ایمان اور شہریت: پاکستان کی شہری شناخت کی قرآنی بنیاد

(ریڈیو پاکستان….. خصوصی نشریہ)

یہ ریڈیو پاکستان ہے…میں ہوں امیرجان حقانی، اور آج کے پروگرام میں ہم بات کریں گے ایک نہایت اہم اور بنیادی موضوع پر:
"ایمان اور شہریت: پاکستان کی شہری شناخت کی قرآنی بنیاد”

پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے۔ ایک ایسا نظریہ جس کی بنیاد ایمان، عدل اور مساوات پر رکھی گئی تھی۔ اس ملک کا خواب ایک ایسی سرزمین کا تھا جہاں قانون اور اخلاق، دین اور دستور، اور فرد اور ریاست کے حقوق باہم جڑے ہوں۔

سامعین محترم!

قرآن کریم ہمیں اتحاد کا پیغام دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے :
"اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو” (آل عمران: 103)

محترم سامعین

اللہ رب العزت کابیہ حکم صرف مذہبی نصیحت نہیں، بلکہ ایک قومی ضابطہ ہے، جو ہمیں باہمی اختلافات سے اوپر اٹھ کر وحدت کا راستہ اختیار کرنے کا پیغام دیتا ہے۔

ایمان اور آئین ایک دوسرے کے مقابل نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ دونوں کا مقصد انصاف، امن اور انسانی وقار کا تحفظ ہے۔ حقیقی اسلامی شہریت کا مطلب غصہ، نفرت یا انتقام نہیں، بلکہ رحمت، عدل اور خدمتِ خلق ہے۔

نبی کریم ﷺ نے میثاقِ مدینہ کے ذریعے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جہاں مختلف مذاہب اور قبائل کے لوگوں کو برابر کے شہری حقوق حاصل تھے۔ یہ پہلا تحریری سماجی معاہدہ تھا، جو آج بھی پاکستان کے آئینی نظام کے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں قانون کی بالا دستی، مذہبی آزادی اور اجتماعی ذمہ داری کو بنیادی اصول مانا گیا۔

سامعین ذی وقار!

پاکستان کا ہر شہری دراصل ایک امانت دار ہے
امن کا امانت دار،
انصاف کا امانت دار،
دیانت کا امانت دار۔

قرآن ہمیں عدل کا اٹل اصول سکھاتا ہے:
"عدل پر قائم رہو، چاہے یہ خود تمہارے خلاف کیوں نہ ہو” (المائدہ: 8)
یہی وہ بنیاد ہے جس پر آئینی احتساب، شفافیت اور قومی اعتماد تعمیر ہوتا ہے۔

اسلام جائز اور منظم اقتدار کی اطاعت کا حکم دیتا ہے تاکہ معاشرہ انتشار سے محفوظ رہے۔ ایسی ہر سوچ، ہر عمل اور ہر نظریہ جو بغاوت، انتشار اور بے گناہ جانوں کے نقصان کا سبب بنے، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ فرقہ واریت، نسلی برتری اور تعصب نہ صرف قرآن کی اخوت کے منافی ہیں بلکہ پاکستان کے قیام کے بنیادی فلسفے سے بھی ٹکراتے ہیں۔

ہماری اصل طاقت نعرے نہیں، بلکہ کردار ہیں۔
ہماری پہچان شور نہیں، بلکہ شعور ہے۔
اور ہماری کامیابی کا راز اتحاد و اتفاق میں ہے۔

سامعین کرام

ایک ایسی قوم جو ایمان اور قانون کے رشتے میں بندھی ہو، وہ ہر طوفان کے سامنے مضبوط دیوار بن جاتی ہے۔

پاکستان میں شہریت صرف شناختی کارڈ کا نام نہیں،
یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے،
جس میں ایمان کی سربلندی،
آئین کی پاسداری،
اور تمام انسانوں کے لیے امن کے قیام کا عہد شامل ہے۔

انہی الفاظ کیسا

مجھے اجازت دیجیے……… اللہ حافظ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے