یارِ محمد

میں علمِ سیاسیات کا طالب علم ہوں، گزشتہ بیس سالوں سے پاکستان کی سیاست بالعموم اور گلگت بلتستان کی سیاست کا بالخصوص جائزہ لیتا آ رہا ہوں۔ معاشرے کے نشیب و فراز، اقتدار کی کرسی کے گرد ہونے والی کشمکش، اور طاقت کے مختلف مراکز کے طرزِ عمل پر نظر رکھنا میری عادت اور دلچسپی کا حصہ بن چکا ہے۔ اور گاہے اس پر لکھتا رہتا ہوں۔

گزشتہ ایک ماہ سے گلگت بلتستان کے نگران وزیر اعلیٰ اور اس پورے عمل تشکیل کے حوالے سے اتنا کچھ سننے اور سوشل میڈیا پر اتنا متنوع پڑھنے کو ملا کہ بندہ کسی حتمی تجزیہ و تحلیل سے قاصر نظر آتا تھا۔ میں نے بھی اس پر لکھنی کی کوشش نہیں کی، ہر شخص ایک نیا نام لے کر آتا، ہر حلقے میں کوئی نیا دعویٰ سننے کو ملتا، اور ہر خبر اگلی خبر کی تردید بن جاتی۔

بہت سارے لوگوں کے نگران وزیر اعلیٰ کے "فائنل” ہونے کی باتیں سنیں، مگر پھر آخری رات اچانک یار محمد صاحب کا نام گردش کرنے لگا۔ میرے ساتھ ان کا ایک قریبی آدمی پروفیسر ارشاد احمد شاہ موجود تھے، ہم آپس میں اس پر بات کرنے لگے۔ چونکہ بظاہر نہ یار محمد صاحب کا نام ڈسکس ہو رہا تھا اور نہ ہی ان کے بارے میں کسی قابل ذکر خبر کا چرچا تھا۔ بہت ساری وکٹیں آؤٹ ہو کر آخرکار یار محمد صاحب فائنل ہو گئے۔

میں اور پروفیسر ارشاد احمد شاہ اس نتیجے پر پہنچے کہ بیشک یار محمد صاحب کسی تگڑی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ روپے بانٹ کر سی ایم بنیں گے۔ اگر وہ بن بھی گئے تو صرف اور صرف اپنی خدا ترسی، اصول پسندی اور انسان دوست کی وجہ سے بنیں گے۔

ان کی کچھ نیکیوں کے حوالے سے مجھے بھی کچھ معلومات تھیں، اور بہت سارے نیک کاموں، عبادات، وظائف اور اصول پسندی کے متعلق شاہ صاحب نے بھی مجھے آگاہ کیا۔ میں نے عرض کیا کہ یار محمد صاحب کی یہی چھوٹی چھوٹی نیکیاں، یہی اخلاص، یہی تہجد گزاری اور یہی بے لوث اعمال انہیں اس اعزاز سے نواز کر ہی دم لیں گے۔ اللہ کے ہاں یہ تمام عبادات، اور حضرتِ انسان کے ساتھ کی جانے والی ہر نیکی، ایک ایک لفظ اور عمل کی صورت میں "کوڈ” ہوتی ہیں، جو وقت آنے پر انسان کی تقدیر کا راستہ خود ہموار کر دیتی ہیں۔

ارشاد شاہ صاحب نے کہا کہ وہ تو معجزاتی طور پر جسٹس بنے تھے، ورنہ زمین کے خود ساختہ خداؤں نے انہیں جسٹس بنانے سے روکنے کی پوری کوشش کی تھی، مگر اللہ نے انہیں بنا دیا۔ اور اب کی بار بھی جو انہیں یہ اعلیٰ اعزاز ملا ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ اللہ کی خاص عنایت اور اس کی رضا کی ایک جھلک ہے۔

ویسے کتنا خوبصورت نام ہے نا ” یار محمد ” یعنی رسولِ اکرم ﷺ کا دوست۔
اور اگر کوئی یار محمد صاحب سے واقعی واقف ہے تو وہ خوب جانتا ہوگا کہ وہ اسم بامسمیٰ ہیں، اپنے نام کی طرح نرم خو، خدا ترس، منکسر المزاج اور اصول پسند….۔

کبھی کبھی تاریخ بڑے بڑے نعروں، دولت اور طاقت سے نہیں بنتی، بلکہ چھوٹی چھوٹی نیکیوں، خاموش سجدوں اور سچے دلوں کی دعاؤں سے رقم ہوتی ہے…. اور شاید یار محمد صاحب کا نام بھی انہی سطروں میں لکھا جا چکا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے