ہمارے ہاں طلبہ کےلیے ماہانہ تربیتی نشستیں ہوتی ہیں ، جن میں علمی اور کبھی تربیتی موضوعات پر طلبہ سے اساتذہ کرام گفتگو کرتے ہیں، اس بار گفتگو کا عنوان تھا: طلبہ میں مطالعے کا ذوق کیسے پیدا کیا جائے ؟! بندہ نے مذکورہ موضوع پر چند معروضات پیش کیں، گفتگو اگر چہ عربی میں تھی، اس کی چیدہ نکات اردو میں پیش خدمت ہیں.
اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ شرعی مسائل میں امت کی راہنمائی کریں، یہ راہنمائی بغیر پختہ علم اور مستند معلومات کے نہیں ہوسکتا، جس کےلیے پیہم مطالعے کا ایسا ذوق ہونا ضروری ہے، جو طالب علم کو دیگر اذواق سے مستغنی کر دے، مگر مشکل یہ ہے کہ اس زمانے میں مطالعے کا ذوق نایاب نہیں، کمیاب ہوگیا ہے، سوشل میڈیا نے تو کتاب و مکتبات سے نوجوانوں کو مزید بے گانہ کردیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایک دفعہ پھر سے اس میراث گمشدہ کی طرف لوٹیں، جو اسلاف کی امانت ہے.
یہاں سوال یہ ہے کہ آج کل طلبہ میں مطالعے کا ذوق کیسے پیدا کیا جائے؟ اس حوالے سے سے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں، امید ہے، فائدہ ہوگا.
چونکہ مطالعہ دینی علوم کے فہم اور اس میدان میں امت کی راہنمائی کےلیے کیا جاتا ہے ، اس لیے یہ عبادت ہے، تو اس کو عبادت سمجھ کر کریں، اور جب مطالعہ عبادت سمجھ کر کریں گے ، تو دل خود بخود اس کی طرف کھچتا جلا جائے گا، یہی کھنچاؤ آگے پائیدار ذوق میں بدل جائے گا.
دوسری بنیادی چیز ذمہ داری کا احساس ہے، آپ یہ احساس کریں گے کہ امت کی راہنمائی میری ذمہ داری ہے ، تو آپ کو پڑھنا پڑے گا، مطالعہ کرنا پڑے گا، امام محمد رحمہ اللہ یہ احساس ذمہ داری سمجھ گئے تھے، اس لیے جب ان سے کم خوابی کا کہا گیا تو فرمایا: كيف أنام وقد نامت عيون المسلمين توكلا علينا، ويقولون إذا وقع لنا أمر رفعناه إليه فيكشفه لنا! یہ احساس ذمہ داری ہی وہ محرک ہے، جو رفتہ رفتہ حقیقی ذوق بن جاتا ہے۔
خود کو اس کام کےلیے فارغ کریں، آپ کا کام صرف پڑھنا ہے، مطالعہ کرنا ہے، دیگر دھندوں میں پڑیں گے تو یکسوئی نہیں رہے گی، تب مطالعہ کاہے کا ہوگا؟!ہاں، طالب علم یکسو ہوجائے، یک میدان کا ہوجائے، تو توجہ یکسو ہوجاتی ہے، جوبعد میں مضبوط ذوق میں بدل جاتی ہے۔ ساتویں صدی ہجری کے محدث شیخ زکریا الانصاری نے یہ مقولہ تو علم حدیث کے متعلق فرمایاتھا کہ "هذا شأن من لا شأن له سوى خذا الشأن”، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر علم وفن اسی نوعیت کی یکسوئی اور فراغت چاہتا ہے.
کوشش کریں زیادہ سے زیادہ لائبریری جایا کریں، وہاں آپ سے کوئی خاص کتاب نہ بھی پڑھی جائے، تو صرف کتابوں کی ورق گردانی کریں، تعارف ہی حاصل کریں، کتاب ومکتبہ میں گھومنے اور ان سےمتعلق رہنے سے آپ کے اندر خود بخود ذوق مطالعہ پیدا ہوگا، مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے "خطبات علی میاں” میں کہیں پڑھا تھا کہ تعلیمی نفسیات کے ماہرین کے مطابق ذوق پیدا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ طالب علم کو آزادانہ طور پر لائبریری میں چھوڑدیا جائے، تاکہ وہ اپنی پسند کی چیز پڑھے، دیکھے، اٹھائے، اس سے اس کے اندر ذوق پیدا ہوگا!
کتب تراجم، رجال اور اکابر ومشاہیر کی سیرت مطالعہ کریں، علم کے حصول میں ان کی جفاکشی ، محنت، اور قربانیوں کے قصے پڑھیں، یہ سب سے مفید طریقہ ہے مطالعاتی ذوق کی افزائش کا، اس لیے کہ جب پڑھنے والا دیکھتا ہے کہ اکابر نے کس طرح محنت کی؟ کتنی کتابیں پڑھی؟، کیسے وقت بچایا؟ تو اس کے اندر بھی "میں بھی پڑھوں” کا شوق جاگتا ہے، یہی شوق، ذوق بن جاتا ہے۔ فاقصص القصص لعلهم يتفكرون،اور وكلا نقص عليك من أنباء الرسل ما نثبت به فؤادك” سے اسی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
موٹیوشن پیدا کرنے والی ترغیبی کتابیں پڑھیں، اس نوعیت کی کتابیں درجنوں ہیں، مگر عربی میں بہترین معروف شامی عالم، محدث شیخ ابو غدہ کی "صفحات من صبر العلماء فی شدائد العلم والتحصیل”ہے، اردو میں مولانا حبیب الرحمن شیروانی کی ” علماء سلف کا شوق علم” اور مولانا ندوی رحمہ اللہ کی "پاجا سراغ زندگی” ہے. اور بھی اس موضوع پر کئی کتابیں ہیں، شیخ عوامہ کی "معالم ارشادیہ” بھی عربی میں بہترین ہے۔ عائض القرنی کی "العاشق” تو بندہ کی سب سے پسندیدہ کتاب ہے۔اس کے علاوہ ایک نیا سلسلہ کتب بھی ہندوپاک میں شروع ہوا، جو ذوق مطالعہ کی تحریک میں نہایت مفید ہے، ہوا یوں کہ مصر کے معروف مجلہ "الهلال ” میں ” الكتب التي أفادتني” کے عنوان سے سلسلہ شروع ہوا، اس کی دیکھا دیکھی مولانا ندوی صاحب رحمہ اللہ نے ہندوستان کے ناموران علم کو لکھا، کہ وہ اپنا مطالعاتی تجربہ، پسندیدہ کتابیں اور علمی ذوق کے حوالے سے لکھ کر بھیجدیں، تب کے نامور اہل علم نے تفصیل سے اس حوالے سے اپنے تجربات قلمبند کرکے ارسال کیے، یہ مضامین "مشاہیر کی محسن کتابیں” کے نام سے بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔
دوسرا سلسلہ اسی نوعیت کا مولانا سمیع الحق صاحب رحمہ اللہ نے شروع کیا، وہ مضامین "میری علمی اور مطالعاتی زندگی” کے نام سے کتابی شکل میں موجود ہیں، مولانا ابن الحسن عباسی صاحب مرحوم نے بھی اس نوعیت کی شاندار کوشش کی، جو "جو یادگار زمانہ شخصیات کا احوال مطالعہ” کے نام سے ضخیم کتابی شکل میں چھپی ہے۔ان کتابوں میں اکابر نے اپنی مطالعاتی زندگی کا نچوڑ بتایا ہوتا ہے، جس سے جہاں ذوق مطالعہ کی آبیاری ہوتی ہے، وہاں ہر موضوع پر مستند کتابوں کے انتخاب میں بھی آسانی ہوجاتی ہے۔اس نوعیت کی کتابیں اردو اور عربی میں انٹریووز وغیرہ کی شکل کی بھی موجود ہیں، وہ بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ایسی کتابیں پڑھنے کا فائدہ یہ ہے کہ جب طالب علم جان لیتا ہے کہ کن کتابوں نے اکابر کو بنایا؟ تو یہی چیز اس کے اندر کتاب پڑھنے کا شوق جگاتی ہے۔
چند باتیں مزید اس سلسلے میں عرض ہیں، ضرورت کی وجہ سے مطالعہ نہ کریں، مثلا کسی مسئلے کی تحقیق کی ضرورت پڑی، یا جیسے کبھی آپ حضرات پر مقالہ لکھنا لازم کردیا ہے، تو طوعا وکرھا مطالعہ کر رہے ہیں، بلکہ جب موقع ملے مطالعہ کریں، اور اس حوالے پسند کی کتاب ملنے کا بھی انتظار نہ کریں، جو کتاب ہاتھ لگے، پڑھ لیں، علامہ کشمیری کے متعلق مولانا بنوری نے "نفحۃ العنبر” میں یہی لکھا ہے کہ وہ صرف بوقت ضرورت مطالعہ نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کا مطالعہ ہمیشہ جاری رہتا تھا۔ مولانا عبد الرشید نعمانی رحمہ اللہ کے بارے میں استاد جی حضرت چشتی صاحب رحمہ اللہ سے بارہا سنا کہ وہ مسلسل مطالعہ کرتے تھے، اور اس میں پسند کتاب کا انتظار نہیں کرتے تھے، بلکہ جو کتاب ہاتھ لگی پڑھ ڈالی، استاد جی بتلاتے تھے کہ ایک دفعہ "طلسم ہوشربا” ہاتھ لگی تو پوری پڑھ ڈالی۔
شروع میں وہ کتابیں پڑھیں ، جو آسان ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی ضرورت اور دلچسپی سے زیادہ جڑی ہوتی ہیں، مطالعے کا شوق اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب کتابیں آپ کی ضرورت، میدانِ علم اور دلچسپی سے جڑی ہوں۔ جب آپ ایسی کتابیں پڑھتے ہیں تو ہر صفحہ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے، اور یوں تھکاوٹ محسوس کیے بغیر مطالعہ جاری رہتا ہے۔
ماحول بنائیں، کمرے میں بھی، کلاس روم میں بھی، کوشش کریں کہ آپ کا کمرہ، مطالعہ گاہ یا کلاس روم علمی فضا کا حامل ہو۔ روشن جگہ، صاف میز اور منظم کتابیں ذہنی یکسوئی پیدا کرتی ہیں، نیز کوئی نہ کوئی ہلکی یا مختصر کتاب آپ کے پاس ہو، تاکہ جیسے ہی موقع ملے: وقفہ ہے، کسی کا انتظار ہے، استاد کی آمد ورفت کا فترہ ہے، آپ چند صفحات پڑھ لیں۔ چھوٹی کتابیں تو دن بھر کے مختصر وقفوں میں بھی مکمل کی جا سکتی ہیں۔
نوٹس لیا کریں، کتاب پر تعلیقات لگانے کا اہتمام کریں، یہ عمل مطالعے کو کئی گنا دلچسپ بنا دیتا ہے۔جب قلم سے نشان لگاتے ہیں، تب حاسہ دماغ بھی فعال رہتا ہے، یوں کتاب سے ایک طرح کا مضبوط تعلق ہوجاتا ہے۔ یہی تعلق ذوقِ مطالعہ کی آبیاری کی بنیاد بنتا ہے۔
ایک تجربے کی بات ہے،کتابوں کے تعارف کو وقت دیں، اس میں خاص کر کتاب کا مقدمہ اور فہرست ضرور پڑھیں ، فہرست میں کوئی نہ کوئی ایسا عنوان ضرور آئے گا، جو آپ کے ذوق سے متعلق ہوگا، وہی ایک عنوان آپ کے اندر شوق کی چنگاری روشن کر دے گا، آپ کو پڑھنے کی طرف متوجہ کرے گا!
ویسے اس موضوع پر اور بھی باتیں کی اور کہی جاسکتی ہیں، مگر یہ چند وہ معروضات تھیں، جو زیادہ تر تجربے سے تعلق رکھتی ہیں، ان پر مستقل عمل کیا جائے تو امید ہے ذوق مطالعہ پیدا ہوگا، انشاءاللہ تعالی. اللہ تعالیٰ نافع بنائے.