سانائے تاکائچی (Sanae Takaichi) جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہو گئی ہیں۔ ان کا تعلق سیاسی گھرانے سے نہیں اور وہ ایک عام سے آدمی کی بیٹی ہیں۔ والد کسی صنعتی فرم میں کام کرتے تھے اور والدہ پولیس ڈپارٹمنٹ میں تھیں۔ تاکائچی نے بڑی محنت و مشقت اور تنگ دستیوں سے گزر کر اعلٰی تعلیم پائی اور بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے بعد لبرل ڈیموکریٹک پارٹی میں موجودہ پوزیشن تک آئی۔
تاکائچی سخت گیر قدامت پسندوں میں سے ہیں اور ان کے دامن سے کئی سیاسی تنازعات لپٹے ہوئے ہیں۔
جاپان کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی تقاضوں کے جبر نے اب لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو ویسی لبرل نہیں رہنے دیا، جن بنیادوں پر اس کی یہ نظریاتی شناخت ڈیویلپ ہوئی تھی۔
اب لبرل ڈیموکریٹس بھی بتدریج جون بدل کر روایت پرستی کی طرف گامزن ہیں اور حالیہ الیکشن میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں سے اتحاد کے بعد لبرل ڈیموکریٹک پارٹی بھی قدامت پرستوں کی صفِ اول تک پہنچ گئی ہے اور مادام تاکائچی کا اس منصب تک پہنچنا بھی پارٹی کی سیاسی و فکری قلب ماہیت کا ہی ماحاصل ہے۔
قدامت پسندی کی طرف اس تحویل قبلہ اور سیاسی موقع پرستی کا خوشگوار نتیجہ گو جاپان کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کے وزیراعظم بننے کی صورت میں ضرور برآمد ہوا ہے مگر حیران کن طور پر عوامی سطح پر مادام تاکائچی کے لیے کوئی جوش و جذبہ نہیں پایا جاتا اور ان سے سب سے زیادہ مایوس انہی کی صنف کے لوگ یعنی خواتین ہیں۔ تاکائچی کو پدرسری معاشرے کی نمائندہ خاتوں خیال کیا جاتا ہے جس نے ہمیشہ مردوں کے تسلط کو فروغ بخشا۔ مرد نوازی کا عالم دیکھئے۔
یہ خواتین کے لیے ان کی شادی سے پہلے کے نام (جس کو maiden name کہا جاتا ہے۔) کو جاری رکھنے کے سخت خلاف ہیں اور سمجھتی ہیں کہ خواتین کو یہ اجازت ہی نہیں ہونی چاہئے کہ وہ شادی کے بعد خاوند کے نام کا "ٹوٹا” نہ لگائیں اور شادی سے پہلے کا نام ہی استعمال کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود اپنا نام اسی طرح یعنی میڈن نیم استعمال کر رہی ہیں۔ جاپان کے سیاسی قدامت پسندوں میں یہ تضادات عام ہیں۔ مزید برآں سیکس سے لے کر زیادہ بچے پیدا کرنے تک کے ان کے خیالات و نظریات گویا دارالعلوم حقانیہ کی دین ہیں۔
ٹرمپ اور تاکائچی ایک دوسرے کی تعریف کرتے پائے گئے ہیں اور وزارتِ عظمیٰ سنبھالتے ہی وہ کچھ دنوں میں امریکہ جا رہی ہیں۔ عالمی مبصرین کو یہاں ایک مماثلت سی نظر آتی ہے مگر آج کل ٹرمپ کو خوش رکھنا، چاہے عارضی ہی کیوں نہ ہو، دنیا کی ضرورت ہے۔ تاہم تاکائچی کئی دیگر معاملات میں بھی ٹرمپ کے نقشِ قدم پر رواں دواں ہیں۔ دنیا بھر میں عوامیت پسند (populist) سیاسی رویوں اور رجحانات کی لہر اٹھی ہے اور اسی لہر کی مضطرب موجوں اور موافق ہواؤں میں کارِ بادبانی کرنے والوں میں تاکائچی بھی شامل ہے۔
وہ تارکینِ وطن اور یاں تلک کہ باہر سے آنے والے سیاحوں سے بھی اک گونہ عداوت رکھتی ہیں۔ الیکشن مہم کے دوراں غیر جاپانیوں کے لیے پراپرٹی خریدنے پر پابندی اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیوں کے وعدے وعید کرتی رہیں۔
تاہم سب سے زیادہ عالمی میڈیا کی نظریں چین اور جاپان کے تعلقات پر ہیں۔ چین کو لے کر تاکائچی کا موقف بڑا سخت گیر رہا ہے۔ تائیوان کے معاملے میں چین ہمیشہ سے حساس ہے اور اس باب میں دنیا کو سکوت اور اپنے کام سے کام رکھو کا درس دیتا ہے۔ تائیوان ایک خود مختار علاقہ ہے جس کو دنیا کے اکثر ممالک ایک الگ ملک نہیں سمجھتے بلکہ تائیوان کو عوامی جمہوریہ چین (People’s Republic of China) کا حصہ خیال کرتے ہیں۔چین نے دنیا کی کنپٹی پر نوکِ بندوق رکھی ہوئی ہے کہ اگر بیجنگ کے ساتھ سفارتی تعلقات چاہتے ہو تو پہلے تائپے ( Taipei جو کہ تائیوان کا دار الحکومت ہے۔) سے تعلقات ختم کرو۔
1972 چین اور جاپان کے درمیان ایک عہد نامہ ہوا تھا جہاں جاپان نے تائیوان کو "عظیم چین” کا حصہ تسلیم کیا تھا۔ یہ ایک ڈپلومیٹک چال تھی جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بہتری کی طرف گئے مگر جاپان نے کبھی دل سے چین کے تسلط کو قبول نہیں کیا۔ تاکائچی نے آتے ہی تائیوان کو اپنا "عزیز دوست” کہا اور لکھا کہ” دونوں ممالک” مشترکہ بنیادی اقدار، معاشی تعلقات اور عوامی روابط میں پیوست ہیں۔ دوسری طرف انہوں نے چین کو بھی خبر دار کیا ہے کہ یکطرفہ طور پر زورِ بازو سے تائیوان کی موجودہ حالت میں تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ بات چیت کے ذریعے یہ مسائل حل ہونے چاہئیں۔ چینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے وہ اکثر دوسری جنگِ عظیم کے شہدا اور جرائم پیشہ افراد کے مزاروں پر جایا کرتی ہیں اور کچھ ایسے قوانین کی حمایت میں بھی پیش پیش ہیں جو جاپان میں مقیم چینی باشندوں کو چینی حکومت کے جاسوس گردانتے ہیں۔
تاکائچی کے خیالات و نظریات سے قطع نظر، اس وقت انہیں بہت سارے اندرونی اور بیرونی چلیجنز کا سامنا ہے۔ گزشتہ چھبیس سال سے ایک مضبوط جماعت سے اتحاد تھا اور تاکائچی کے آتے ہی وہ ٹوٹ گیا۔ دوسری جماعت سے اتحاد کے بعد بھی ایوانِ زیریں میں اکثریت دو سیٹوں کی کمی پر ہے اور ان کو قانون سازی کے لیے دوسری جماعتوں پر انحصار کرنا ہوگا۔ شرحِ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور معیشت ڈانواں ڈول ہے۔ چنانچہ وہ گھریلو مسائل سے نمٹ لیں تو ہی باہر کی فضا بھی دیکھ لیں گی۔