وطن عزیز پاکستان اس وقت بے شمار مسائل سے دوچار ہے, جس میں سر فہرست سیاسی عدم استحکام ہے اور اس عدم استحکام کے باعث اس وقت ملک ہر شعبے میں ہیجان کی کیفیت سے گزر رہا ہے ہر شخص تردد اور بے یقینی کی بات کرتا ہے جس سے مایوسی کی فضا جنم لے رہی ہے۔
معاشرے سے لیکر فرد تک ہر شخص موجودہ نظام مملکت سے نہ صرف نالاں ہے بلکہ اسے دیمک قرار دیتا ہے جس میں اشرافیہ اور ایلیٹ کے لیے تو بے شمار مواقع موجود ہیں مگر محنتی قابل اور اہل لوگوں کے لیے کوئی موقع نہیں بلکہ کسی بھی لیول پر ان کے لیے کوئی پالیسی یا تجویز بھی زیر غور نہیں لیکن اس کے باوجود آئے روز آئینی ترامیم ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
حالیہ پارلیمان نے ستائیسویں ترمیم کو پاس کر دیا جس باعث ملک کے ہر طبقے میں ایک بحث چھڑ گئی جو دو تناظر میں ہے جس میں سے پہلا رخ اس ترمیم کا اسلامی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک کا نظریاتی وجود ہی اسلام کے مرہون منت ہے جس باعث ہر شخص یہ سوال کرتا ہے کہ جب یہ ملک اسلام کے نام پر لیا گیا ہے اور اس کے آئین میں یہ درج ہے کہ کوئی بھی قانون اگر قرآن وسنت کے خلاف بنایا جائے گا تو کالعدم تصور ہوگا لہذا اس تناظر میں اس ترمیم کی کیا حثیت اور جواز ہے جبکہ اس کا دوسرا رخ جمہوری ہے اور جمہوریت کی تعریف اگر لنکن کی زبانی دیکھی جائے یاپھر جدید جمہوری اقدار و روایات کی روشنی میں تو بھی کسی بھی شخص کو (judicial immunity)کا تاحیات حق حاصل نہیں ہے۔
سو حالیہ پارلیمان نے ستائیسویں ترمیم کے ذریعے جو استثنیٰ مختلف شعبہ جات میں سروسز فراہم کرنے والوں کو دیا کیا یہ جمہوری اعتبار سے درست ہے۔
لہذا ہم پہلے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیں گے اور پھر جمہوری روایات کی روشنی میں بھی اس کا تجزیہ کریں گے۔
عدالتی استثناء اور اسلامی تعلیمات:
اسلامی ریاستی نظام کی بنیاد عدل و انصاف پر مبنی ہے جس کی رو مساوات و احتساب ہے یعنی کوئی بھی شخص قانون سے بالا تر نہیں ہے بلکہ تاریخ کی کتابوں میں بے شمار ایسے واقعات ہمیں ملتے ہیں جن میں حاکم وقت کو دوران حکمرانی عوامی کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا جن میں دو واقعات کو بہت شہرہ حاصل ہے۔
جن میں پہلا واقعی سیدنا عمر فاروق کا جو قمیض والا ہے جب کہ دوسرا سیدنا علی کی ذرہ کا ہے جب وہ قاضی شریح کی عدالت میں بطور مدعی پیش ہوئے تھے حالانکہ یہ دونوں شخصیات اس وقت امت مسلمہ کی قیادت کر رہی تھیں بلکہ میری دانست میں ایک واقعہ ایسا بھی ہے جس میں ایک عام شخص نے خلیفہ وقت کو یہ کہا تھا کہ اگر وہ راستے سے ہٹ جائیں گے تو رعایا انہیں تلواروں سے سیدھا کر دے گی۔
لہذا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عدالتی استثناء کسی بھی صورت ناقابل قبول اور ناجائز ہے.
اب آئیے جمہوری نظام کی طرف کے کیا جمہوری نظام میں تاحیات ایگزیکٹو عہدوں پر رہنے والوں کو عدالتی استثناء دیا جاتا ہے یا نہیں۔
جمہوریت اور عدالتی استثنیٰ:
اگر دوران سروس یعنی جب کوئی شخصیت کسی عوامی عہدے پر مامور ہوتی ہے تو اسے فرضی استثنیٰ دیاجاتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہےتاکہ وہ مکمل جانفشانی اور توجہ سے عوامی خدمت میں مصروف رہے مگر بعد ازاں اسے بھی عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے کئی سربراہان کے خلاف عوامی عہدےسے اترنے کے بعد اس کے دوران بھی کئی کیسز بنے اور انہیں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا مثلاً!
ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جن پر عہدہ چھوڑنے کے بعد متعدد فوجداری مقدمات میں فرد جرم عائد کی گئی۔ ان میں وفاقی انتخابات میں مداخلت، کلاسیفائیڈ دستاویزات کا غلط استعمال، اور کاروباری مالیات میں جعل سازی جیسے الزامات شامل ہیں۔ ان میں سے ایک مقدمے (کاروباری مالیات) میں انہیں سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔
اسی طرح برازیل میں لوئیز اناسیو لولا دا سلوا جو موجودہ صدر ہیں،انہیں ماضی میں کرپشن کے الزامات میں سزا ہوئی تھی اور وہ جیل بھی گئے تھے۔ تاہم، بعد میں ان کی سزاؤں کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد وہ دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔سابق صدر جائر بولسونارو کو بھی اپنے دور میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور انتخابات سے متعلق غلط معلومات پھیلانے کے الزامات پر تحقیقات اور قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔ انہیں ایک عدالت نے 2030 تک الیکشن لڑنے سے بھی روک دیا ہے۔
ایسے ہی جنوبی کوریا میں کئی سابق صدور کو کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات میں جیل بھیجا جا چکا ہے۔ مثال کے طور پر، سابق صدور لی میونگ باک اور پارک گیون ہائے دونوں کو بالترتیب 17 اور 15 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں، اگرچہ بعد میں انہیں معافی (pardon) مل گئی۔
ان تمام مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مضبوط جمہوری اور عدالتی نظام میں، حکمرانوں کو بھی عام شہریوں کی طرح قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے اور عدالتی کارروائی سے مکمل استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا۔سو اگر اس ترمیم کا کسی بھی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو پاکستانی معاشرے کے تناظر میں اس کا کوئی جواز اور گنجائش نہیں بنتی بہرکیف ایسی تمام ریاستیں جہاں طاقت ہی سب کچھ ہے وہاں یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔