انہیں پیسے دے دیں گے۔
گداگری کی روک تھام کے لیے چند اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کی فہرست تیار کرے جو واقعی مستحق ہیں۔ ان کے لیے فلاحی اداروں، بیت المال اور زکوٰۃ کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ انہیں بھیک مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔
دوسری جانب پیشہ ور گداگروں کے خلاف قانون سازی کی جائے اور انہیں سزائیں دی جائیں۔ گداگری کو جرم قرار دے کر ایسے افراد کو بحالی مراکز بھیجا جائے جہاں انہیں تربیت دی جائے، ہنر سکھائے جائیں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
تعلیم اس مسئلے کا مستقل حل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مفت اور لازمی تعلیم کو ہر سطح پر نافذ کرے تاکہ آنے والی نسلیں خود کفیل بنیں۔ خاص طور پر ان بچوں کو جو گداگری میں ملوث ہیں، سکولوں میں لایا جائے اور ان کی کفالت کی جائے۔
عوام کو بھی اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ بھیک دینے کے بجائے فلاحی اداروں کو عطیہ دینا چاہیے جو حقیقی مستحقین تک مدد پہنچا سکیں۔ اسی طرح میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عوام میں شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ گداگری کے نقصانات اور اس کے پیچھے چھپے جرائم کو سامنے لانا چاہیے تاکہ لوگ اس کی حوصلہ شکنی کریں۔
سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں (NGOs) اس میدان میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر تمام شعبے مل کر کام کریں تو گداگری جیسے ناسور کا خاتمہ ممکن ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ گداگری نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی، سماجی اور انسانی مسئلہ بھی ہے۔ اس کا حل صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنی سطح پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں کوئی شخص مجبور ہو کر سڑک پر نہ بیٹھے، بلکہ عزت کے ساتھ جینے کا حق حاصل کرے۔ یہی ایک فلاحی، اسلامی اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہے۔