آج آپ کو بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ ایک سرکاری افسر کیسے ایسی پریس کانفرنس کر سکتا ہے، اس وقت تو و تعز من تشاء و تذل من تشاء کی ٹویٹ پہ بھنگڑے ڈالتے تھے۔ جب چھ فیصد سے زیادہ جی ڈی پی ہونے کے باوجود کہا جاتا تھا کہ ملکی معیشت کی صورتحال تشویشناک ہے تو یہ لوگ ڈی چوک کے دھرنے میں ناچ ناچ کے بے حال ہو جاتے تھے۔ جب وہ سرکاری افسر ملک کے وزیر اعظم کو کہتا تھا تمہاری ڈان لیکس رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، یہ رپورٹ انکوائری کمیٹی کی سفارشات کے مطابق نہیں۔
آپ دوسروں کو ذہنی مریض کہتے ہیں کبھی اپنے علاج کی فکر کیوں نہیں کی، آپ کی ذہنی حالت تو قابل رحم ہے، آپ جاپان اور جرمنی کا بارڈر ساتھ ساتھ بنا دیتے تھے۔۔ آپ پاکستان کے 12موسم بنا دیتے تھے۔ آپ جس قرض سے بہتر خود کشی کو سمجھتے تھے وہ قرض ملنے پر آپ اسے پیکج کہتے تھے۔ اسے ملک کی ترقی کہتے تھے۔ آپ نے انتخابات میں دھاندلی کا بیانیہ بنانے کے لیے 35پنکچر کا نعرہ لگایا، بعد میں اسے سیاسی بیان قرار دے دیا.
آپ نے مودی کے جیتنے کی دعائیں کیں اور کہا کہ مودی کے جیتنے کے بعد کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا، پھر مودی نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کے لیے بھارتی آئین میں تبدیلیاں کیں تو ٹرمپ نے آپ کو بولنے سے منع کر دیا، آپ نے واپسی پر کہا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ ورلڈ کپ جیت کر آ رہا ہوں، یہ ہوتی ہے ذہنی بیماری کی علامت۔
آپ اس وقت پاپا جونز کا بھی دفاع کرتے تھے، ابصار عالم کو گولی لگنے پر بھی خوش ہوتے تھے، مطیع اللہ کے اغوا سے بھی آپ کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا، اسد طور پر بھی گھر بیٹھے حملہ ہونے پر بغلیں آپ بجاتے تھے۔ پی آئی ڈی میں ایک صحافی نے شہباز گل سے سوال کیا تو اس نے گالیاں دے دیں۔ کوئی بات نیب چیئرمین سے کرتا تو جواب آپ کے وزرا دیتے۔۔ نیب کے ذریعے آپ سیاسی مخالفین کے خلاف کیس بنواتے، عدالت سے پہلے فیصلے کا اعلان آپ کے وزرا کرتے، یہ ذہنی بیماری نہیں تو کیا ہے؟
آپ کی جماعت کا نام تحریک انصاف مگر آپ نے اس صوبے میں احتساب کا ادارہ ختم کر دیا جہاں آپ کی جماعت کی حکومت تھی۔۔ آپ اپنی صوبائی حکومت کے خلاف کرپشن کے کیس رکوانے کے لیے عدالت تک پہنچ گئے تھے، پھر بھی کرپشن کے خلاف جنگ کرنے کے جھوٹے بھاشن دیتے رہے، ایسا تو ذہنی مریض ہی کرتے ہیں۔
بہت سی مثالیں اور بھی ہیں جہاں کہا جاتا تھا کہ پہلے چھ ماہ کی حکومت میں مثبت رپورٹنگ کی جائے لیکن کیا کیا جائے اس وقت تو ہم کہتے تھے کہ یہ قوم کے باپ ہیں اور پھر اس باپ کو گالیاں دینے کا عمل شروع کیا گیا، اسے نیوٹرل ہونے پہ جانور کہا گیا۔۔ میر جعفر اور میر صادق جیسے القابات سے نوازا گیا۔
جب ان کا دور جا رہا تھا تو نئے آنے والے کا راستہ روکنے کی کوشش کی، شہدا کے مجسموں کی توہین کی۔۔ کور کمانڈر ہاؤس پہ چڑھ دوڑے، آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ٹویٹ پہ آپ اپنی مسلح افواج کی تضحیک کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ جواب مت دو؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ مسلسل حملے کریں اور آپ کو جواب نہ ملے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ سختیاں تو آپ نے دیکھی ہی نہیں، آج بھی نظام میں موجود لوگ اگر سہولت کاری نہ کرتے تو آپ کو سات سیل جوڑ کے ایک سیل بنا کے نہ دیا جاتا۔ آپ کو جیل میں ورزش کی مشین (ٹریڈ مل) نہ دی جاتی، آپ کو فائیو سٹار ہوٹل کا مینیو نہ دیا جا رہا ہوتا۔ دیسی گھی، دیسی مرغ اور دیسی بکرے کا گوشت آپ کے کھانے میں شامل نہ ہوتا؟۔
آپ کو جیل میں تنہائی محسوس ہوتی ہے؟ تو کیا آپ کو جیل میں پارٹی کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا؟۔ آپ تو ایک جیل میں قید باپ بیٹی کو بھی نہیں ملنے دیتے تھے، آپ کہتے تھے امریکا سے واپس جا کر ان کے جیل سیل سے اے سی اتروائیں گے، آپ کسی سیاسی لیڈر کو مونچھوں سے پکڑ کے گھسیٹنے کا کہتے تھے اور پھر اسے ہیروئین اسمگلنگ کے جعلی الزام میں گرفتار بھی کروا دیتے تھے۔
آپ اپنے جلسوں میں اسلامی ٹچ بھی دیتے تھے، تسبیح ہاتھ میں پکڑ کے بے ایمانی کرتے تھے، جب جی چاہا مخالفین کی خواتین کی تضحیک کی، انہیں گرفتار کروایا، جھوٹے کیس بنوائے، ان پر تہمتیں لگائی گئیں، جب آپ کی خواتین کی بات بھی کی گئی تو آپ نے عورت کارڈ استعمال کیا۔
ابھی آپ نے ملک کے سپہ سالار کو ذہنی مریض کہا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کی بہن میڈیا ٹاک میں کہتی ہے کہ میرا بھائی قید تنہائی میں ذہنی مریض بن چکا ہے۔۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے آپ کو ذہنی مریض کہا تو ہنگامہ برپا کر دیا، جواب تو ملے گا۔
اب وڈیوز بنانا شروع کر دی ہیں کہ جب تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اس وقت سے میں ملک کی نمائندگی کر رہا تھا، حالانکہ تاریخ گواہ ہے، شاید نئی نسل نہ جانتی ہو کہ اس شخص نے کیری پیکر سیریز کھیلنے کی خاطر قومی ٹیم چھوڑ دی تھی کیونکہ اس میں معاوضہ تگڑا مل رہا تھا۔۔ جب ان کی جگہ کسی اور کو کپتان بنایا گیا تو یہ ٹیم چھوڑ کے چلے گئے تھے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ملک کے لیے نہیں بلکہ پیسے اور اور اپنی ذات کے لیے کھیلتے تھے۔ بار بار یہ مثال دیتے ہیں کہ اس نے ورلڈ کپ جیتا جبکہ وہ ان کے اکیلے کا کارنامہ نہیں تھا باقی دس کھلاڑیوں کی کارکردگی دیکھیں تو ان سے بہت زیادہ تھی۔
اسی طرح جب شوکت خانم ہسپتال کی مثال دی جاتی ہے تو بھول جاتے ہیں کہ جب کینسر ہسپتال بنانے کے لیے جگہ درکار تھی تو وہ نواز شریف نے دی، کہتے ہیں کہ وہ نواز شریف کے باپ کی نہیں تھی، درست لیکن ہسپتال بنانے کے لیے ایک ارب روپے درکار تھے، اس میں سے نصف یعنی پچاس کروڑ نواز شریف کے باپ نے دیئے تھے۔۔ آپ مقابلہ کرتے ہیں نواز شریف کا مگر نواز شریف نے کبھی بھی حکومت سے نکالے جانے پر یہ نہیں کہا کہ نواز نہیں تو ملک نہیں۔ نواز شریف کی مثال مت دیا کریں، انہوں نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی، اعتراض کیا مگر توڑ پھوڑ نہیں کی، بغاوت کی کوشش نہیں کی۔
آج بھی بس کر دیں۔۔ سیاسی معاملات جو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں، تصادم کے ذریعے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش نہ کریں۔۔ آج سوچنے کا مقام ہے سب کے لیے کہ جب یہ مصیبت میں ہیں تو انہیں بچانے کے لیے امریکا میں موجود اسرائیل سے ہمدردی رکھنے والے کانگریس مین کیوں متحرک ہیں، انہیں چھڑانے کے لیے بھارت، افغانستان کیوں واویلا کر رہے ہیں۔۔ خدا کے لیے آج بھی بھارت، افغانستان اور امریکا، اسرائیل سے مدد مانگنے کے بجائے دماغ سے مدد لیں۔۔شکریہ۔۔