میری ماں صبر، محبت اور عظمت کی علامت

انسانی دل ایک وسیع سمندر کی مانند ہوتا ہے جس میں جذبات و احساسات کے بے شمار جزیرے بستے ہیں۔ ان جزیروں میں سب سے روشن جزیرہ ماں کی محبت ہے، جو زندگی کے سب سے مشکل لمحوں میں بھی امید کا چراغ روشن رکھتی ہے۔ کل سے مجھے شدت کی بخار ہے لیکن اس کے باوجود آج میں اس عظیم ہستی کا مختصراً تذکرہ کرنا چاہتی ہوں جو میری دنیا کی سب سے قیمتی حقیقت ہے اور وہ ہیں میری ماں۔

بچپن میں، جیسا کہ وہ خود بتاتی ہیں، میں بہت شوخ اور شرارتی تھی۔ پورے گھر والے اور محلے والے مجھ سے تنگ آچکے تھے۔ جہاں بھی مجھے کوئی درخت یا پودا نظر آتا، میں فوراً اس سے پھل یا سبزی توڑ لاتی۔ ہر روز میری شکایت میرے والدین تک پہنچتی اور پھر مجھے ڈانٹ پڑتی۔ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ کوئی درخت ایسا نہیں تھا جس پر میں نہ چڑھی ہوں۔

میری والدہ بتاتی ہیں کہ میری شوخیوں کے ساتھ ساتھ میری زندگی میں بچپن ہی سے بے شمار رشتے آنے لگے تھے۔ روز میرے ابا مجھ سے پوچھتے کہ بیٹی کسی ایک کے لیے ہاں کر دیں؟ مگر میں ہنس کر جواب دیتی کہ ابھی میرا وقت نہیں آیا۔ آخرکار، میری شادی 14 سال کی عمر میں ہوئی۔ اُس وقت آپ کے والد صاحب کی عمر بیس برس سے کچھ زیادہ تھی۔ وہ اُس وقت گُڑ اور خشک میوہ جات کا کاروبار کرتے تھے۔

میری والدہ کہتی ہیں کہ شادی کے بعد انہوں نے شوہر کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر زندگی کی مشکلات کا سامنا کیا۔ وہ ایک ایک پیسہ بچاتیں، فضول خرچی سے پرہیز کرتیں، حتیٰ کہ دن میں سالن یا ہانڈی بھی نہیں بناتیں، صرف رات کا کھانا تیار کرتیں وہ بھی اپنے شوہر کی خاطر۔ ان کے بقول، وہ معمولی نہیں، محنتی اور کفایت شعار خاتون تھیں جنہوں نے تنگ دستی کے دنوں میں بھی عزت، صبر اور شکر کا دامن نہیں چھوڑا۔

مجھے کہتی ہیں آپ کے والد صاحب اکثر فخر سے کہا کرتے تھے تم سے شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ دولت اور برکت دی جس کا میں نے کبھی سوچا تک نہ تھا۔ مگر اس کامیابی کے پیچھے میری ماں کی انتھک محنت، صبر، قربانی اور خدا پر بھروسہ کارفرما تھا۔

اسی طرح شادی کے ابتدائی دن میری والدہ کے لیے نہایت تکلیف دہ ثابت ہوئے۔ سسرال والوں نے ان کے میکے سے تمام تعلقات منقطع کر دیے۔ اوپر سے دو ڈھائی سال تک اولاد نہ ہوئی۔ مگر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے انہیں گیارہ بچوں سے نوازا، جن میں سے تین بچپن میں وفات پا گئے، جبکہ ہم آٹھ بہن بھائی آج ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی بن کر موجود ہیں۔

اس دوران میری ماں شدید بیمار بھی رہیں، مگر بیماری کی حالت میں بھی اپنی ذمہ داریوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں۔ گھر کا سارا کام، مویشیوں کی دیکھ بھال، اور حجرے میں روز دس پندرہ مہمانوں کو کھانا دینا یہ سب ان کے روزمرہ کے کام تھے۔ وہ کہتی تھیں، میں یہ سب اس لیے کرتی ہوں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں کی بیوی کسی کام کی نہیں، یا میرے شوہر کو کوئی طعنہ نہ دے۔

میری یادداشت میں وہ منظر آج بھی تازہ ہے جب میرے والد محترم نے ان پر بدترین تشدد کیا۔ وہ اس حد تک زخمی ہو گئیں کہ خون کی الٹیاں شروع ہو گئیں۔ انہیں شدید حالت میں شیرپاؤ ہسپتال (موجودہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال) منتقل کیا گیا، جہاں وہ ایک ہفتہ زیر علاج رہیں۔ اُس وقت میرا چھوٹا بھائی صرف چند ماہ کا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے وہ اذیت دیکھی جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ افسوس کہ میری زندگی کی تقریباً پچیس برس تک تشدد کا یہ سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں جاری رہا۔

لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میری ماں نے کبھی زبان سے “اُف” تک نہ کی۔ وہ شوہر کے سامنے سر جھکائے رہتیں، جواب دینا تو درکنار، کبھی شکوہ تک نہ کیا۔ ایک دن میرے والد صاحب نے دوسری شادی کا ارادہ ظاہر کیا۔ دنیا کی اکثر عورتیں ایسے موقع پر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں، مگر میری ماں نے اس دن سے خود شوہر کے لیے رشتہ ڈھونڈنا شروع کر دی۔ وہ خود لوگوں کے گھروں میں گئیں، رشتے کی باتیں کیں، اور آخرکار 2005ء میں اپنے شوہر کی دوسری شادی کروائی۔

مگر وہ نئی سوکن کے لیے حسد یا نفرت نہیں پالی اس کو اپنی بیٹی اور بہن کی طرح اپنایا۔ اسے گھر کے کاموں سے روکا، کہا: تم بس خوش رہو، اچھے کپڑے پہنو، اپنے شوہر کو خوش رکھو، باقی سب کام میری بیٹیاں کریں گی۔ یہ عمل نہ صرف عظمت بلکہ قربانی، صبر اور روحانی بلندی کی مثال ہے۔

جب سوتیلے بھائی پیدا ہوئے، تو انہوں نے انہیں بھی اپنی گود میں لے کر پالا، پوسا، اور اپنے بچوں سے بڑھ کر محبت دی۔ آج بھی وہ ان کے لیے ویسے ہی دل سے دعاگو ہیں جیسے اپنے بچوں کے لیے۔

میری ماں نہایت عاجز، سادہ اور خدا ترس خاتون ہیں۔ لباس، کھانے پینے اور خرچ کے ہر معاملے میں حد درجہ احتیاط برتتی ہیں، اور دوسروں کو بھی یہی تلقین کرتی ہیں کہ فضول خرچی سے بچو، قناعت اپناؤ۔

عبادت ان کی زندگی کا محور ہے۔ وہ پابندی سے نماز پڑھتی ہیں، حتیٰ کہ شدید بیماری کی حالت میں بھی تہجد ترک نہیں کرتیں۔ ہر فارغ لمحے میں وہ اللہ کے ذکر میں مگن رہتی ہیں۔ ان کا دل دنیاوی زیب و زینت سے نہیں روحانی سکون سے سیر ہوتا ہے۔

انہیں مویشی پالنا، مرغیاں رکھنا، سبزیاں اگانا اور پودوں کی دیکھ بھال کرنا بہت پسند ہے۔ آج بھی انہوں نے گھر میں دس مرغیاں، کئی پودے اور چھوٹی سبزیاں موجود ہیں۔ وہ ان کی دیکھ بھال محبت سے کرتی ہیں۔

گھر کے انتظام میں وہ ناقابلِ مثال ہیں۔ پورے گھر کو اس طرح منظم رکھا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ جب بھی انہیں لگے کہ کچھ غلط ہو رہا ہے، وہ پورے حوصلے سے کھڑی ہوجاتی ہیں، حق اور سچ کا ساتھ دیتی ہیں، اور دوسروں کو بھی یہی سکھاتی ہیں کہ سچ بولنا کبھی نقصان نہیں دیتا، جھوٹ ہمیشہ کمزور کر دیتا ہے۔

آج وہ پینسٹھ برس کی عمر کو پہنچ چکی ہیں۔ بڑھاپے اور بیماری نے انہیں کمزور کر دیا ہے۔ 14 تاریخ کی صبح وضو کے بعد اچانک انہیں چکر آیا اور وہ گر گئیں۔ میں گھبرا کر انہیں فوراً اکبر نیازی ہسپتال، بارہ کہو لے گئی۔ ہم نے سمجھا کہ شوگر یا بلڈ پریشر کا مسئلہ ہوگا، مگر جب ایکسرے ہوا تو پتہ چلا کہ ان کی ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپریشن ضروری ہے مگر زخم میں انفیکشن ہوگیا جس سے ان کی حالت بگڑتی چلی گئی۔ دس دن تک وہ ہسپتال میں شدید تکلیف میں رہیں اور میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی ہر کراہ، ہر آہ اور ہر دعا دیکھی۔ ان دنوں ان کی ہر آہ نے بخدا مجھے اندر سے توڑ دیا۔

ہسپتال میں وہ اکثر پرانے دنوں کو یاد کر کے روتی ہیں، کہتی ہیں: میری جوانی بھی دکھ میں گزری، اب بڑھاپا بھی تکلیف میں گزر رہا ہے۔ زندگی میں کوئی خوشی کا لمحہ نصیب نہیں ہوا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اب مجھے اپنے پاس بلا لے اور سکون دے دے۔

میں ان کی باتیں سن کر خود بھی رو پڑتی ہوں، مگر ان کا دل بہلانے کی بھرپور کوشش کرتی ہوں۔ ایک لمحے کو وہ خاموش ہو جاتی ہیں، پھر دوبارہ ماضی کی یادوں میں کھو کر اشک بہانے لگتی ہیں۔

آج جب میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں تو میرا قلم صرف سیاہی سے نہیں، میرے آنسوؤں سے بھی تر ہے۔ یہ میری زندگی کی سب سے مشکل تحریر ہے ایک ایسی فریاد جو دل کے سب سے گہرے زخم سے نکلی ہے۔ بس اس سے آگے نہیں لکھ سکتی کیونکہ میری ماں کو اس وقت آپریشن تھیٹر میں لیں گئیں ہیں۔

میں آپ سب سے عاجزانہ درخواست کرتی ہوں کہ میری والدہ محترمہ کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کا آپریشن کامیاب فرمائے، انہیں جلد صحتِ کاملہ عطا کرے، اور وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہو جائیں۔
کیونکہ میری دنیا کی روشنی، میرا حوصلہ، اور میری دعاؤں کی قبولیت میری ماں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے