نظامِ صلوٰۃ…وزارتِ مذہبی امور کا احسن قدم

قیامِ پاکستان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہاں اسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام قائم کیا جائے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران مسلمانانِ برصغیر نے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہی علیحدہ مملکت کے قیام کو اپنا مطمحِ نظر قرار دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اگرچہ ملک میں اسلامی نظام کو مکمل طور پر نافذ نہ کیا جا سکا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی مسلم ملک کی نسبت ہمارے آئین میں اسلامی دفعات زیادہ واضح اور مضبوط ہیں۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 227 بڑے واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نافذ نہیں کیا جا سکے گا۔ مزید برآں آرٹیکل 31 یہ تقاضا کرتا ہے کہ مسلمانانِ پاکستان کو اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔

اسلامی اقدامات اور وزارتِ مذہبی امور

آرٹیکل 31 کے تحت مختلف حکومتیں اپنے اپنے ادوار میں متعدد اقدامات کرتی آئی ہیں۔ 1973 میں اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام اور 1974 میں وزارتِ مذہبی امور کا وجود میں آنا اسی سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔ آج کل اس وزارت کی ذمہ داری معروف عوامی رہنما جناب سردار محمد یوسف کے کندھوں پر ہے۔

سردار محمد یوسف کا تعلق ہزارہ ڈویژن کے ضلع مانسہرہ سے ہے۔ وہ 1985 سے عملی سیاست میں ناقابلِ شکست چلے آ رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں انہیں اہم وزارتیں سونپی گئیں اور ہر مرتبہ انہوں نے ایمانداری، اخلاص اور خوفِ خدا کے ساتھ قوم و ملک کی خدمت کی۔

اگر بطورِ وزیرِ مذہبی امور ان کی کارکردگی دیکھی جائے تو 2013 میں جب انہوں نے یہ وزارت سنبھالی، اس وقت حج آپریشن اور عازمینِ حج شدید مسائل کا شکار تھے۔ سردار محمد یوسف اور ان کی ٹیم نے نہ صرف وزارت کو بحران سے نکالا بلکہ عازمین کو بہترین سہولیات فراہم کر کے عوام کا اعتماد بھی بحال کیا۔ مارچ 2025 میں دوبارہ اس وزارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد بھی انہوں نے متعدد اہم اقدامات کیے۔

بین الاقوامی مقابلۂ حسنِ قرأت اور یکساں نظامِ اوقاتِ صلوٰۃ

حال ہی میں وزارتِ مذہبی امور نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ "بین الاقوامی مقابلۂ حسنِ قرأت” منعقد کیا، جس میں دنیا بھر سے قرّاء نے شرکت کی اور دارالحکومت کی فضا میں روح پرور سماں باندھ دیا۔

وزارت کا ایک اور اہم اور قابلِ تحسین قدم "یکساں نظام الوقات برائے نماز” ہے، جو اس وقت زیرِ بحث ہے۔ اس فیصلے کو سمجھنے سے پہلے اسلام میں نماز کی اہمیت بیان کرنا ضروری ہے۔

نماز کی اہمیت

نماز اسلام کا اہم ترین رکن ہے۔ کلمہ کے بعد مسلمان ہونے کی سب سے بڑی علامت نماز کی پابندی ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جو زمین پر نہیں بلکہ معراج کی رات آسمانوں پر عطا کی گئی۔

قرآن مجید میں نماز کا ذکر 700 سے زائد مرتبہ آیا ہے۔ آغازِ قرآن میں ہی ارشاد ہوتا ہے:

﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ…﴾ (البقرۃ)
"جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں…”

اسی طرح فرمایا:
﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ. الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ (المؤمنون)
"یقیناً ایمان والے کامیاب ہو گئے جو اپنی نماز میں خشوع رکھتے ہیں۔”

نماز رحمت کے حصول، بے حیائی و منکر سے بچاؤ، سکونِ قلب، مشکلات کے حل اور ایمان کی قوت کا ذریعہ ہے۔

نماز چھوڑنا سخت گناہ ہے اور قرآن کے مطابق جہنم میں داخلے کا سبب بھی:

﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ، قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ﴾ (المدثر)
"پوچھا جائے گا: تم جہنم میں کیوں آئے؟ وہ کہیں گے: ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔”

حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق:
"سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا… جو نماز میں ناکام ہوا وہ باقی اعمال میں بھی ناکام سمجھا جائے گا۔” (سنن نسائی)

اسلامی حکومت کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:
﴿الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ﴾ (الحج)
"وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو وہ نماز قائم کریں گے۔”

اور واضح حکم ہے:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾ (النساء)
"نماز مومنوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔”

اسلام آباد میں یکساں نظامِ نماز

چونکہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے، لہٰذا آئین کا آرٹیکل 31 یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایسی فضا قائم کی جائے جس میں لوگ قرآن و سنت کے مطابق آسانی سے زندگی گزار سکیں. اسی پس منظر میں وزارتِ مذہبی امور نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں نماز کے یکساں اوقات نافذ کیے جائیں۔

اس فیصلے سے پورے شہر میں ایک ہی وقت پر اذان اور نماز ہو گی جس سے عوام کو آسانی بھی میسر آئے گی اور اقامتِ صلوٰۃ کے مقصد کو تقویت بھی ملے گی۔

حضرت عمرؓ نے بھی اپنے گورنر کو لکھا تھا:
"تمہارے ذمے سب سے اہم کام نماز کا قیام ہے، باقی سب اس کے بعد ہے۔”

فیصلے کے اہم مقاصد

اسلام کے اجتماعی نظام کو شان و شوکت کے ساتھ ظاہر کرنا۔

ایسا پاکیزہ ماحول ترتیب دینا جس میں نماز کی ادائیگی آسان ہو۔

نوجوان نسل کو دین سے قریب لانا۔

قیامِ پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کی کوشش کرنا۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 31 پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرانا۔

مرکزی اہداف

i. پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کے قریب تر لانا۔
ii. اسلام آباد میں یکساں اوقات کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں اس نظام کو پھیلانا۔
iii. دنیا کے سامنے اسلام کا منظم اور روشن چہرہ پیش کرنا۔
iv. نوجوان نسل کی اخلاقی و نفسیاتی تربیت میں اسلام کی رہنمائی کو مؤثر بنانا۔
v. صالح اور متحد معاشرے کی تشکیل۔

نتیجہ

اسلام دینِ فطرت ہے اور نماز کے قیام میں بے شمار روحانی و دنیاوی فوائد موجود ہیں۔ جب پورے شہر میں ایک ہی وقت پر نماز ادا کی جائے گی تو اجتماعی برکات، اتحاد، خیر اور اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گی۔

وزارتِ مذہبی امور کا یکساں نظامِ صلوٰۃ نافذ کرنے کا فیصلہ نہایت صائب، وقت کی ضرورت اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ سردار محمد یوسف، سیکرٹری ڈاکٹر عطا الرحمان اور پروفیسر سجاد قمر یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اسی طرح اہلِ اسلام آباد، تاجروں، علماء اور دیگر طبقات کا تعاون بھی قابلِ ستائش ہے۔

پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا، اور حقیقی امن، سکون اور ترقی بھی تب ہی آئے گی جب اسلامی احکامات عملاً نافذ ہوں گے۔ یکساں نظامِ اوقاتِ صلوٰۃ اسی سمت میں ایک مضبوط قدم ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے