اس وقت سوشل میڈیا پر فلم دھرندھر کا ایک سین خوب گردش کر رہا ہے۔جس میں بالی وڈ اداکار اکشے کھنہ رحمان ڈکیت کے کردار میں بلوچی ڈانس کرتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ اس گانے نے اس وقت دھوم مچا رکھی ہے۔ ہر شخص اس گانے پر جھوم رہا ہے۔ یوٹیوب انسٹا اور فیس بک پر اکشے کھنہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔لوگ اکشے کھنہ کے اسٹائل کے دیوانے ہوگئے ہیں۔ اس کی اداکاری نے رحمان ڈکیت کو زندہ کر دیا ہے۔اکشے کھنہ کا Aura ہی کچھ اور ہے اور اس کی اداکاری باقی اداکاروں سنجے دت ۔رنویر سنگ۔ارجن رامپال اور راکیش بیدی جیسے اداکاروں کے مقابلے میں نیکسٹ لیول پر ہے۔ رحمان ڈکیت کے کردار نے بھی اکشے کھنہ کو نئی زندگی دی ہے۔ابھی کل تک اکشے کھنہ کو لوگ مناسب اداکار ہی سمجھتے تھے ۔آج اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ اکشے کھنہ واقعی اچھا اداکار ہے۔مجھے بھی وہ بہت پسند ہے۔ اس کی اداکاری میں کافی ورائیٹی ہے۔
فلم دل چاہتا ہے میں اس کی اداکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔جس میں وہ عامر خان جیسے اداکار کو ٹف ٹائم دے رہا ہے مگر بالی وڈ نے اکشے کھنہ کو کبھی بھی وہ مقام نہیں دیا جس کا وہ حق دار تھا۔ حاں لاں کہ وہ سپر اسٹار ونود کھنہ کا بیٹا ہے۔جس نے بالی وڈ پر راج کیا تھا اس کے باوجود اکشے کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔
شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کی اکشے سادہ سا بندہ ہے۔الگ تھلگ رہتا ہے اور پارٹیوں میں جانا اسے پسند نہیں بحر حال آپ کچھ بھی کہیں اکشے کھنہ کا فلم دھرندھر میں رحمان ڈکیت کا کردار امر ہوگیا ہے اور لوگ تو یہاں تک کہ رہے ہیں کہ اکشے کھنہ کو اس کی اداکاری پر آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے۔
فلم میں سنجے دت کی اداکاری بھی قابل تعریف ہے۔ چودھری اسلم کا کردار اس پر سوٹ کر رہا ہے۔مگر رنویر سنگھ کے لیے کرنے کو کچھ خاص نہیں ہے۔لیاری گینگ وار کا کیا پس منظر ہے۔کیا لب و لہجہ ہے۔زبان کس قسم کی ہے۔کپڑے کس طرح کے پہنے جاتے ہیں اور سلام کرنے کا انداز کیا ہے اس حوالے سے کوئی ریسرچ نہیں کی گئ ہے۔ بالی وڈ کی اکثر فلموں میں یہی دکھایا جاتا ہے کہ ایک جاسوس اچانک سے کسی بھی ملک میں جاکر بڑی آسانی سے کسی بھی گینگ میں شامل ہوسکتا ہے اور وہ اتنا اہم ہوجاتا ہے کہ گینگ کے بڑے بڑے لوگ بھی اس سے پوچھ کر فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔
یہ سب سمجھ سے باہر ہے خود کو مظلوم اور پڑوسیوں کو ظالم دکھانا بالی وڈ والوں کا پرانہ کھیل ہے۔ایک سین سب سے دلچسپی لگا جب رنویر سنگھ ۔ارجن رام پال اور اکشے کھنہ نے اللہ ہو اکبر کے نعرے لگائے۔فلم میں بے شمار غلطیاں ہیں لیکن بالی وڈ والوں کو فلم بنانا آتی ہے اسی لیے فلم چل رہی ہے اور لوگ اسے دیکھ بھی رہے ہیں۔ فلم دھرندھر کی کامیابی میں ڈائریکٹر آدتیا دھر کا بڑا دخل ہے۔ کاش ہمارے ڈائریکٹر بھی ایسی فلمیں بنائیں اور ہم بھی بالی وڈ کی پروپیگنڈا فلموں کا بھر پور جواب دے سکیں۔ اب پھر اکشے کھنہ کی طرف لوٹتے ہیں۔
کالم کے شروع میں اکشے کھنہ کے حوالے سے جو باتیں کہی تھیں وہ ہمیں حوصلہ دیتی ہیں۔دراصل زندگی بڑی غیر یقینی ہے۔ یہاں کبھی بھی اور کچھ بھی ہوسکتا ہے۔قسمت بادشاہ کو فقیر بناسکتی ہے اور یہی قسمت فقیر کو بادشاہ بھی بناسکتی ہے۔ جس کی مثال اکشے کھنہ ہے جو شروع میں ہیرو کے کردار میں آیا کرتا تھا ۔اچھی اور کامیاب فلموں کے باوجود اس کو وہ کامیابی نہیں مل سکی جو اسکو آگے لے جاتی مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ اکشے کھنہ بھی کہیں غائب ہوگیا کامیاب اداکار کے ناکام بیٹے کا لیبل اس پر چسپاں کردیا گیا وقت گزرتا گیا۔ بالی وڈ بھی بدلتا رہا کمرشل سینیما کے مقابلے میں آرٹ فلمیں بھی بڑی تعداد میں کامیاب ہونے لگیں انوراگ کشپ جیسے جینئیس فلم میکر سامنے آئے اور نواز الدین صدیقی ۔منوج پائی۔کے کے مینن اور عرفان خان نے بالی وڈ کو مختلف اور منفرد فلمیں دے کر کمرشل فلموں کا ڈبہ گول کردیا۔ویب سیریز کی وجہ سے بھی بڑا فرق پڑا ہیرو کے مقابلے میں کریکٹر ایکٹر کی اہمیت بڑھنے لگی یہی وجہ ہے کہ بابی دیول٬ ابھیشک بچن اور رجت بیدی نے بھی کامیاب ویب سیریز دیں اور اسی طرح جب اکشے کھنہ نے کریکٹر رول پلے کیے تو اس کے اندر سے رحمان ڈکیت نکل آیا۔سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ قسمت بھی لگن اور محنت سے بنتی ہے۔ اور محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی ہے۔بس لگے رہو منا بھائی والی مثال ذہن میں رکھنا چاہیے۔کامیابی کسی وقت بھی آپ کے قدم چوم سکتی ہے۔آج دنیا اکشے کھنہ کے گن گا رہی ہے۔ یہ وہی اکشے کھنہ ہے۔ جس کی پرانی وڈیو دیکھیں تو وہ انٹرویو کے دوران ہونق سا دکھائی دے رہا ہے۔ سر پر بال نہیں ہیں عجیب باؤلہ سا نظر آ رہا ہے مگر آج بالی وڈ ہی نہیں بلکہ جہاں جہاں بھی اردو اور ہندی سمجھی جاتی ہے وہاں اکشے کھنہ کو سراہا جا رہا ہے۔اکشے کھنہ کو پاکستان اور رحمان ڈکیت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ان کی وجہ سے وہ اپنے والد ونود کھنہ کی طرح سپر اسٹار بن گیا ہے ورنہ بالی وڈ والے تو اسے فراموش ہی کرچکے تھے۔