ہمارا اخلاقی بحران اور اجتماعی رویوں کا بکھرا ہوا منظر

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں، اسے علم اور معلومات کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ چند سیکنڈ میں دنیا بھر کی خبریں، آراء، تجربات اور بیانات ہماری نظروں کے سامنے ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جتنی تیزی سے معلومات عام ہوئی ہیں، اتنی ہی تیزی سے اخلاقی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ سچ کی جگہ مفروضات، تحقیق کی جگہ جذبات اور برداشت کی جگہ فیصلہ سازی نے لے لی ہے۔ یہی وہ اخلاقی بحران ہے جس نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

اس بحران کی جڑ محض ایک رویہ یا ایک کمزوری نہیں۔ یہ پوری سوچ کا بگاڑ ہے۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں انسان اپنے آپ کو معیار سمجھ کر دوسروں پر حکم لگانے میں مصروف رہتا ہے۔ ظاہری لباس سے لے کر مذہبی شناخت تک، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے چند سیکنڈ کے کلپ سے لے کر خاندانی اختلافات تک، ہم ہر جگہ اسی بیماری کو پھیلا ہوا دیکھتے ہیں۔

ظاہری حلیے اور لباس کے ذریعے شخصیت کا فیصلہ:

ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری حلیہ کسی شخص کے اخلاق و کردار کا پیمانہ بن چکا ہے۔
کوئی ذرا مختلف لباس پہن لے تو فوراً یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ دین سے دور یا مغرب زدہ ہے۔
کوئی نوجوان جینز اور ٹی شرٹ میں ہو تو اسے غیر سنجیدہ یا غیر ذمہ دار سمجھ لیا جاتا ہے۔
کوئی عورت جدید انداز میں لباس پہنے تو اس کے بارے میں طرح طرح کے قیاس پیدا ہو جاتے ہیں۔

یہ رجحان صرف غلط نہیں، خطرناک بھی ہے۔ کیونکہ یہ انسان کو اس کی شخصیت کے بجائے اس کے ظاہری خول میں قید کر دیتا ہے۔
دین کی اصل تعلیم یہ ہے کہ فیصلہ ظاہری چیزوں پر نہ کیا جائے بلکہ دلوں کے حال اللہ کے سپرد کیے جائیں۔
لیکن ہم نے اس نرمی اور وسعت کو چھوڑ کر جلد بازی اور لیبلنگ کو اپنا لیا ہے۔

اختلاف رائے کو کفر کا درجہ دینا:

ہمارے اخلاقی بحران کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہم نے سوچنے اور اختلاف کرنے کی گنجائش ختم کر دی ہے۔
کسی کی بات ہماری سمجھ سے ہٹ کر ہو تو فوراً اس پر فتوے لگنے لگتے ہیں۔
کسی کی رائے ہم سے مختلف ہو تو ہم اسے گمراہ یا دین سے دور سمجھ لیتے ہیں۔

یہ رجحان صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں۔ محفلوں میں، گھروں میں، مذہبی گفتگو میں، یہاں تک کہ تعلیمی اداروں میں بھی یہ رویہ سرایت کر چکا ہے۔

اختلاف رائے ہمیشہ انسانی معاشروں کا حصہ رہا ہے۔
ہمارے اسلاف نے صدیوں تک علمی اختلاف کو برداشت، حکمت اور مکالمے کے ساتھ آگے بڑھایا۔
لیکن آج ہم نے اختلاف کو الزام اور الزام کو دشمنی بنا دیا ہے۔
اور سچ یہ ہے کہ جہاں دلیل کی اہمیت ختم ہو جائے وہاں تہذیب بھی ختم ہو جاتی ہے۔

بغیر تحقیق کے رائے قائم کرنا اور سوشل میڈیا کا کردار:

ہمارا معاشرہ اب تحقیق سے زیادہ تاثر پر چلتا ہے۔

کوئی ویڈیو وائرل ہو جائے تو ہم بغیر یہ دیکھے کہ وہ درست ہے یا نہیں، اس پر تنقید یا تعریف شروع کر دیتے ہیں۔
کسی کی ساکھ، کردار، عزت اور محنت صرف چند غلط جملوں کی وجہ سے پامال ہو جاتی ہے۔
کسی شخص کی بات کا صرف ایک ٹکڑا سن لیا اور پورے انسان پر فیصلہ صادر کر دیا۔

سوشل میڈیا نے ہمیں یہ عادت ڈال دی ہے کہ ہم پوری کہانی جانے بغیر رائے بنا لیتے ہیں۔
حالانکہ قرآن واضح حکم دیتا ہے کہ خبر کی تحقیق کرو، ورنہ تم کسی کو نقصان پہنچا بیٹھو گے۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم تحقیق کے بجائے جلد بازی کو عبادت کا درجہ دے بیٹھے ہیں۔

حسن ظن کی کمی اور بدگمانی کا بڑھتا رجحان:

ہمارے معاشرے میں ایک اور تکلیف دہ تبدیلی یہ آئی ہے کہ ہم نے حسن ظن کو کمزور اور بدگمانی کو طاقتور بنا دیا ہے۔
ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کوئی شخص غلطی سے بھی کچھ کہہ سکتا ہے، وہ حالات کا شکار بھی ہو سکتا ہے، وہ بدل بھی سکتا ہے۔
ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ کسی کے بارے میں اچھا گمان کرنا انسان کے اخلاق کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

بدگمانی معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہے۔

یہ انسان کو تنہا کرتی ہے، رشتوں کو توڑتی ہے، اور معاشرے کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔
جبکہ حسن ظن لوگوں کو قریب لاتا ہے، گفتگو کو بہتر بناتا ہے اور غلط فہمیوں کا خاتمہ کرتا ہے۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اخلاقی بحران کا حل قانون سے زیادہ رویے، طرزِ گفتگو اور اجتماعی تربیت میں چھپا ہوا ہے۔
ہمیں چند بنیادی باتوں پر واپس آنا ہوگا۔

• تحقیق کے بغیر رائے نہ دیں

تحقیق میں وقت لگتا ہے، مگر یہ وقت عزتیں بچاتا ہے۔

• گفتگو میں نرمی رکھیں

سخت جملے دوسروں کو نہیں، خود ہمیں چھوٹا کرتے ہیں۔

• لوگوں پر لیبل نہ لگائیں

انسان ایک کتاب نہیں جسے ظاہری کور سے سمجھ لیا جائے۔

• اختلاف کو برداشت کریں

علم اور تہذیب وہیں پھلتی ہیں جہاں مکالمہ زندہ ہوتا ہے۔

• بغیر ثبوت کے کسی پر زبان نہ کھولیں

یہ اخلاقی اور دینی دونوں اعتبار سے جرم ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں گفتگو بہت ہے مگر سوچ کم، معلومات زیادہ ہیں مگر بصیرت کم، فیصلے تیز ہیں مگر انصاف کم۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بہتر ہو تو ہمیں اپنی اصلاح سے آغاز کرنا ہوگا۔
اپنے لفظوں میں نرمی لانی ہوگی۔
اپنے فیصلوں میں احتیاط کرنی ہوگی۔

اور سب سے بڑھ کر دوسروں کے لیے وہ آسانی سوچنی ہوگی جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔

یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس اخلاقی بحران سے نکال سکتا ہے۔
اسی راستے پر واپس جانے میں ہی ہمارے معاشرے کی بقا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے