فخر موجودات: حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

ہوئے ہیں لفظ بھی ساکت، نمی آنکھوں میں ٹھہری ہے محبت آپ کے زم زم کے کنویں سے بھی گہری ہے
سعی کرتی ہیں یہ آنکھیں، تری گلیوں، ترے در کی
کبھی نعلین کو چومیں، کبھی مسجد کے منبر کی

جتنا ایک شخص باکمال اتنا ہی اس پر اظہار خیال مشکل۔ سب سے خوبصورت اور بااخلاق شخصیت کے بارے میں لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ سب سے مکمل شخص کے حوالے سے اپنے جذبات، خیالات اور الفاظ کو یکجا کر کے ترتیب دینا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ نعت لکھنے کو خونِ جگر چاہیے۔

فخر موجودات، نبیِ مِہربان، حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے الفاظ بُننے کی کوشش میں ہوں۔ کہاں سے شروع کروں، کہاں پہ ختم کروں۔ نبی آخر الزماں کے حوالے سے الفاظ اکھٹے کرنے کی کوشش میں ہوں۔

پچھلے دنوں ایک پوڈکاسٹ سنا تھا۔ اینکر سوال پوچھتا ہے مہمان سے: "آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے حوالے سے کیا بات سب سے زیادہ دل کو بھاتی ہے؟” سوال اُس مہمان سے تھا، پوڈکاسٹ ریکارڈڈ تھا۔ مگر جب میں نے یہ سوال سنا تو اندر سے ہِل سا گیا۔ سوچا کہ کیا کہوں گا اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں رحیم شاہ آپ کو کیا اچھا لگتا ہے؟ تو چلیں اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

ہوا یوں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی کے مہمان بن گئے۔ انہوں نے ایک ہرن کو پکڑا ہوا تھا۔ ہرن نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا اور فریاد کی: "مجھے اپنے دوست سے چھڑائیے۔ میرے بچے میرا دودھ پینے کا انتظار کر رہے ہیں۔ میں دودھ پلا کر واپس آ جاؤں گی”۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جواباً کہا کہ "ہرن! اگر تم واپس نہ آئیں تو…” ہرن نے کہا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! واپس نہ آئی تو جہنم کی آگ میرا نَصیب ہو”۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے رسی کھولی اور خود ہرن کی جگہ بیٹھ گئے۔ ہرن دوڑی… اور کچھ دیر بعد واپس آ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے دوست سے کہا: "ایک درخواست ہے کہ یہ ہرن مجھے دے دو”۔

دوست نے کہا: "میرے ماں باپ آپ پر قربان! ہرن کیا چیز ہے؟” ہرن دی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے رہا کر دیا۔ ہرن پیچھے مڑ مڑ کر سر ہلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا شکریہ ادا کرتی رہی۔ اس واقعہ کا عربی متن السنن الكبرى للنسائي کی حدیث 9789 میں موجود ہے: فقالَ لَها رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "وَمَن لَكِ أَن تَرْجِعِي؟” قَالَتْ: إِلَيَّ، اللَّهُمَّ إِن لَمْ أَرْجِعْ فَلَا رَجَعْتُ. فَأَطْلَقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَرَجَعَتْ فَأَرْضَعَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِن صَاحِبِهَا، فَأَطْلَقَهَا۔ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس (ہرنی) سے پوچھا: "ضمانت کون دے گا کہ تم واپس آؤ گی؟” اس نے کہا: "میں خود ذمہ دار ہوں۔ یا اللہ! اگر میں واپس نہ آؤں تو مجھے واپس نہ لانا (جہنم کی آگ میرا نصیب ہو)”۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے چھوڑ دیا تو وہ گئی، دودھ پلایا اور پھر واپس آ گئی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اس کے مالک سے خرید کر آزاد کر دیا۔

آگے چلئے۔ ایک درخت یا کھجور کے تنے کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ جب منبر بنا اور آپ نے وہاں کھجور کے تنے کے پاس سے اٹھ کر منبر پر خطبہ دینا شروع کیا تو وہ کھجور کا تنا زار و قطار رونے لگ گیا… آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تسلی دی، تو چپ ہوا۔ صحیح بخاری کی حدیث 3583 کے مطابق: أنَّ النَّبيَّ صلى الله عليه وسلم كان يَخطُبُ إلى جِذْعٍ، فلمَّا اتَّخَذَ المِنبَرَ تَحَوَّلَ إليه، فَحَنَّ الجِذْعُ حَنِينَاً، فأتَاهُ فاحتَضَنَهُ، فَسَكَنَ۔ ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ و سلم کھجور کے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب آپ نے منبر بنا لیا اور اس کی طرف منتقل ہوئے تو وہ تنا (جذع) اونٹنی کی طرح زور سے آواز کر کے رونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کے پاس آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔

ایک دن ابوجہل نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھتے ہیں: "ذرا بتائیے میرے ہاتھ میں کیا ہے؟” آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: "میں بتاؤں یا جو ہاتھ میں ہے وہ بتائے؟” انگوٹھی میں ایک کیڑا ہوتا ہے، وہ فرماتا ہے کہ آپ آخری نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور اللہ کے رسول۔ یہ واقعہ مشہور ہے اور مختلف کتبِ سیرت میں موجود ہے، اگرچہ اس کی اسنادی حیثیت کمزور ہے۔ واقعہ کا عربی متن یوں ہے: قَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْ لِي مَا فِي يَدِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا لَا أُخْبِرُكَ، وَلَكِنْ يُخْبِرُكَ مَا فِي يَدِكَ، فَتَكَلَّمَ حَصَاةٌ (أَوْ دَوَيْبَةٌ) فِي كَفِّ أَبِي جَهْلٍ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ۔ ترجمہ: ابوجہل نے آپ سے کہا: اے محمد! مجھے بتائیے میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں تمہیں خبر نہیں دیتا، لیکن جو تمہارے ہاتھ میں ہے وہ تمہیں خبر دے گا، تو ابوجہل کی ہتھیلی میں موجود ایک کنکری (یا چھوٹا کیڑا) بول پڑا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔

ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "کسی کا کچھ ہے میرے اوپر ادھار تو بتائے”۔ ایک صحابی نے فرمایا: "میری کمر پر کوڑا لگا تھا، اس کا بدلہ لینا ہے”۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی کمر کھولی اور کہا: "یہ لے، مار کوڑا”۔ وہ شخص آگے بڑھا اور کمر پر نشانِ نبوت کو بوسہ دیا۔ السنن الكبرى للبيهقي کی حدیث 13540 میں ہے: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كُنتُ أَحُثُّكُم عَلَى القِصَاصِ فَلَا تَأْخُذْ لِنَفسِكَ، قال: فَكَشَفَ لَهُ عَن بَطنِهِ، فَقَبَّلَ ظَهرَهُ، وَقَالَ: إِنَّمَا أَرَدتُّ أَن يُصِيبَ جِلْدِي جِلدَكَ۔ ترجمہ: جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس صحابی کے لیے پیٹ کھولا تو اس نے آپ کی پیٹھ کو بوسہ دیا اور کہا: میرا مقصد تو صرف یہ تھا کہ میری جلد آپ کی جلد کو چھو لے۔

کملے والے محمدؐ تو صدقے میں جان، جن نے اک غریباں دی بانہہ پھڑ لئی وے۔

براق اپنی نظر کے حساب سے اڑتا۔ اللہ کی اس دی ہوئی صلاحیت پر ناز کرتا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سواری کرنی تھی تو اِٹھلایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: "براق! نہ ان سے پہلے اور نہ بعد میں کوئی مُعتَبَر شخص آپ کے اوپر سواری کرے گا”۔ شرمندہ ہوا، مگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے محسوس بھی نہیں ہونے دیا۔ (السيرة النبوية لابن هشام، جلد 2، صفحہ 259 – مفہوم)

یہ تو کچھ بھی نہیں… جبرائیل علیہ السلام آسمانوں سے آئے، تمام پر کھولے ہوئے، پوری جثّامت کے ساتھ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے۔ آپ کی آنکھ بھی نہ جھپکی۔ آپ کے پلکیں ہلیں بھی نہیں اور استقامت کے ساتھ کھڑے رہے۔ (حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 177 – )

طائف گئے… لمبا راستہ ہے۔ پہاڑ ہی پہاڑ ہیں۔ میں اور بابا ساتھ تھے، مکہ سے نکل کر طائف پہنچے اور اُس باغ میں گئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوگ پتھروں سے مار رہے تھے، آپ نے پناہ لی۔ میں اور بابا بھی اُدھر بیٹھ گئے۔ دونوں متفق تھے کہ دنیا کے فتنوں سے کچھ دیر ہم بھی چھپ جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے جبرائیل نے آ کر پوچھا: "کچل دوں یہاں پہ ان پہاڑوں میں ان لوگوں کو؟” جواب ملا: "نہیں! ان کی اولاد میں کوئی آئے گا”۔ صحیح بخاری کی حدیث 3237 کے مطابق: فَنَادَانِي مَلَكُ الجِبَالِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلاَبِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا۔ ترجمہ: پس مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور کہا: "اے محمد! اگر آپ چاہیں تو میں ان (بستی والوں) پر دونوں پہاڑوں کو ملا دوں؟” نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "نہیں، بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی پشتوں سے ایسی نسل نکالے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرے گی”۔

میرے بچپن میں سکول کے استاد جناب جہاں رازق صاحب آج کل طائف میں رہتے ہیں۔ سیل کبیر یا سیل صغیر کے پاس۔ اُن کے پاس جاتا ہوں، طائف کو دیکھتا ہوں، اذانوں کی گونج سنتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی باتیں شدت سے یاد آتی ہیں۔ ان کی اولاد میں کوئی آئے گا۔

مجھے ہے آپ سے جتنی محبت یا رسول اللہ، میں صدقے یا رسول اللہ، میں صدقے یا حبیب اللہ!

آگے چلئے، حسین کو، حسن کو، علی کو اور فاطمہ سلام اللہ علیہم کو اپنی چادر میں لپیٹ کر کہتے ہیں: "یا اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، جو ان سے محبت کرے وہ مجھ سے محبت کرے گا، جو ان سے عداوت رکھے وہ مجھ سے عداوت رکھے گا”۔ صحیح مسلم کی حدیث 2424 میں یہ الفاظ ملتے ہیں: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا۔ ترجمہ: اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، پس تو ان سے ہر پلیدی کو دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوئے، کہتے ہیں: "جنت میں ایک خوبصورت محل دیکھا، پوچھنے پر پتہ چلا عمر کا ہے، تو حیا کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا”۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ روئے… صحیح بخاری کی حدیث 3249 کے مطابق: فَلَمَّا دَخَلْتُ الجَنَّةَ رَأَيْتُ قَصْرًا مِن ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَن هَذَا؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِن قُرَيْشٍ، فَظَنَنتُ أنَّهُ أَنَا، فَقُلْتُ: وَمَن هُوَ؟ قَالُوا: عُمَرُ بنُ الخَطَّابِ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا غَيْرَتُكَ، فَبَكَى عُمَرُ۔ ترجمہ: جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے سونے کا ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: "یہ کس کا ہے؟” انہوں نے کہا: "قریش کے ایک آدمی کا”۔ میں نے گمان کیا کہ وہ میں ہوں گا، تو میں نے پوچھا: "وہ کون ہے؟” انہوں نے کہا: "عمر بن خطاب”۔ مجھے اس میں داخل ہونے سے صرف آپ کی غیرت نے روکا۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

استقامت، محبت، صبر، خلوص، سادگی، فقیری، بلند مرتبہ، شاہانہ مزاج، نرم گفتگُو، محدود خوراک، چہل قدمی، پہروں کی ہائکنگ، رواداری، انصاف، سچائی، ایمانداری، رشتہ داری، خشوع و خضوع، تہجد، قاری، حافظ، کریم، پختہ ارادہ، اور سب سے بڑھ کر اُمت سے محبت مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سب سے ہر دل عزیز عادت لگتی ہے۔

ایک دن خوش تھے، گھر لوٹے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: "بہت خوش ہیں، مجھے دعا دیجیے”۔ آپ نے دعا دی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خوش ہوئیں، آپ نے فرمایا: "ایسی دعا میں کئی مرتبہ اپنے اُمتیوں کے لیے کرتا ہوں”۔ سنن ابن ماجہ کی حدیث 1391 کا مکمل عربی متن اور ترجمہ یوں ہے: قَالَتْ: فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهَا وَمَا تَأَخَّرَ، مَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ، قَالَتْ: فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ، حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْفَرَحِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟ فَقَالَتْ: وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَالَ: فَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاةٍ۔ ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے لیے بھی دعا فرمائیے۔ آپ نے دعا فرمائی: "اے اللہ! عائشہ کے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہری سب گناہ بخش دے”۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ہنسی، یہاں تک کہ خوشی کے مارے میرا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی گود میں گر گیا۔ آپ نے ان سے فرمایا: "کیا تمہیں میری دعا اچھی لگی؟” انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں، مجھے آپ کی دعا کیوں نہ اچھی لگے گی؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ میری دعا ہے جو میں اپنی اُمت کے لیے ہر نماز میں کرتا ہوں۔

اصحاب سے فرمایا: "مجھ سے قریب زیادہ وہ ہوں گے جنہوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا اور مجھ پر ایمان لائیں گے”۔ مسند احمد کی حدیث 12608 میں اس کا متن یوں ہے: مِنْ أَحَبِّ عِبَادِ اللَّهِ إِلَيَّ قَوْمٌ يَأْتُونَ بَعْدِي، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي۔ ترجمہ: میرے نزدیک اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔

فرماتے ہیں: "یا اللہ! مجھ سے بُرائی کو اتنی دور کر دے جتنا مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہے۔ دجال کے شر سے بچا… زندگی اور موت سے بچا”۔ صحیح بخاری کی حدیث 6368 کا عربی متن یوں ہے: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الخَطَايَا، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالبَرَدِ۔ ترجمہ: اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ کیا ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے۔

قرآن قلب اطہر پر نازل ہوا، اور یہ نہ صرف انہوں نے لوگوں کو سمجھایا بلکہ عملاً کر کے دکھایا۔ آپ اندازہ لگائیے! بدترین دشمن کے گھر کو فتحِ مکہ کے دن امن کی دہلیز بنا دیا۔ سفیان کے گھر پناہ لینے والوں کو بخش دیا۔ صحیح مسلم کی حدیث 1780 میں ہے: مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهْوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهْوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهْوَ آمِنٌ۔ ترجمہ: جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گیا وہ محفوظ ہے، اور جس نے ہتھیار ڈال دیے وہ محفوظ ہے، اور جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا وہ محفوظ ہے۔

ڈپلومیسی کی تو انتہا تھی۔ اپنا چادر بچھا دیا جب ایک یہودی مہمان بنے۔ یہ سلوک بین المذاہب ہم آہنگی کا شاہکار تھا۔ جنگ لڑنے کے اصول بتائے: "بچوں کو، خواتین کو مت مارنا۔ عبادت کے مقدس جگہوں کو تباہ مت کرنا”۔ صحیح مسلم کی حدیث 1744 کے مطابق: انْطَلِقُوا باسْمِ اللهِ، وباللهِ، وعلَى مِلَّةِ رَسولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ، وَلَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا، وَلَا طِفْلًا، وَلَا صَغِيرًا، وَلَا امْرَأَةً۔ ترجمہ: اللہ کے نام اور اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دین پر چلتے ہوئے روانہ ہو جاؤ۔ اور کسی بوڑھے، نہ کسی بچے، نہ کسی کمزور کو، اور نہ کسی عورت کو قتل کرنا۔

ایسا کون کر سکتا ہے نبیِ مہربان صلی اللہ علیہ و سلم کے علاوہ! اب کوئی محبت نہ کرے، عشق میں نہ مبتلا ہو تو کیا ہو…

اندازہ کریں، باب السلام سے اندر جاتے ہوئے، سبز جالیوں سے چند فٹ کے فاصلے پہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور سامنے تشریف فرما دنیا اور کائنات کی بہترین شخصیت۔ واہ! آپ کہیں: "السلام علیک یا رسول اللہ!” اور وہ پہنچے سیدھا ان کو۔

میں اور بابا جاتے… بابا کافی ضعیف تھے۔ عمر ستر سال سے زیادہ تھی۔ سعودی عسکری لوگ بغیر لائن کے ریاض الجنۃ میں بٹھا دیتے۔ بابا نوافل پڑھتے، میں بھی ساتھ بیٹھا رہتا۔ پھر سلام کرتے، باہر آتے، پھر جاتے۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے: "باپ جنت کا سب سے بڑا دروازہ ہے”۔ سنن ابن ماجہ کی حدیث 3662 میں ہے: الوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الجَنَّةِ۔ ترجمہ: باپ جنت کے دروازوں میں درمیانی اور بہترین دروازہ ہے۔

مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت ہے اور اسی محبت کو میں اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتا ہوں۔ ان کے بارے میں لکھنا پڑھنا کبھی ختم نہیں ہوگا یہ سلسلہ ان شاءاللہ جاری رہے گا۔ کچھ باتیں سپرد قلم کریں گے اور کچھ باتیں دل میں ہی چھپا کر رکھیں گے۔

سفر صدیوں سے جاری ہے
میرے آقا،
محبت آپ کی اس دل پہ طاری ہے
کوئی سمجھے نہیں ممکن، کسی کو کیسے سمجھاؤں؟ جو میرے دل کی حالت ہے، فقط آقا کو بتلاؤںمجھے ہے آپ سے جتنی محبت، یا رسول اللہ میں صدقے، یا رسول اللہ میں صدقے، یا رسول اللہ میں صدقے، یا رسول اللہ میں صدقے، یا رسول اللہ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے