ممتاز دانشور، ماہر تعلیم، جنوبی ایشیائی تاریخ کی سکالر اور صوفیانہ خیالات کی حامل ادیبہ عارفہ سیدہ زہراء 22 جون 1943 کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور 10 نومبر 2025 کو انتقال کر گئیں۔ انہوں نے پہلے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، پھر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری ہوائی یونیورسٹی امریکہ سے حاصل کی۔ عارفہ سیدہ فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کی پروفیسر تھیں اور لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی پرنسپل بھی رہیں۔ انہوں نے خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن کے طور پر کام کیا۔ عارفہ سیدہ زہراء پنجاب کی سابق نگران صوبائی وزیر بھی رہیں۔
عارفہ سیدہ اردو زبان میں بہترین اظہارِ خیال اور اردو ادب کے بارے میں اپنی بصیرت افروز معلومات کے لیے پہچانی جاتی تھیں۔ وہ تاریخ کی دانشمندانہ شارح تھیں اور جنوب ایشیائی معاشرتی امور میں خاص مہارت رکھتی تھیں۔ یونیورسٹی میں تدریسی اور انتظامی امور کے علاوہ، وہ زبانوں سے متعلق مختلف کانفرنسوں میں شرکت اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں اظہارِ خیال اہتمام سے کرتی تھیں۔ عارفہ سیدہ زہراء کی شخصیت اور خیالات زندگی بھر محبت، تصوف، ادب اور تہذیب کے گرد گھومتے رہے۔
انسانی تاریخ کے اوراق ایسے روشن چہروں سے بھرے پڑے ہیں جنہوں نے محبت، رواداری اور تہذیبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ اسی سلسلے کا ایک درخشاں نام عارفہ سیدہ کا ہے، جو اپنی شفیق شخصیت، دل آویز مسکراہٹ، پُرسکون طبیعت، علمی و روحانی بصیرت اور غیرمتزلزل عزم کے باعث محض ایک فرد نہیں، بلکہ محبت اور تہذیب کی ایک زندہ علامت اور مؤثر سفیر بن کر ابھریں۔ وہ اس بات کی زندہ دلیل ہیں کہ آج کے پرآشوب اور تناؤ سے بھرپور دور میں بھی کوئی ایسا دل موجود ہے جو نفرتوں کی دیواریں پاش پاش کر کے محبت کا ایک ایسا چراغ روشن کر سکتا ہے جس کی روشنی دنیا کے کونے کونے تک پہنچتی ہے۔
عارفہ سیدہ کی شخصیت ایک ایسے نایاب موتی کی مانند ہے جس کے مختلف رخ اپنی الگ چمک رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں علم کی گہرائی، روحانیت کی سچائی، دردمندی کی رقت اور خدمتِ خلق کا ایک لازوال جذبہ یکجا نظر آتا ہے۔ وہ جس مجلس میں بیٹھتی تھیں، اپنے علم و حکمت کے خزینے سے حاضرین کے دلوں و اذہان کو منور کر دیتی تھیں۔ ان کی باتوں میں نرمی تھی، رویے میں شرافت اور تہذیب تھی جبکہ کردار استحکام سے آراستہ تھا۔ یہی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے انہیں ہر عمر، ہر طبقے اور ہر مذہب کے افراد کے دلوں میں ایک ممتاز اور قابلِ احترام مقام عطا کیا۔ ان کے وجود سے امن، سکون، تہذیب، محبت، یکجہتی اور انسان دوستی کا احساس وابستہ تھا۔
عارفہ سیدہ کی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع اور ہمہ جہت تھا۔ انہوں نے تعلیم، روحانی اصلاح، سماجی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ جیسے اہم شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی زیر نگرانی چلنے والے تعلیمی اور رفاہی ادارے ہزاروں افراد کے لیے علم و ہنر کا ذریعہ بنے رہے۔ ان کی روحانی مجالس اور خطابات نے نہ صرف افراد کے باطن کو منور کیا بلکہ انہیں عملی زندگی میں نیکی اور احسان کا پیکر بننے کی ترغیب دی۔ ان کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے مختلف مذاہب اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو پاٹنے کا کام کیا، ان کے دل جوڑے اور باہمی محبت و احترام کا جذبہ پروان چڑھایا۔
ایک بار ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "میں لوگوں سے ایک بات کہتی ہوں کہ خدا کے لیے خوش رہنا سیکھ لیجیے۔ جو خوش ہوتا ہے وہ مطمئن ہوتا ہے، جو مطمئن ہوتا ہے وہ عمل کرتا ہے، جو عمل کرتا ہے وہ بامراد ہوتا ہے اور جو بامراد ہوتا ہے وہ زندگی میں سرخرو ہوتا ہے۔” وہ خود بھی خوش اور مطمئن رہتی تھیں اور دوسروں کو بھی خوش اور مطمئن رہنے کی تلقین کرتی تھیں۔
وہ زندگی کو بنانے کے لیے تعلیم کو سب سے طاقتور ذریعہ سمجھتی تھیں اور اس خیال کی تردید کرتی تھیں کہ اسے صرف ملازمت کا ذریعہ سمجھا جائے۔ وہ کہتی تھیں: "تعلیم منزل نہیں ہے۔ منزل تو تھکنے والوں کو ملتی ہے، طلب کرنے والوں کو صرف سفر ملتا ہے۔ تعلیم سفر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ آپ کو ہمیشہ لوگ کہتے ہیں آپ کو آپ کی منزل مراد مل جائے۔ حضور! منزل مراد کوئی ایک چیز ہے جو مل جائے۔ یہاں تو ہر قدم پر نئی مراد ہے۔ اور جب تک وہ نئی مراد نہیں ہوگی، میری زندگی کی دلچسپی اور معنی دونوں ختم ہو جائیں گے۔”
عارفہ سیدہ کے مشن کا مرکز و محور محبت کا وہ آفاقی تصور ہے جو تمام تر تفریق اور امتیاز سے بالاتر ہے۔ ان کے ہاں محبت محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک عملی فلسفہ ہے۔ وہ سکھاتی تھیں کہ محبت ہی وہ قوت ہے جو انسان کے اندر کی کدورتوں کو ختم کرتی ہے، اس کے تکبر کو تواضع میں بدلتی ہے اور اسے ایک بہتر انسان بناتی ہے۔ ان کا یہی پیغامِ محبت انہیں فطرت کے ایک سفیر کی حیثیت دیتا ہے۔ ایک ایسا سفیر جو نہ تو کسی سرکاری عہدے پر فائز تھا اور نہ ہی کسی مخصوص ملک کی نمائندگی کرتا تھا، بلکہ وہ پوری انسانیت کی طرف سے محبت کی نمائندگی کرتی تھیں۔ وہ انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرنا پسند نہیں کرتی تھیں بلکہ ہمیشہ پل بننے اور بنانے کی ترغیب دیتی تھیں۔
آج کا دور تصادم اور تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ کا دور کہلاتا ہے، لیکن عارفہ سیدہ اس کی نفی کرتی نظر آتی تھیں۔ وہ تہذیبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی تھیں۔ ان کا کام اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ مختلف تہذیبیں ایک دوسرے کو سمجھیں، ان کا احترام کریں اور باہمی تعاون کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کریں۔ وہ مشرقی اقدار کو عالمی سطح پر متعارف کروانے اور انہیں فروغ دینے میں پیش پیش رہتی تھیں، جبکہ دوسری تہذیبوں کے مثبت پہلوؤں کو بھی سراہتی رہیں۔ یہی توازن اور انصاف پسندی انہیں ایک کامیاب تہذیبی سفیر بناتی تھی۔
عارفہ سیدہ کی باتوں میں جو وزن اور اثر تھا، اس کی بنیاد ان کا وسیع العلم ہونا تھا۔ وہ محض جذباتی نعرے بازی نہیں کرتی تھیں، بلکہ ہر بات کو دلیل، منطق اور حکمت کے ساتھ پیش کرتی تھیں۔ ان کی تقریریں اور تحریریں علم کے خزینے سے بھرپور ہوتی تھیں، جو سننے اور پڑھنے والے کے ذہن کو متاثر کرتی تھیں اور اس کے دل کو تبدیل کرتی تھیں۔ وہ علم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں سمجھتی تھیں، بلکہ اسے انسان کی اصلاح اور اس کے کردار کی تعمیر کا ذریعہ قرار دیتی تھیں۔
نوجوان نسل کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، اور عارفہ سیدہ نے ہمیشہ نوجوانوں کی رہنمائی پر خصوصی توجہ دی۔ وہ ان کے دلوں میں مثبت قدروں کے بیج بوتى تھیں، انہیں منفی سرگرمیوں اور انتہا پسندی سے بچنے کی تلقین کرتی رہیں اور انہیں باکردار اور مفید شہری بننے کی ترغیب دیتی رہیں۔ ان کی سادگی، ان کی پاکیزگی اور ان کا بلند ہمت ہونا انہیں نوجوانوں کے لیے ایک مثالی رول ماڈل بنا دیتا تھا۔
ایک خاتون ہونے کے ناطے، عارفہ سیدہ خواتین کے حقوق اور ان کی خودمختاری کے لیے بھی سرگرم رہیں۔ وہ خواتین کو تعلیم و تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے، انہیں معاشی طور پر خودمختار ہونے اور معاشرے میں باعزت مقام دلانے کے لیے کام کر رہی تھیں۔ تاہم، ان کا طریقہ کار انتہائی متوازن تھا۔ وہ خواتین کو اسلاف کی عظیم خواتین کی روایات سے جوڑتی تھیں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی تھیں۔
عارفہ سیدہ نے روحانیت کے تصور کو جدید دور کے تناظر میں نہایت خوبصورتی سے پیش کیا۔ وہ روحانیت کو دنیا سے فرار کا نام نہیں دیتی تھیں، بلکہ اسے دنیاوی زندگی میں اخلاقیات، صبر، شکر اور خدمت کے ذریعے پروان چڑھانے کی ترغیب دیتی تھیں۔ ان کے نزدیک حقیقی روحانی شخصیت وہی ہے جو معاشرے میں رہتے ہوئے، اپنے فرائض نبھاتے ہوئے، خدا سے اپنا تعلق مضبوط رکھے۔ وہ کہتی تھیں: "اچھائی کا پیمانہ اخلاقیات ہیں اور اخلاقیات کا پیمانہ انصاف ہے، جبکہ اسلام نے تاریخ میں سب سے زیادہ زور اخلاقی بننے پر دیا ہے اور اخلاقی بننے کے لیے انصاف کو بطورِ اصول ٹھہرایا ہے۔”
بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمہ عارفہ سیدہ کی خدمات کا ایک اہم ترین پہلو تھا۔ وہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی تھیں اور باہمی احترام اور رواداری کی فضا قائم کرتی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ تمام مذاہب کا بنیادی پیغام امن اور بھلائی کا ہے، لہٰذا مشترکہ انسانی اقدار پر زور دینا چاہیے۔ ان کی اس کوشش نے کئی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مفاہمت کے دروازے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔
عارفہ سیدہ کا مشن صرف روحانی اور فکری ہی نہیں، بلکہ عملی بھی تھا۔ وہ معاشرے کے محروم اور پسماندہ طبقوں کی بھرپور مدد کرتی تھیں۔ ان کے زیر انتظام ہسپتال، اسکول، یتیم خانے اور دیگر رفاہی ادارے غربا و مساکین کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ یہ خدمات ان کے اس یقین کا عملی اظہار تھیں کہ محبت کا تقاضا ہے کہ انسان دوسرے انسان کے دکھ درد میں شریک ہو۔
ذرائع ابلاغ نے عارفہ سیدہ کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، ٹی وی چینلز اور ان کی تحریری کتب کے ذریعے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ اس نے ان کے مشن کو ایک عالمی تحریک کی شکل دے دی، جس کی رسائی پہلے کے دور میں ممکن نہ تھی۔
ہر عظیم انسان کی طرح عارفہ سیدہ کو بھی تنقید اور مخالفت کا سامنا رہا۔ لیکن انہوں نے ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنے مشن سے کبھی منہ نہیں موڑا۔ ان کی یہ استقامت ان کے عزم کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے اور ان کے ماننے والوں کے لیے تقلید کا نمونہ ہے۔
عارفہ سیدہ کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انہیں متعدد بین الاقوامی ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ لیکن ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز عوام الناس کے دلوں میں بسی ان کی محبت اور عقیدت تھی۔ وہ دنیا بھر میں امن اور محبت کی ایک علامت کے طور پر پہچانی جاتی رہیں۔
عارفہ سیدہ ایک ایسی ہستی تھیں جنہوں نے اپنی زندگی، اپنے کردار اور اپنے مشن کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ محبت ہی وہ واحد زبان ہے جسے ہر انسان سمجھ سکتا ہے، اور تہذیبی ہم آہنگی ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسانیت کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ وہ درحقیقت محبت اور تہذیب کی ایک ایسی مؤثر سفیر تھیں جن کا کام آنے والی نسلوں کو راہِ راست دکھاتا رہے گا۔ ان کی ذات ہمارے لیے اس بات کی یاددہانی ہے کہ ہر انسان کے اندر دنیا کو بدل دینے کی صلاحیت موجود ہے، بس ضرورت ہے تو اپنے اندر کی محبت کو جگانے اور اسے پھیلانے کی۔ آئیے ان کے چند اقوال ملاحظہ کرتے ہیں جن سے ان کے خیالات اور شخصیت کا پتہ چلتا ہے!
1. علم کی دولت:
"علم وہ دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں،بلکہ بڑھتی ہے۔”
2. خودشناسی:
"اپنے آپ کو پہچاننے کا سفر سب سے مشکل سفر ہے،مگر اس کا اختتام سب سے حسین منزل پر ہوتا ہے۔”
3. زندگی کا فلسفہ:
"زندگی کو سمجھنے کے لیے اسے گزارنا پڑتا ہے،صرف دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔”
4. دل کی آواز:
"دل کی آنکھ ہمیشہ سر کی آنکھ سے زیادہ درست فیصلہ کرتی ہے۔”
5. جدوجہد کی اہمیت:
"ہر مشکل کے بعد آسانی ہے،یقین اس بات پر ہو کہ جدوجہد کا پھل ضرور ملتا ہے۔”
6. قدرت سے رشتہ:
"درخت لگاؤ،پرندوں کو دانا ڈالو، یہ چھوٹے چھوٹے عمل درحقیقت اپنے اندر کو سیراب کرنے کا ذریعہ ہیں۔”
7. انسانیت کی خدمت:
"حقیقی مذہب انسانیت کی خدمت ہے،باقی سب رسمیں ہیں۔”
8. صبر کا سبق:
"صبر صرف انتظار کا نام نہیں،بلکہ انتظار کے دوران اپنے آپ کو بہتر بنانے کا عمل ہے۔”
9. الفاظ کی طاقت:
"الفاظ میں وہ طاقت ہے جو تلوار سے زیادہ تیز ہوتی ہے،انہیں احتیاط سے استعمال کرو۔”
10. خود اعتمادی:
"دوسرے تمہیں وہی دیکھتے ہیں جو تم انہیں دکھاتے ہو،اس لیے خود کو مضبوط دکھاؤ۔”
11. نیکی کا پھیلاؤ:
"ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہو سکتے ہیں،ایک اچھائی کئی اچھائیوں کو جنم دے سکتی ہے۔”
12. حقیقی کامیابی:
"کامیابی کا تعلق دولت اور شہرت سے نہیں،بلکہ اپنے ضمیر کے ساتھ اطمینان سے ہے۔”