فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں اپنے سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی تصدیق کردی۔
عرب میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کے احکامات کے بعد اسرائیلی فوج نے ایک روز قبل غزہ شہر میں ایک گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 5 افراد شہید جبکہ 25 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسرائیل نے اس حملے میں حماس کمانڈر کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم حماس سربراہ خلیل الحیہ نے ویڈیو بیان میں اسرائیلی حملے میں سنیئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی تصدیق کردی۔
انہوں نے غزہ پر اسرائیلی فوج کے مسلسل حملے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکا پر زور دیا کہ وہ قابض اسرائیل کو معاہدے کی پاسداری پر مجبور کرے۔
رائد سعدکی شہادت اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد فلسطینی تنظیم کی کسی اعلیٰ شخصیت کی سب سے نمایاں شہادت قرار دی جا رہی ہے۔
غزہ کی مقامی حکام کے مطابق 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ پر روزانہ حملے جاری ہیں۔
جنگ بندی کے بعد سے تقریباً 800 حملے کیے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں 386 افراد شہید ہوچکے ہیں۔
ادھر اسرائیل غزہ میں انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، جو جنگ بندی کی شرائط کے کھلی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی اجازت دے، اقوام متحدہ کی تنصیبات پر حملے بند کرے اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے۔