عرفان صدیقی صاحب کے انتقال پر ایک خاص حلقے کی جانب سے جو کچھ لکھا جا رہا ہے اس نے دکھی کر دیا ہے۔ یہ اندازہ تو تھا کہ اس معاشرے کی رگوں میں نفرت کا زہر انڈیل دیا گیا ہے لیکن یہ احساس نہیں تھا کہ یہ زہر ہمارے وجود کو اس حد تک بیمار کر چکا ہے۔
ایک آدمی، ایک نجیب آدمی کا جسد خاکی رکھا تھا، ابھی تدفین تک نہیں ہوئی تھی اوریہ لوگ زہر تھوکنا شروع ہو گئے۔
ہماری کچھ اقدار ہوتی تھیں، آنکھ میں کچھ حیا ہو تی تھی، کچھ مروت ہوا کرتی تھی، معلوم یہ ہوا کہ سب کچھ سونامی کی نذر ہو گیا۔بات اب زندوں سے آگے بڑھ گئی ہے، اب مر جانے والوں کو بھی امان نہیں۔ کفن اسی کا محفوظ رہے گا جو سیاست کی ایک خاص تعبیر پر یقین رکھتا ہے۔ لاشے دیکھ کر پہلے یہ فیصلہ ہو گا کہ یہ عشق کپتان کا قتیل ہے یا نہیں۔ اگر جواب نفی میں آ گیا تو نہ لاشے کو امان ہے نہ کفن کو۔
سیاست کے نومولود بانکوں کا قصور نہیں، انہیں سکھائی ہی صرف نفرت گئی ہے۔ یہی ان کا زاد راہ ہے۔
انسانی اقدار کے، اور شخصی شرافت کے جتنے پیمانے تھے، یہ توڑ چکے۔ حادثہ یہ ہوا کہ خود اہل صحافت کے بعض نمایاں کردار نفرت تھوکتے پائے گئے۔ نفرت اور زہر کے اس تکلیف دہ اظہاریے میں عرفان صدیقی صاحب کے خلاف فرد جرم کا ایک ہی نکتہ مشترک ہے: کالم نگار تو اچھے تھے مگر ن لیگ میں شامل ہو گئے۔ خدا کے بندو لیگ میں ہی شامل ہوئے تھے، دائرہ اسلام سے تو خارج نہیں ہو گئے تھے۔
تو کیا اب اس ملک میں جنازوں کی صف بندی سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ مرنے والا، انقلاب کے ہراول دستے کا نومولود نونہال تھا یا ن لیگ اور کسی دوسری جماعت کا تھا؟
کیا تعزیت اور کلمہ خیر سے پہلے اب کفن اٹھا کر تسلی کی جائے گی کہ مرحوم ہمارے ہی سونامی کا قتیل تھا یا کسی دوسری صف میں کھڑا تھا؟ زہر کا یہ سونامی اگر تھما نہیں تو وہ وقت قریب ہے جب شہروں میں الگ سے کچھ قبرستان بننے لگ جائیں گے اور باہر لکھا ہو گا، ہمارے نونہالوں کے علاوہ، سب کی تدفین منع ہے، ان کا یہاں سے گزرنا بھی منع ہے؟
نفرت کے اس زہر نے دوستیوں کو چاٹ لیا، گھروں کا ماحول آلودہ کر دیا، سالوں پرانے تعلقات اس سونامی میں غرق ہو گئے۔ کچھ بانکے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس روئے زمین پر عزت سے زندہ رہنے کا حق صرف ان کو حاصل ہے جو دبستان ڈی چوک سے فارغ التحصیل ہیں۔
ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، میرے جیسے آدمی کے لیے ان جماعتوں میں کچھ نہیں رہا۔ معاشرہ آگے بڑھ گیا ہے اور یہ پیچھے رہ گئی ہیں۔لیکن میں وحشت اور زہر کے عمل کی حمایت نہیں کر سکتاجو اب لاشوں کونوچنے کی حد تک آچکا ہے۔
بات مسلم لیگ کی نہیں، نہ ہی میں اس کا درباری ہوں کہ اس کا مقدمہ پیش کروں۔ شاید ہی کوئی ایسا وفاقی وزیر ہو جس سے میرا کوئی تعلق خاطر ہو یا جس سے میں نے ایک روپے کی بھی کوئی فیور لی ہو۔ نہ اس کی خواہش ہے۔ دعا ہے اللہ دربار سے بے نیاز ہی رکھے۔
یہاں مگر بات معاشرے کی اخلاقی اور سماجی قدروں کی ہے۔ محض اس لیے آپ کسی کے لاشے پر زہر تھوکنا شروع کر دیں کہ اس کا تعلق آپ کے سیاسی دیوتا کے پجاریوں میں سے نہیں تھا تو اس رویے کو کوئی ذی شعور قبول نہیں کر سکتا۔
کلٹ کی اس زومبی اخلاقیات کے خلاف اس سماج کو بولنا ہو گا۔ ورنہ یہاں اب کسی کے لاشوں کو بھی امان نہیں۔ یہاں نہ کوئی سیاسی جماعت شیطان کا گروہ ہے اور نہ ہی کوئی نیک پاک متقی رجال کار پر مشتمل ہے کہ ایک کے حامی تو اعلی درجے کی مخلوق قرار پائیں اور دوسروں کے لاشوں پر بھی زہر تھوکا جائے۔
اہل قلم پہلے بھی سیاست میں آئے، عرفان صدیقی اس کی اکلوتی مثال نہیں تھے۔ یہاں تو لشکر وں کے لشکر پھر رہے ہیں جنہوں نے صحافت کا تعارف تو تکلف کے طور پر ہی رکھا ہوا ہے، عملا تو وہ ایک سیاسی گروہ کے پیادے ہیں۔ اس کے لیے حد سے گزر جاتے ہیں۔ ایک انتہا پر کھڑے ہیں۔ جھوٹ کو بطور پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اپنی اور دوسروں کی عزت سے یکساں بے نیاز ہیں۔ یہاں تک کہ ریاست پر بھی گاہے پل پڑتے ہیں۔ اخلاقی اعتبار سے پست۔فکری وجاہت سے تہی دست، حفظ مراتب سے یکسر محروم۔
عرفان صدیقی کالم نگار تھے۔ کتنے ہیں جو ان جیسا لکھ سکتے تھے یا آج بھی لکھ سکتے ہیں۔
وہ سیاست میں چلے گئے تو کون سا جرم کر لیا گیا؟ عمران خان کی بجائے ان کا انتخاب نواز شریف تھے تو یہ کون سا ایسا جرم ہے کہ لوگوں کی آنکھ سے حیا ہی اٹھ جائے۔یوں اٹھ جائے کہ کفن اوڑھے شخص کو بھی سینگوں پر لے لیا جائے۔
عرفان صدیقی سینیٹر بنے تو کتنے سینیٹر ہیں جو ان جیسے نجیب اور نستعلیق ہیں۔ وہ جس رنگ میں جیے، تہذیبی رچاؤ کے ساتھ جیے۔ مسلم لیگ ن کا حصہ بنے تو پھر مشرف کے دور میں ہم خیال نہیں ہوئے ، پورے قد کے ساتھ مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے رہے۔
رہ گئے اختلافات تو وہ ہوتے ہیں، مجھے بھی ان کی سیاسی تصور نے کبھی قائل نہیں کیا۔ لیکن یہ میری رائے ہے۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مجھے یہ حق کس نے دیا ہے کہ میں اپنی رائے کو کوڑا بنا لوں۔
کسی کو عرفان صدیقی سے کسی بھی درجے میں اختلاف رہا ہو تو یہ فطری سی بات ہے لیکن یہ کیسی بد بختی اور کیسا جنون ہے کہ جب کسی شخص کا سفر آخرت ہو وہاں سیاسی تعبیر کے اختلاف کی بنیاد پر سارا ماحول آلودہ کر دیا جائے۔ یہ سماج ایسا سیاہ بخت تو کبھی نہ تھا۔ ایسے مواقع پر تو روایتی تہذیبی اصول یہ ہے کہ جانے والے کے لیے کلمہ خیر نہ کہو تو خاموش رہو۔ یہاں تو تدفین سے پہلے لوگوں نے تعفن اگل دیے۔
عرفان صدیقی صاحب سے چند ہی ملاقاتیں رہیں، سرسری سی۔ ایک بار جناب خورشید ندیم کے ہاں اور چند بار جناب سردار خان نیازی کے دفتر میں۔ میں نے انہیں ایک شریف النفس اور وضعدار انسان پایا۔ شائستہ اور باوقار۔
خدا ان کی قبر کو منور کرے۔ وہ ایسے موسموں میں جدا ہوئے جب درختوں کے ہاتھ ہی خالی نہیں ہیں ، ان کی شاخوں پر بد زبانی اور بد اخلاقی کا آسیب بھی اتر چکا ہے۔
محسوس یہ ہوتا ہے کہ عرفان صدیقی صاحب کے ساتھ ہی ہماری تہذیبی قدریں بھی مر گئیں۔
اب گلیوں میں زومبی پھر رہے ہیں ۔