مصر: دنیا کی ماں

مصر کو اُمُّ الدنیا کہا جاتا ہے، یعنی دنیا کی ماں۔ یہ بات سمجھنے کے لیے مصر دیکھنا تو پڑتا ہے، ورنہ کیسے سمجھ آئے کہ دنیا کی ماں کیوں کہا جاتا ہے؟

2021 کی بات ہے۔ اللہ کی توفیق سے مجھے جمال عبدالناصر فیلوشپ کے دوسرے بیچ میں منتخب ہونے کا موقع ملا۔ دنیا بھر سے سو کے قریب نوجوان مرد و حضرات منتخب ہوئے۔ اُن سو میں ناچیز بھی پاکستان کی نمائندگی کے لیے حاضر تھا۔ میں نے بھی دیر نہ لگائی، فلائٹ پکڑی اور براستہ بحرین مصر پہنچا۔

کووِڈ کا خوف زور و شور سے جاری تھا۔ دھیان نہ رہا، ماسک تھوڑی دیر ہی بحرین ہوائی اڈے پر اُترا ہی تھا کہ پہنچا ایئرپورٹ کا عملہ اور 60 دینار جُرمانہ کر دیا۔ عرب لوگ کچھ زیادہ ہی خوف زدہ ہوئے تھے کووِڈ-19 سے… ڈرنا بھی چاہیے تھا… لیکن میں پہاڑی آدمی کووِڈ سے زیادہ ماسک پہننے سے تنگ پڑ جاتا تھا۔ سانس بند ہوتی تھی۔ شکر خدا کا، کووِڈ سے جان چھوٹ گئی۔

مصر کے ایئرپورٹ پر اُترے، کووِڈ ٹیسٹ ہوا۔ الحمدللہ کووِڈ نیگیٹو آیا اور باہر آنے کی اجازت ملی۔ البتہ ایئرپورٹ پر خبر ملی کہ مجھ سے پہلے پہنچے ہوئے 7 اور منتخب شدہ پاکستانیوں میں سے ایک کو کووِڈ کی شکایت تھی۔ اُن کو قرنطینہ ہونا پڑا۔ دل بیٹھ سا گیا، مگر ٹھانی کہ مصریوں کو سمجھانا ہے کہ جو صحت مند پاکستانی ہیں، اِن کو رہا کیا جائے تاکہ وہ فیلوشپ سے استفادہ کر سکیں۔

ہوٹل پہنچنے پر پوری کوشش کی اور مصری انتظامیہ مان گئی۔ جو صحت مند پاکستانی تھے، وہ فیلوشپ کے لیے آئے ہوئے باقی ساتھیوں کے ساتھ قرنطینہ سے نکل کر شامل ہوئے۔

جمال عبدالناصر فیلوشپ مصر کی وزارتِ شباب کا ایک منفرد تربیتی سلسلہ ہے جو 2020 میں شروع ہوا ہے۔ پوری دنیا سے بذریعہ مقابلہ اور نوجوان منتخب ہوتے ہیں۔ اور مصر کی حکومت اُن کو اپنے مختلف وزارتوں اور اداروں کے ساتھ ساتھ اہم جگہوں کی سیر کراتی ہے۔ ساتھ ساتھ مباحثے ہوتے ہیں۔ مختلف وزراء اور تھنک ٹینکس کے نمائندے آتے ہیں۔ ایک اچھا تعلیمی اور تربیتی سلسلہ چلتا ہے۔ اس پروگرام میں شرکاء کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

ہمارا قیام مصر کے ایک سرکاری ہوٹل میں تھا۔ دنیا سے، بالخصوص افریقہ، لاطینی امریکہ، مرکزی ایشیا، عرب اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے وفود آئے ہوتے ہیں۔ ایسا ماحول بن گیا تھا کہ قدم قدم پر بیش قیمت معلومات کا خزانہ انسان کی ذہنی نشوونما میں اضافہ کرتا رہتا۔

پہلے دن مصر کے ڈپٹی وزیر خارجہ اور دفترِ خارجہ کے سینئر افسران سے سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ناچیز کو موقع ملا اور دل کھول کر فلسطینی بہن بھائیوں کے حق میں بات کی۔ نکتہء نظر یہ تھا کہ اگر کشمیر اور فلسطین میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہو اور ہم قاہرہ یا کہیں پہ بھی سکون سے ڈیویلپمنٹ کی باتیں اور تقریریں کریں تو یہ سب سودمند ثابت نہ ہوں گے۔ ہمیں سب سے پہلے اِن محصور اور مظلوم لوگوں کی مدد کرنی ہوگی اور ترقی کے اِس سفر میں ان کو شام کرنا ہوگا۔ تمام شرکاء نے تالیاں بجائیں، دل خوش ہوا مگر حقیقیث میں خوشی تب ہوگی جب فلسطین اور کشمیر غاصبانہ جبر سے آزادی پا لیں۔ یہ اُن لوگوں کا ہم پر حق بھی ہے اور ہم اُن کے مقروض بھی۔

اپنے قیام کے دوران ہم نے وقتاً فوقتاً مصر کے مختلف دفاعی اور تعلیمی اداروں کے حوالے سے سیر حاصل تجزیے بھی کیے اور مفید اگاہی بھی حاصل کی۔

چونکہ ہوٹل قاہرہ کے مرکز میں واقع تھا اور بچپن سے مسجد الازہر کے بارے میں سُنا تھا، اِس لیے وقت نکالا اور مسجد الازہر دیکھنے کا ارادہ کیا۔ صبح صبح اُٹھ کر دریائے نیل چلا گیا۔ اشراق کا وقت تھا۔ دریائے نیل کے کنارے وضو کیا اور اُدھر ہی ساتھ ایک جگہ پر دو رکعت نفل ادا کیے۔

دریائے نیل سامنے تھا، موسیٰ علیہ السلام کی یاد بار بار ذہن میں گھوم رہی تھی کہ کیسے فرعون سے بچانے کے لیے اُن کی والدہ نے ایک صندوق میں اُن کو دریائے نیل میں بہا دیا۔

نیل کا دریا یوگنڈا سے شروع ہوتا ہے اور مصر میں آکر بحر احمر میں شامل ہوتا ہے۔ یہ اپنا ایک الگ رعب اور حیثیت رکھتا ہے۔ قاہرہ میں بہت دھیمے انداز میں رواں دواں ہے اور صدیوں سے لوگوں کی معاش کا ذریعہ ہے۔ یوگنڈا میں ایک مقام پر یہ دنیا کا سب سے زور آور آبشار کی صورت میں گرتا ہے۔ قاہرہ میں اِس کی خاموش لہریں دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ یوگنڈا کے نیشنل پارک میں اِس کی لہریں اور شور کس قدر طوفان کی مانند ہے۔

دریائے نیل کے پاس سے گزرتے ہوئے تحریر اسکوائر میں چہل قدمی کی۔ تحریر اسکوائر کو مصر میں انقلابی مرکز کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے، چاہے وہ برطانیہ کے خلاف جدوجہد ہو یا 2011 میں حسنی مبارک کے استعفے پر ختم ہونے والا احتجاج۔ یہ سب معاملات تحریر اسکوائر میں ہوئے ہیں۔ صبح کا وقت تھا، میں تھا اور تحریر اسکوائر، اور یہ سارے تاریخی واقعات جو چہل قدمی کے وقت میرے آنکھوں کے سامنے چل رہے تھے۔ وہاں سے سوچا کیوں نہ مسجد الازہر دیکھا جائے۔

مسجد الازہر جاتے ہوئے راستے میں پتہ چلا کہ یہاں کوئی مسجد حُسین بھی ہے۔ جانے انجانے مسجد حُسین حاضر ہوئے اور خان الخلیل بازار کے احاطے میں کھو کر رہ گیا۔ مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ مسجد حُسین، خان الخلیل کا بازار اور مسجد الازہر ایک ہی جگہ پر موجود ہیں۔ اور اسلامی قاہرہ کے عین وسط میں یہ تینوں شاہکار موجود ہیں۔ مسجد الازہر کے احاطے میں حضرت بنیامین کی مقبرہ ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ انبیاء، اصحاب، اولیاء اسلامی قاہرہ میں آپ کو جگہ جگہ اور قدم قدم پہ نظر آئیں گے۔ یہ سب مصر کا تاریخی اثاثہ ہے۔

یہاں سے ہوتے ہوئے سڑک کے اُس پار بالکل مسجد الازہر کے سامنے مسجد حسین واقع ہے۔ مسجد حُسین کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کربلا کے واقعہ کے بعد امام حُسین علیہ السلام کا سر مبارک اِس مسجد میں تدفین ہے۔ اِس بات پر مختلف علماء اپنا مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ بہرحال، جب میرے علم میں یہ بات آئی تو میں تو دیوانہ وار ہر نماز مسجد حُسین میں پڑھنے کی کوشش کرتا رہا۔ کووِڈ کے دن تھے۔ بعد از نماز مسجد کو بند کر دیا جاتا اور کسی کو بھی اجازت نہ تھی کہ وہ حضرت امام حُسین کے سر مبارک والی جگہ پر حاضری دے۔

میں نے امام صاحب سے درخواست کی کہ جناب، مجھے تو ہر حال میں جانا ہے اور اُس دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر سلام پیش کرنا ہے۔ سیکیورٹی والوں سے بھی درخواست کی۔ بظاہر ناممکن تھا، مگر اللہ نے اُن کے دل میں ڈالا اور وہ مان گئے۔ ہم پاکستانی مزارات و مساجد کے حوالے سے بہت جذباتی مزاج رکھتے ہیں۔ اتنے با ادب ہیں کہ مجھے اُمید ہے بروزِ قیامت بھی اِن اولیاء اللہ، اصحاب کرام اور انبیاء عظام کے مزارات اور قبور کی عزت و اکرام کے طفیل ہی اللہ ہماری بخشش کر دے۔ آمین۔ ادب اور شرک میں فرق بہر صورت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ ادب کو شرک سے بالا تر رکھنا چاہیے۔ ہم میں سے کسی نے بھی آنکھوں سے کسی نبی یا صحابی کو نہیں دیکھا، لیکن بالغیب ایمان بہت پختہ رکھتے ہیں۔

مسجد حُسین کے بارے میں تجسس بڑھتا گیا اور ایک روایت آنکھوں سے گزری۔ وہ روایت کیا تھی کہ میرے جذبات اور احساسات میں دھمال پڑ گئی۔ میں طبعاً جذباتی انسان ہوں اور جب کبھی ایسی روایت جو نیچے نقل کر رہا ہوں، سنتا ہوں یا پڑھتا ہوں تو اعصاب قابو میں نہیں رہتے۔

تو ہوا کچھ یوں کہ جب صلاح الدین ایوبی نے فاطمیوں کو شکست دی تو اُن کے خزانوں کی جانچ کے لیے انہوں نے ایک شخص کو گرفتار کیا۔ شخص کا نام کافور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اُس نے خزانوں کی چابیوں کا راز بتانے سے انکار کر دیا۔ اِس انکار پر اُس کو سخت ترین سزا دی گئی۔ اُس کے سر پر زہریلے کیڑوں کو چھوڑ دیا گیا اور لوہے کا ایک ہیلمٹ نما ٹوپی پہنائی گئی۔ البتہ اُس شخص نے کچھ بھی نہیں بتایا۔ اور یہ کہا کہ جس سر پر تم لوگوں نے زہریلے کیڑے چھوڑے ہیں، یہ اِسی سر اور کاندھوں پر میں حضرت امام حُسین علیہ السلام کا سر مبارک جس صندوق میں تھا، وہ قاہرہ میں لے کر مسجد حُسین لے کر آیا تھا۔

یہ روایت، جو مؤرخ المقریزی کی کتاب "الخطط المقریزیہ” میں بھی مذکور ہے، اہل بیت سے ایمان پر پختگی کو ظاہر کرتی ہے جو آج بھی مسجد حُسین کی فضاؤں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ بنیادی طور پر 1153 یا چند سال آگے پیچھے فاطمیوں نے یورپ اور صلیبیوں کے خوف سے امام حُسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک فلسطین سے قاہرہ منتقل کیا تھا اور کچھ دن محل میں اور بعد میں مسجد حُسین میں آخری آرامگاہ کے طور پر تدفین کیا تھا (الروضة المهذبة، ابنِ مُتوج)۔ حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے بارے میں اور بھی ایسے مقامات کا حوالہ ملتا۔ مثلاً روضة المناظر في علم الأوائل والأواخر (ابن الشحنة) مؤلف: ابن الشحنة (ابو الوليد محمد بن شحنة الحنفي) نویں صدی ہجری کے مشہور مؤرخ ہیں۔)

مسجد حُسین قاہرہ میں دنیا بھر سے آئے زائرین اور وہاں کا ماحول آج بھی حُسین ابنِ فاطمہ کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ مجھے بھی یہی احساس ہوا کہ فیلوشپ تو بہانہ تھا، اصل میں تو سیدنا حُسین کی حاضری مقصد تھی اور سچ تو ہے کہ فیلوشپ سے زیادہ مجھے مسجد حُسین میں وقت گزارنا اچھا بھی لگا اور اس کو اپنے لیے زندگی کا ایک بیش قیمت سرمایہ یقین کرتا ہوں۔

ایم فل کی ڈگری لینے کے لیے اسلامک یونیورسٹی میں 27 اور 28 پارہ حفظ کرنے کی شرط تھی۔ میں نے اگلے سال 2022 پورے 90 دن کی چھٹی لی اور پھر مصر آیا۔ مسجد لازہر کی امام صاحب کے زیرِ سایہ 2 سپارے حفظ کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور اس دوران قیام مسجد حُسین کے پاس ایک ہوٹل میں کیا۔ اُس کی تفصیل پھر کسی کالم میں، ان شاء اللہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے