زندگی برائے فروخت

ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں زندگی اب ایک ذاتی ملکیت نہیں رہی بلکہ ایک ایسی شے بن چکی ہے جو بازارِ سماج میں فروخت کے لیے رکھی گئی ہے۔ ہم سانس تو ضرور لیتے ہیں، مگر جیتے دوسروں کے خوابوں اور توقعات میں ہیں۔ ہماری سوچ، ہمارے فیصلے، ہماری خواہشیں—سب کچھ اس سماجی مشینری کا نتیجہ ہے جس نے ہمیں اس طرح پروگرم کیا ہے کہ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہو گئے ہیں کہ ہماری حقیقت کیا ہے اور ہمارا اصل چہرہ کون سا ہے۔ آج کا انسان باہر سے مکمل دکھائی دیتا ہے، لیکن اندر سے کھوکھلا، منتشر اور بے سمت ہے۔

نطشے نے انسان کو خبردار کیا تھا کہ وہ “گلہ بان کے بغیر بھیڑ کی زندگی” سے نکلے—یعنی سماج کی بھیڑچال سے آزاد ہو کر اپنی انفرادیت کو پہچانے۔ لیکن ہماری حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہم نے اپنی پوری زندگی ایسے اصولوں پر تعمیر کی ہے جو ہمارے نہیں بلکہ معاشرے، خاندان، روایت اور ثقافتی دباؤ نے ہمارے ذہن میں ٹھونس دیے ہیں۔ ہم وہی کام کرتے ہیں جو “منظور شدہ” ہیں، وہی خواب دیکھتے ہیں جو “اچھے” سمجھے جاتے ہیں، اور وہی راستے اپناتے ہیں جن پر چلنا “ذمہ دار انسان” کی علامت مانا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے وجود میں تبدیل ہو گئے ہیں جو زندہ تو ہے مگر زندہ اپنے لیے نہیں—زندہ صرف بیچنے کے لیے۔

دوستوئیفسکی نے کہا تھا کہ انسان اپنی تباہی کا سبب خود بنتا ہے۔ اس کی تحریروں میں بارہا یہ احساس جھلکتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو “بے وجہ برباد کر ڈالا” — یعنی ہم نے اپنی اصل روح کو کھو کر ایسی چیزیں اختیار کیں جن کا نہ کوئی ذاتی فائدہ تھا، نہ کوئی روحانی سکون۔ ہم آج بھی یہی کر رہے ہیں: کامیابی کی ایسی دوڑ میں بھاگ رہے ہیں جو ہماری اپنی نہیں، خواہشات ایسی پوری کر رہے ہیں جو ہماری نہیں، اور دکھ ایسے سہہ رہے ہیں جو ہم نے خود اپنے اوپر مسلط کیے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہماری پوری زندگی پر کسی اور کا قبضہ ہے، اور ہم اپنی ہی زندگی کے بغیر تنخواہ غلام ہیں۔

سماج نے ہمیں یہ یقین دلایا ہے کہ خوشی مخصوص سانچوں میں ڈھلی ہوئی ہے: اچھی نوکری، بڑا گھر، خوبصورت رشتے، اور ایک مثالی سوشل امیج۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم ان سب کو پا بھی لیتے ہیں تو اندر سے خالی ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے وہ سفر کیا ہی نہیں جو اندر کی آواز نے ہمیں کرنے کو کہا تھا۔ ہم نے وہ سارے راستے چنے جو ہمیں دکھائے گئے، مگر وہ ایک راستہ چھوڑ دیا جو ہمارے اندر سے ابھرتا تھا۔ ہم نے اپنی روح کو خاموش کیا، اپنے دماغ کو قید کیا، اور اپنے دل کو نظر انداز کیا—اور یہ سب ہم نے اس لیے کیا کہ سماج نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ یہی “بہترین زندگی” ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سماج ایک بہت بڑا سوداگر ہے۔ وہ ہماری معصومیت، ہماری خواہشات، ہمارے خواب اور ہماری حقیقت سب خرید لیتا ہے، اور اس کے بدلے میں ہمیں ایک مصنوعی شناخت دے دیتا ہے۔ ہم وہ کپڑے پہنتے ہیں جو ہمیں دکھائے جاتے ہیں، وہ نظریات اپناتے ہیں جو ہمیں سکھائے جاتے ہیں، وہ تعلقات بناتے ہیں جن کی اجازت ملتی ہے، اور وہ زندگیاں گزارتے ہیں جو دوسروں کو قابلِ قبول ہوں۔ ہم نے اپنے اندر کے انسان کو بیچ دیا—صرف اس لیے کہ “لوگ کیا کہیں گے”۔

نطشے نے “اوورمین“ یعنی خود کو تخلیق کرنے والے انسان کی بات کی تھی۔ مگر ہم نے اس کا الٹ کیا: ہم نے خود کو مٹا کر ایک اجتماعی کردار بنا لیا۔ ہم اپنی ناپسندیدہ نوکریاں کرتے ہیں، گھٹن زدہ رشتوں میں رہتے ہیں، غلط دوستیاں نبھاتے ہیں، اور ایسے خواب پالتے ہیں جن میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔ ہم نے اپنی پوری ذات ایک ایسے بازار میں رکھ دی ہے جہاں قیمت کا تعین بھی ہم خود نہیں کرتے—ہمارے لیے لوگ کرتے ہیں۔

سماج کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ ہمیں “آزاد” کہتا ہے، مگر ہر چیز میں پابند کر دیتا ہے۔ ہماری گفتگو سے لے کر ہماری ہنسی تک سب کو قبولیت کے ترازو میں تولتا ہے۔ ہم سوچ بھی وہی سکتے ہیں جو قابلِ قبول ہو، اور محسوس بھی وہی کر سکتے ہیں جو جائز ہو۔ ہم ایک ایسا تماشا بن چکے ہیں جہاں ہر کردار مقرر ہے اور اصل ہستی کہیں غائب ہو گئی ہے۔

زندگی برائے فروخت صرف ایک عنوان نہیں بلکہ ہمارے دور کا المیہ ہے۔ ہم اپنے وقت کو بیچتے ہیں، اپنی محنت کو بیچتے ہیں، اپنے احساسات کو بھی بیچ دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہم اپنی مسکراہٹیں بیچتے ہیں، اپنی کامیابیاں بیچتے ہیں، حتیٰ کہ اپنی اداسی بھی بیچ دیتے ہیں تاکہ لائکس، فالورز اور توجہ کے سکے ہمیں تھوڑا سا تسکین دے سکیں۔ لیکن یہ سکون لمحاتی ہے، اور اس لمحاتی سکون کے پیچھے ہم اپنی اصل خوشی ہمیشہ کے لیے قربان کر دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی اپنی زندگی واپس خرید سکیں گے؟ کیا ہم کبھی اپنے اندر کی آواز کو دوبارہ سن سکیں گے؟ کیا وہ بچہ جو کبھی خواب دیکھتا تھا، آج بھی کہیں موجود ہے؟ یا وہ بھی سماج کے شور میں ڈوب کر مر گیا ہے؟

اگر ہمیں واقعی آزاد ہونا ہے تو سب سے پہلے ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم نے اپنی زندگی دوسروں کے حوالے کر دی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم نے اپنی اصل کو گم کر دیا ہے۔ اور پھر ہمیں ہمت کر کے وہ سب کچھ واپس لینا ہوگا جو ہم نے سماجی دباؤ کے ہاتھوں کھو دیا ہے۔ زندگی کو دوبارہ حاصل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم مانیں کہ یہ زندگی ہماری ہے—صرف ہماری۔

جب تک ہم اپنے خواب خود نہیں چنیں گے، اپنی راہیں خود نہیں بنائیں گے، اپنی خواہشات خود نہیں تراشیں گے—ہم زندہ تو رہیں گے مگر اپنی زندگی میں نہیں، دوسروں کی زندگی میں۔ ہم سانس تو لیتے رہیں گے مگر ہمارا وجود خاموش اور بے معنی ہوتا جائے گا۔

زندگی برائے فروخت ہے، لیکن وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے واپس خرید لیں—اپنے لیے، اپنی روح کے لیے، اپنی حقیقت کے لیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے