ہماری زندگی کا چالیسواں سال

چالیس برس کی عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہ عمر ہے جسے قرآن نے ایک خاص دعا سے نوازا ہے۔
اس عمر میں انسان کے وجود پر وقت کی دھول جم چکی ہوتی ہے، لیکن عقل و شعور کے پھول پوری طرح کھل چکے ہوتے ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز، تجربات، غلطیاں، کامیابیاں، پچھتاوے اور حاصل شدہ دانائی — سب ایک نقطے پر جمع ہو جاتے ہیں۔ آدمی مکمل طور پر میچور ہو چکا ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم کی سورۃ الأحقاف، آیت نمبر 15 میں اسی مرحلے کو ایک دعا کے ذریعے یادگار بنا دیا گیا ہے۔ یہ آیت صرف عمر کے ایک عددی حصے کا ذکر نہیں کرتی، بلکہ انسان کی روحانی پختگی، فکری بیداری، اور احساسِ شکر کا اعلان کرتی ہے۔

> "حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ”
(سورۃ الأحقاف: 15)

ترجمہ:
"یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو کہا: اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی، اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہو، اور میری اولاد کو نیک بنا۔ بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں، اور یقیناً میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔”

یہ دعا دراصل ایک مکمل زندگی کے تجربے کا نچوڑ ہے۔
انسان جب چالیس سال کا ہوتا ہے تو وہ نہ نوجوانی کے جوش میں ہوتا ہے، نہ بڑھاپے کے زوال میں۔ وہ درمیانی زمین پر کھڑا ہوتا ہے جہاں عقل جذبات پر غالب آ چکی ہوتی ہے، اور دنیا کی حقیقتیں واضح ہو جاتی ہیں۔
اسی لیے قرآن نے اسی عمر کو شکر، نیکی اور اصلاح کی سمت موڑنے کے لیے منتخب کیا۔

علماء کے مطابق یہ عمر انسان کے لیے محاسبے، شکرگزاری اور اللہ کی جانب رجوع کا بہترین موقع ہے۔
اب تک کی زندگی کے تجربات اسے بتا چکے ہوتے ہیں کہ دنیا کی چمک عارضی ہے، اور حقیقی سکون صرف اطاعتِ خداوندی میں ہے۔
یہ آیت تین بنیادی باتوں کی جانب انسان کی رہنمائی کرتی ہے:

پہلی: اپنی زندگی اور والدین کی قربانیوں پر شکر ادا کرنا۔
دوسری: اپنے اعمال کو خدا کی رضا کے مطابق ڈھالنا۔
تیسری: اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے دعا کرنا۔

یہ تینوں باتیں انسان کی دنیا اور آخرت، دونوں کی تعمیر کرتی ہیں۔

جب کوئی شخص چالیس سال کا ہوتا ہے تو اکثر اس کے والدین یا تو بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں یا دنیا سے رخصت۔
اس لمحے انسان کے دل میں ایک عجیب سا احساسِ احسان اور تشکر جاگتا ہے کہ جو کچھ وہ ہے، والدین کی تربیت اور خدا کی توفیق سے ہے۔
اسی کیفیت میں وہ یہ دعا مانگتا ہے کہ:
"اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائیں۔”
یہ الفاظ اس بات کی علامت ہیں کہ زندگی کی اصل کامیابی شکر اور خدمت میں ہے، نہ کہ دولت اور شہرت میں۔

آگے وہ یہ بھی کہتا ہے:
"اور مجھے وہ نیک عمل کرنے کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں۔”
یعنی اب اس کے سامنے دنیا کی کامیابی نہیں بلکہ خدا کی رضا اہم ہو جاتی ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کے فیصلے دنیاوی فائدے سے بلند ہو کر اخلاقی اصولوں پر مبنی ہو جاتے ہیں۔

پھر وہ اپنی اولاد کے لیے دعا کرتا ہے:
"اور میری اولاد کو نیک بنا۔”
یہ دعا نسلوں کے تسلسل میں خیر و برکت کی ضمانت ہے۔
انسان جانتا ہے کہ اب وہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا، لیکن اس کی نیکیوں کا تسلسل اس کی اولاد کے ذریعے قائم رہ سکتا ہے۔

چالیس برس کی عمر کو قرآن نے صرف ایک حیاتیاتی مرحلہ نہیں بلکہ روحانی بلوغت کا نشان قرار دیا ہے۔
یہ وہ وقت ہے جب انسان کے اندر عقل، تجربہ اور ایمان کی مثلث کامل توازن اختیار کر لیتی ہے۔
یہ عمر انسان کو اپنے ماضی پر غور کرنے اور آنے والے دنوں کو بہتر بنانے کا موقع دیتی ہے۔
انسان اب اپنے فیصلوں میں ٹھہراؤ، اپنی سوچ میں گہرائی، اور اپنے طرزِ عمل میں ذمہ داری پیدا کر لیتا ہے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ کو بھی نبوت چالیس برس کی عمر میں عطا ہوئی۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اشارہ ہے کہ یہی عمر انسانی شعور کے کمال کی عمر ہے۔
اسی لیے اس دعا کو ایک انسانی انقلاب کی دعا کہا گیا ہے — ایک ایسی دعا جو بندے کو ماضی کی شکرگزاری، حال کی اصلاح، اور مستقبل کی نیکی سے جوڑ دیتی ہے۔

اگر ہم غور کریں تو اس آیت میں زندگی کا پورا فلسفہ سمٹ آیا ہے۔
پہلے حصے میں “شکر” ہے — یعنی انسان نعمتوں کو پہچانے۔
دوسرے حصے میں “عمل صالح” ہے — یعنی پہچانی ہوئی نعمتوں کو عمل کی صورت میں ظاہر کرے۔
اور تیسرے حصے میں “اصلاحِ ذُریّت” ہے — یعنی اپنی نیکیوں کو آگے منتقل کرے۔

یہ وہ تین ستون ہیں جن پر ایک صالح زندگی کھڑی ہوتی ہے۔
چالیس برس کی عمر میں انسان کو اب دنیا کے پیچھے نہیں بلکہ اپنی روح کے پیچھے دوڑنا چاہیے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب ہر شخص کو خود سے پوچھنا چاہیے:
“میں نے اب تک کیا کھویا اور کیا پایا؟”
“کیا میں نے اپنے والدین کی قربانیوں کا حق ادا کیا؟”
“کیا میں نے اپنی اولاد کے لیے وہ مثال قائم کی جس پر وہ فخر کر سکیں؟”

یہ سوالات ہی اس دعا کی روح ہیں۔
یہ عمر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے، اور اصل دولت وہ نہیں جو بینک میں پڑی ہے بلکہ وہ ہے جو دل کے اندر ایمان، شکر اور عمل کی صورت میں جمع ہے۔

چالیس برس کا ہونا دراصل دنیا کی حقیقت کو سمجھنے اور آخرت کے سفر کے لیے سنجیدہ ہونے کا اشارہ ہے۔
یہ عمر ہمیں خود سے قریب، اپنے رب سے مخلص، اور اپنی اگلی نسل کو راہِ راست پر رکھنے کی تڑپ دیتی ہے۔
اسی لیے اس دعا کے آخر میں بندہ عاجزی سے کہتا ہے:
"میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں، اور یقیناً میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔”

یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے — ایک ایسا اعلانِ بندگی جو انسان کو دنیا کی دوڑ سے ہٹا کر رب کی رضا کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔
جو شخص چالیس برس کی عمر میں اس دعا کو سمجھ لے، اس کی باقی زندگی صرف گزرتی نہیں بلکہ ثمر آور ہو جاتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے