صحافت بطور فعالیت

جدید معاشروں میں صحافت کو عموماً معروضیت، غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ لاتعلقی کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ اصول، اگرچہ اہم ہیں، ایک بنیادی حقیقت کو اوجھل کر دیتے ہیں: صحافت ہمیشہ سے فعالیت (activism) کی ایک صورت رہی ہے۔ اپنی اصل میں صحافت ایک اخلاقی اور سیاسی عمل ہے۔ یہ ایک شعوری مداخلت ہے جو طاقت کو چیلنج کرتی ہے، دبی ہوئی آوازوں کو ابھارتی ہے، اور اجتماعی شعور کو تشکیل دیتی ہے۔ خبر دینا دراصل ایک مؤقف اختیار کرنا ہے اور اسے شائع کرنا تبدیلی کو فعال بنانا ہے۔ اس لیے ”صحافت فعالیت ہے“ کا دعویٰ اشتعال نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ حقیقی صحافت ہمیشہ کیا کرتی آئی ہے۔

اسی طرح صحافت کو دانشوری اور فلسفیانہ فکر سے بھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کئی بڑے دانشور، مثلاً کارل مارکس، فریڈرک اینگلز، جارج آرویل، البیر کامو، ژاں پال سارتر، انتونیو گرامشی، ہنّا آرنٹ، ایڈورڈ سعیدیا بر صغیر میں مولانا مودودی، مولانا آزاد، مولانا جوہر، سر سید احمد خان، اقبال احمد اور فیض احمد فیض بہ یک وقت فعال کارکن، فکری رہنما اور صحافی بھی رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور رپورٹنگ کے ذریعے طاقت کے ڈھانچوں کو چیلنج کیا، جبر کے خلاف آواز بلند کی، نوآبادیاتی اور آمرانہ بیانیوں کی تہیں کھولیں اور سماج کو نئے فکری زاویے فراہم کیے۔ ان کی صحافت محض خبر رسانی نہیں تھی بلکہ فکری مزاحمت، اخلاقی استقامت اور عوام کے حقِ سچ کی حفاظت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فکری وراثت آج بھی صحافت کو ایک فکری اور اخلاقی مشن کی حیثیت دیتی ہے۔

صحافت کی یہ فعالی روح سب سے زیادہ اس کے طاقت اور اقتدار کے ساتھ تعلق میں نمایاں ہوتی ہے۔ بدعنوانی کی کھوج، ریاستی زیادتیوں کی نقاب کشائی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویز بندی، یا غالب بیانیوں پر سوال اٹھانا؛ یہ سب بذاتِ خود مزاحمتی اعمال ہیں۔ سرگرم کارکن کی طرح صحافی بھی طاقتور طبقوں کی آسائش کو اس بات سے متاثر کرتا ہے کہ وہ کیا چھپانا چاہتے ہیں۔ صحافی نعروں سے نہیں بلکہ ثبوت سے بات کرتا ہے اور یوں وہ اس جدوجہد میں شامل ہوتا ہے جو سماجی فعالیت کے متوازی چلتی ہے۔ دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشرہ سچ جاننے کا حق رکھتا ہے، خواہ وہ سچ طاقتوروں کے لیے کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ اس طرح صحافت صرف سماج کے سامنے آئینہ نہیں رکھتی بلکہ ظلم کو قائم رکھنے والے ڈھانچوں پر ایک تیز روشنی ڈالتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ صحافت کو فعالیت کے طور پر دیکھنا درستگی یا عدل سے انحراف نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس غلط تصور کو مسترد کیا جائے کہ ظلم کے سامنے غیر جانب دار رہنا ممکن ہے۔ صحافت کو غیر جانب داری کی نہیں بلکہ دیانت کی ضرورت ہے۔ صحافی کو تحقیق میں سخت گیر، طریقۂ کار میں شفاف اور فیصلے میں متوازن ہونا چاہیے مگر اسے یہ دکھاوا نہیں کرنا چاہیے کہ طاقت کے ان دائروں میں ہر فریق اخلاقی طور پر یکساں وزن رکھتا ہے۔ ظلم کے مقابلے میں لاتعلقی صحافتی دیانت نہیں؛ یہ ظلم کے ساتھ شراکت داری ہے۔ جرأت، وضاحت اور ذمہ داری پر مبنی صحافت ہی سچائی کو طاقت دیتی ہے اور معاشرے کو بدلتی ہے۔

صحافت اور فعالیت کا ہدف مشترک ہے۔ یعنی معاشرے کو زیادہ منصفانہ، زیادہ باخبر اور زیادہ انسانی بنانا۔ صحافت فعالیت تب بنتی ہے جب وہ اپنے اصولوں سے روگردانی نہیں کرتی بلکہ انہیں پوری طرح اپناتی ہے۔ جب وہ پہچانتی ہے کہ سچ خود ایک مزاحمت ہے، کہ دکھوں اور ناانصافیوں کی دستاویز بندی یکجہتی کا عمل ہے اور طاقت کو چیلنج کرنا ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ ایسے زمانے میں جب آوازیں دبائی جاتی ہیں، ماحول تباہ ہو رہا ہے اور تاریخوں کو توڑا مروڑا جا رہا ہے صحافت شہری فعالیت کا ایک طاقتور ترین ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ آگاہ کرتی ہے، بے چین کرتی ہے، متحرک کرتی ہے اور امید زندہ رکھتی ہے۔

لہٰذا صحافت کرنا عوام کے ساتھ کھڑے ہونا، کمزوروں کا دفاع کرنا اور ایک زیادہ منصفانہ مستقبل کے راستے کو روشن کرنا ہے۔ یہی جرأت اس کا فعال دل ہے۔
ایک صحافی، بالکل ایک سرگرم کارکن کی طرح، اپنے فیصلوں میں غلط بھی ہو سکتا ہے۔ وہ نادانستہ طور پر عالمی پروپیگنڈے کا شکار بھی ہو سکتا ہے کیونکہ پوسٹ ٹرتھ، مقبولیت پسندی اور فریب کاری کے اس دور میں اصل محرکات دھندلے پڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح فعال جذبے کے زیرِ اثر کبھی وہ کسی خبر کو جذباتی عدسے سے دیکھ سکتا ہے۔ یہ فیصلہ سازی کی غلطی ہے، بددیانتی نہیں۔

فیاض ظفر سوات کے ایک معروف صحافی ہیں۔ وہ دو دہائیوں سے زائد مختلف میڈیا اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور شاید سوات کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے صحافی ہیں۔ وہ اپنی تحقیق، تجزیے یا رپورٹنگ میں غلط بھی ہو سکتے ہیں مگر سوات کے لیے ان کی فعالیت اور وابستگی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف کچھ ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں لوگ انہیں کھلے عام دھمکیاں دیتے ہیں۔ ایسا کسی ان کی طرف سے کسی تعلیمی ادارے میں ایک موسیقی کے پروگرام کی حمایت پر کیا جاتا ہے اور اب کئی افراد الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے مذہبی علماء کو دہشت گرد کہا ہے۔

اس طرح کے تصادم کوئی نئی بات نہیں نہ ہی یہ غیر معمولی خبر ہے۔ ایسے تنازعات گلی کوچوں، بازاروں اور محلوں میں ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ مگر دل آزاری تب ہوتی ہے جب ایک پورا گروہ ایک فرد کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ اسے کھلے عام دھمکیاں دیتا ہے اور ریاستی قانون تماشائی بنا خاموش بیٹھا رہتا ہے۔ اتنا ہی تکلیف دہ کردار ان صحافیوں کا ہے جو صرف ذاتی رنجشیں نکالنے یا پرانے حساب برابر کرنے کے لیے اس ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے