جمہوریت کی تلاش میں بھٹکتی سیاست

1996 میں جب تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی گئی تو فضا مکمل طور پر روایتی سیاسی جماعتوں کے حق میں تھی۔ جاگیردارانہ سیاست، خاندانی اجارہ داری اور سرمایہ دارانہ اثر و رسوخ کے مقابل نئی سیاسی جماعت کا خیال دیوانے کا خواب لگتا تھا۔ اُس وقت بانیٔ تحریکِ انصاف نے صاف سیاست، انصاف اور خودداری کا نعرہ لگایا جسے ابتدا میں کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ نئی جماعت کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لیے نہ کوئی منظم تنظیم تھی، نہ الیکٹیبلز تھے اور نہ ہی میڈیا کی توجہ حاصل تھی۔ ان حالات میں بانیٔ تحریکِ انصاف نے 1997 میں صرف ایک نشست پر الیکشن لڑا، اور وہ بھی ہار گئے۔

داد دینی پڑے گی کہ انتہائی سخت حالات میں بھی بانیٔ تحریکِ انصاف نے ہمت نہیں ہاری، اپنے خیال کو نہیں چھوڑا، نئی حکمتِ عملی اپنائی، اپنی سیاست کو اصولوں کے ساتھ جوڑا، قانون کی بالادستی، کرپشن کے خاتمے اور ریاستِ مدینہ کے تصور کو بیانیہ بنایا اور اسے نوجوانوں تک پہنچایا۔

2000 میں رکنیت سازی کی مہم چلائی گئی، اندرونی انتخابات کروائے گئے اور جماعت کی تنظیمِ نو کی گئی۔ یوں بانیٔ تحریکِ انصاف کو پذیرائی ملنا شروع ہو گئی۔ پارلیمانی سیاست کی حدود میں رہتے ہوئے دھرنوں، جلسوں اور احتجاجوں نے بانیٔ تحریکِ انصاف اور نئی جماعت کو مین اسٹریم میڈیا میں نمایاں کیا۔ میڈیا کی توجہ حاصل ہوئی اور سیاسی عدم استحکام اور ماضی کی فوجی مداخلتوں سے مایوس نوجوانوں کے لیے یہ جماعت امید کی کرن بن کر ابھرنے لگی۔

2013 تک، بغیر کسی موروثی سیاست، فوجی بیک اپ اور خاندانی اثر و رسوخ کے، تحریکِ انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن چکی تھی۔ اس کے بعد وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بانیٔ تحریکِ انصاف نے فوری اقتدار کی تلاش شروع کر دی، خفیہ قوتوں کے ساتھ ڈیل کر لی، اور وہی الیکٹیبلز جنہیں وہ ماضی میں کرپشن اور نظام کو ہائی جیک کرنے کے طعنے دیتے تھے، انہی کو ساتھ ملا لیا۔ یوں 2018 کے انتخابات سے قبل ہی تحریکِ انصاف نے اپنے بنیادی اصول (جمہوریت) کو ذبح کر دیا اور بدلے میں اقتدار حاصل کر لیا۔

یہیں سے تحریکِ انصاف کے زوال کی کہانی شروع ہوئی۔ اصول بِک گئے، جمہوریت مر گئی، بانیٔ تحریکِ انصاف وزیرِاعظم بن گئے، اور پھر یہ اقتدار 2022 میں فنا ہو گیا۔ بانیٔ تحریکِ انصاف اس صدمے کو برداشت نہ کر سکے، بڑی طاقتوں سے ٹکرا گئے اور آج کل جیل میں ہیں، جبکہ جماعت عملی طور پر اپنی قانونی حیثیت بھی کھو چکی ہے۔

تحریکِ انصاف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے عروج و زوال کی داستان دہرانا بے کار ہے۔ یہ جماعت اس وقت برسرِاقتدار ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ جماعت جمہوری اصولوں کے مقابلے میں سول آمریت کو ترجیح دیتی ہے۔ اندرونی انتخابات بظاہر جمہوری طریقے سے کروائے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں فیصلوں پر مرکزی قیادت، ایک شخص یا چند افراد اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے اندرونی جمہوری عمل مشکوک ہو جاتا ہے۔ پارٹی کارکنان اور عہدیداران کی رائے رسمی حیثیت رکھتی ہے۔ کئی حلقوں میں اختیارات طاقتور سیاسی خاندانوں کے پاس ہیں، جبکہ نواز شریف کی رائے یا فیصلے پر سوال اٹھانا جماعت سے غداری سمجھا جاتا ہے۔

یہی حال پیپلز پارٹی کا ہے۔ زرداری صاحب، بلاول اور فریال تالپور کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کی جرأت کارکنان نہیں کر سکتے۔ جمعیت علمائے اسلام ان دونوں بلکہ تینوں جماعتوں سے بھی ایک قدم آگے جمہوریت دشمن جماعت ہے، جہاں اندرونی جمہوریت کا یہ حال ہے کہ 1980 سے اب تک قیادت ایک ہی خاندان کے پاس ہے۔ پہلے مفتی محمود تھے، اب فضل الرحمٰن ہیں، ان کے بعد اسد محمود بلا مقابلہ قائد ہوں گے، اور پھر یہ موروثیت انہیں کی نسلوں میں منتقل ہو جائے گی۔ پالیسی، عہدے، تنظیمی ڈھانچہ اور ٹکٹوں کی تقسیم سب فیصلوں کا اختیار اسی خاندان کے پاس ہے۔ کسی کو جرأت نہیں کہ سوال اٹھا سکے، اور اگر باہر سے سوال کیا جائے تو مولوی ہونے کے باوجود اس جماعت کے کارکنان جمہوریت کا نہیں بلکہ گالی گلوچ کا سہارا لیتے ہیں۔

الغرض، اس وقت ملکی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرنے والی تمام بڑی جماعتیں جو جمہوریت کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، اپنے اندر جمہوریت کو خود ہی مار چکی ہیں، کیونکہ انہوں نے کبھی جمہوریت کو کھل کر سانس لینے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اسی رویے، اسی پالیسی اور اسی طرزِ سیاست کو سول آمریت کہا جاتا ہے۔ ہر جماعت اپنے مفادات اور اقتدار کے لیے بنیادی جمہوری اصولوں کو قربان کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ اقتدار مل جائے تو ملکی ادارے اچھے لگتے ہیں، اقتدار نہ رہے تو انہی اداروں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔

2018 سے 2022 تک تحریکِ انصاف فوج کی تعریف اور مسلم لیگ (ن) تنقید کرتی رہی۔ 2022 میں باری بدلی تو رویے بھی بدل گئے۔ اب مسلم لیگ (ن) فوج کی حمایت میں اور تحریکِ انصاف مخالفت میں حدیں پھلانگتی نظر آتی ہے۔

ان حالات کے تناظر میں قوم کو ایک نئی سیاسی جمہوری جماعت کی ضرورت ہے۔ ایسی جماعت جو عالمی جمہوری معیار کے مطابق ہو، جس کی ملکیت کسی خاندان یا شخصیت کے پاس نہ ہو، جس کی پالیسی، تنظیمی ڈھانچے اور انتخابات پر کوئی فردِ واحد یا گروہ اثر انداز نہ ہو سکے۔ ایک عام آدمی اپنی قابلیت کے بل بوتے پر جمہوری عمل سے گزر کر جماعت کے کسی بھی عہدے تک پہنچ سکے۔

تب ہی ممکن ہو گا کہ پاکستان سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی سے نکل سکے، عوامی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے حقیقی معنوں میں کام کرنے والوں کو موقع ملے، اور انتشار، گالم گلوچ، دھینگا مشتی اور بدتمیزی کی سیاست کے بجائے نظریاتی کارکن سوشل میڈیا پر مثبت مکالمے کو فروغ دیں۔

یہی بات اقرار الحسن صاحب کر رہے ہیں۔ وہ گلی گلی، گھر گھر جمہوریت کا پیغام لے کر جا رہے ہیں اور حلفاً یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ کبھی کوئی عہدہ نہیں لیں گے اور نہ ہی جماعت کی پالیسی پر اثر انداز ہوں گے۔ ان کی بات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان پر بحث ہو سکتی ہے، ان سے سوال پوچھے جا سکتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر ان کے کہنے کے مطابق ایسی کوئی سیاسی جماعت بن جائے تو جمہوریت کو حقیقی معنوں میں زندہ ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے