بلوچستان پاکستان کا سب سے وسیع مگر سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ ہے، جہاں فاصلوں کی طوالت، بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی اور سماجی محرومیاں پہلے ہی عوام کی زندگی کو مشکل بنائے رکھتی ہیں۔ ایسے ماحول میں انٹرنیٹ عام سہولت نہیں بلکہ تعلیم، صحت، کاروبار، معلومات اور رابطے کا واحد ذریعہ ہے، جس نے لوگوں کو ملک اور دنیا کے ساتھ جوڑا ہوا ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے سیکیورٹی خدشات کے نام پر بار بار انٹرنیٹ بند ہونا اس صوبے کے لیے ایک شدید نوعیت کا اجتماعی بحران بن چکا ہے جو ہر شعبے کو یکساں متاثر کرتا ہے اور معاشرتی نظام پر سنگین اثر ڈال رہا ہے۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بلوچستان میں انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے جس کی بڑی مثال اگست 2025 کا طویل بلیک آؤٹ ہے جب پورے بلوچستان میں انٹرنیٹ معطل رہا۔ اور اب بھی اسے ایک ہفتے کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہ صرف دو بار نہیں ہوا بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک حساس علاقے کی وجہ سے پورے صوبے کا انٹرنیٹ بند کر دیا جاتا ہے۔حقیقت میں ہونا تو یہ چاہیے کہ صرف اسی مخصوص علاقے کا انٹرنیٹ بند کیا جائے کیونکہ جب پورے صوبے کی سروس معطل کر دی جاتی ہے تو پورا صوبہ ان بڑی مشکلات سے دوچار ہو جاتا ہے۔
جب انٹرنیٹ بند ہوتا ہے تو بلوچستان میں زندگی کا ہر شعبہ یک دم رک جاتا ہے۔ لوگ پہلے ہی بنیادی سہوليات سے محروم ہیں اور ان کے پاس جدید دنیا سے جڑنے کا واحد پل یہی ڈیجیٹل رابطہ ہے۔ بندش کے بعد اضلاع، تحصیلوں اور دور دراز دیہاتوں میں شہری مکمل معلوماتی تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں گویا جدید دور میں ایک قدیم خاموشی ان پر مسلط ہو جاتی ہے۔ نوجوان نسل کے حوصلے پست هونے لگتے ہیں، کاروباری مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور تعلیمی ترقی کے امکانات شدید نقصان اٹھاتے ہیں۔
تعلیم سب سے پہلا شعبہ ہے جو اس صورتحال میں شدید متاثر ہوتا ہے۔ آن لائن لیکچرز، ای لرننگ مواد، اسائنمنٹس، اسکالرشپ اپلیکیشنز اور داخلہ فارم سب کچھ انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔ بلوچستان کے ہزاروں طلبہ جو پہلے ہی سہوليات کی کمی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ہر بندش کے ساتھ کئی قدم پیچھے دھکیل دیے جاتے ہیں۔ استاد اور والدین بھی اسی مسئلے سے دوچار رہتے ہیں کیونکہ وہ بچوں کی پیشرفت مانیٹر نہیں کر پاتے۔ اس بندش کے نتیجے میں تعلیمی پسماندگی مزید گہری ہو جاتی ہے اور موقعوں کی کمی بڑھتی ہے۔
صحت کا نظام بھی اس مسئلے سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ بندش کے دوران نہ ڈاکٹر رپورٹس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، نہ مریض مشورہ لے سکتے ہیں اور نہ ہی نسخے آن لائن بن سکتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ شدید خدشات اور بے بسی کی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں یہ رکاوٹ فوری نقصان کے ساتھ ساتھ طویل المدتی اثرات بھی مرتب کرتی ہے اور عوامی اعتماد کمزور کرتی ہے۔
معاشی طور پر صورتحال اور بھی سنگین ہے۔ بلوچستان میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث ہزاروں نوجوان فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن اسٹورز اور ریموٹ جابز سے اپنا گھر چلاتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش سے ان کی کمائی مکمل طور پر رک جاتی ہے۔ کئی نوجوان جو روزانہ کے حساب سے کماتے ہیں، بندش کے ہر دن کے ساتھ ایک ہفتے کا نقصان برداشت کرتے ہیں اور پورے خاندان کی ضروریات متاثر ہوتی ہیں۔ یہ معاشرتی دباؤ غربت کے اثرات بڑھاتا ہے اور زندگی کے معیار کو کمزور کرتا ہے۔
کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوتی ہیں۔ آج کے دور میں بینکنگ ایپس، ایزی پیسہ، جاز کیش، آن لائن انوائسنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیاں معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ انٹرنیٹ بند ہوتے ہی دکاندار لین دین نہیں کر سکتے، خریدار ادائیگی نہیں کر پاتے، ہول سیل آرڈرز مکمل نہیں ہوتے، اور کاروبار کا پہیہ بے حد آہستہ ہو جاتا ہے۔ معیشت پہلے ہی کمزور ہے اور اس طرح کی رکاوٹیں اسے مزید پیچھے دھکیلتی ہیں۔ سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور مارکیٹ کی روانی متاثر ہوتی ہے۔
رابطے بند ہونا عوام کے لیے سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔ بلوچستان میں مرکزی شہروں کا آپس میں رابطہ بھی مشکل ہے، اور بہت سے گاؤں مکمل طور پر الگ تھلگ ہیں۔ ایسے میں انٹرنیٹ وہ واحد سہولت ہے جو لوگوں کو اپنے پیاروں سے جوڑتی ہے۔ بیرون ملک اور ملک کے دوسرے حصوں میں موجود افراد اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر پاتے جس سے شدید ذہنی اور جذباتی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اطلاعات تک رسائی رک جانا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خبریں، حکومتی اعلانات، موسمی صورتحال، ہدایات یا ہنگامی اطلاعات شہریوں تک نہیں پہنچتیں تو افواہیں اور غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں۔ یہی خلا خوف، غیر یقینی اور غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔ ایک باشعور معاشرے کے لیے یہ صورتحال نقصان دہ ہے، کیونکہ لوگ صحیح فیصلے نہیں کر پاتے اور معاشرتی ردعمل غیر متوقع اور نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
دلچسپ مگر تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ بندش کا اصل بوجھ صرف عوام اٹھاتے ہیں جبکہ سرکاری اداروں میں پی ٹی سی ایل یا محفوظ داخلی نیٹ ورک بدستور چلتے رہتے ہیں۔ سرکاری میٹنگز، رپورٹس، احکامات اور دفتری کارروائیاں متاثر نہیں ہوتیں، لیکن عام آدمی کا پورا نظام زندگی رک جاتا ہے۔ یہ تضاد عوام میں احساس محرومی اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ شہری محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ضروریات اور حقوق ثانوی ہیں جبکہ سرکاری مشینری معمول کے مطابق چلتی ہے۔
عام شہری جو روزانہ کی بنیاد پر کماتے ہیں وہ اس بندش کے دوران شدید مالی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ دکاندار، ٹیکسی ڈرائیور، آن لائن کام کرنے والا نوجوان یا گھر چلانے والی خاتون سب اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں گھروں کے چولہے سرد پڑ جاتے ہیں، کھانے کی فراہمی رک جاتی ہے اور بنیادی ضروریات متاثر ہوتی ہیں۔ ہر بندش کے بعد زندگی کی روانی رک جاتی ہے اور کمیونٹی معاشرتی دباؤ کا شکار ہوتی ہے۔
اگر حکومت کی بات مان لی جائے کہ انٹرنیٹ کے ذريعہ دہشت گردی کے امکانات ہیں تو دہشت گرد تنظیموں کے پاس جدید، خفیہ اور محفوظ ذرائع مواصلات ہوتے ہیں جن میں سیٹلائٹ فون، انکرپٹڈ چینلز اور مقامی سہولت کار شامل ہیں، اور وہ ان پابندیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس بلوچستان کا عام شہری ایک معمولی کال یا پیغام کے محتاج رہ جاتا ہے۔ حکومت انٹرنیٹ بند کر کے سیکیورٹی یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اصل نقصان عام عوام کو پہنچتا ہے۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر پابندیاں مؤثر نہیں اور شہری زندگی کو بلا وجہ محدود کرنا غیر منطقی ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت حساس علاقوں میں Geo-Fencing، مشکوک افراد کی سمارٹ مانیٹرنگ، چہرہ شناسی، AI نگرانی، سیٹلائٹ مانیٹرنگ سسٹم اور ڈیجیٹل انٹیلیجنس نیٹ ورک جیسے جدید اقدامات اپنائے۔ یہ اقدامات دہشت گردوں کے خلاف مؤثر ثابت ہوں گے اور شہری زندگی متاثر نہیں ہوگی۔ اس سے عوام کو اجتماعی سزا نہیں دی جائے گی بلکہ خطرات کو ہدفی انداز میں کنٹرول کیا جائے گا۔
بلوچستان کے عوام پہلے ہی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں۔ اگر سڑکیں، اسپتال، تعلیمی ادارے اور معاشی مواقع کم ہیں، تو انٹرنیٹ وہ واحد سہولت تھی جس نے انہیں دنیا سے جوڑا رکھا تھا۔ اس کا بار بار چھن جانا معاشی اور تعلیمی تباہی کے ساتھ ساتھ عوام میں احساس محرومی پیدا کرتا ہے جوکہ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ اب وقت ہے کہ حکومت جدید سیکیورٹی نظام اپنائے، غیر ضروری بندشیں ختم کرے اور عوام کو وہ سہولیات فراہم کرے جن کا وہ حق رکھتے ہیں تاکہ بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور عوام کی زندگی میں روشنی واپس آئےکیونکہ ہمارے وطن کے لیے امن ضروری ہے، مگر امن کے لیے ایسے اقدامات ہونے چاہئیں جن سے مستقل امن بھی قائم ہو جائے اور عوام بھی بڑے مسائل اور تکلیف سے بچ جائیں۔ کیونکہ حکومت کی امن کی کوششیں بھی عوام ہی کے لیے ہوتی ہیں، اور یہ سہولتیں بھی عوام ہی کے مفاد کے لیے ہوتی ہیں تو عوام کو ان سے محروم نہیں کرنا چاہيئے کیونکہ یہی انصاف کا تقاضا ہے۔