عربی زبان کا عالمی دن اور بدلتا ہوا زمانہ

اٹھارہ دسمبر محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک تہذیبی شعور کی یاد دہانی ہے۔ اسی روز 1973 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عربی زبان کو اپنی سرکاری زبانوں میں شامل کیا اور بعد ازاں یونیسکو نے انسانی تہذیب اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں عربی زبان کے غیر معمولی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اسی دن کو عربی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔ یہ فیصلہ کسی رسمی کارروائی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ صدیوں پر محیط ایک فکری، علمی اور تہذیبی سفر کا اعتراف تھا۔

زبانوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ طاقتور سلطنتوں، عظیم تہذیبوں اور ترقی یافتہ معاشروں کے باوجود بے شمار زبانیں وقت کی گرد میں دب کر مٹ گئیں۔ کہیں سیاسی زوال نے زبان کو کمزور کیا، کہیں ثقافتی انقطاع نے اسے بے جان کر دیا۔ مگر عربی زبان ان تمام نشیب و فراز کے باوجود نہ صرف زندہ رہی بلکہ ہر دور میں اپنے دامن کو مزید وسیع کرتی چلی گئی۔ یہ وہ زبان ہے جس نے ماضی سے رشتہ توڑے بغیر حال کو قبول کیا اور مستقبل کی طرف قدم بڑھایا۔

عربی زبان کی سب سے بڑی قوت اس کی فکری و لسانی جامعیت ہے۔ قرآن کریم کی زبان ہونے کی وجہ سے اسے وہ تقدس اور دوام حاصل ہوا جو دنیا کی کسی اور زبان کے حصے میں نہیں آیا۔ فصاحت و بلاغت کے ماہرین صدیوں سے اس زبان کے اسلوب، صوتیات اور ترکیب پر حیران ہیں۔ صرف 28 حروف پر مشتمل یہ زبان اپنے اندر معانی کی ایسی وسعت رکھتی ہے جو اسے دیگر زبانوں سے ممتاز بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربی نہ صرف عبادات کی زبان ہے بلکہ علم، فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، قانون اور سیاست کے بڑے ذخیرے اسی زبان میں محفوظ ہیں۔

آج عربی دنیا کی بڑی زبانوں میں شامل ہے۔ تقریباً پینتالیس کروڑ افراد اسے مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ڈیڑھ سے دو ارب کے قریب مسلمان مذہبی، تعلیمی اور سماجی سطح پر اس سے وابستہ ہیں۔ عربی اقوام متحدہ، عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم، افریقی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی سرکاری زبان ہے۔ جدید دور میں میڈیا، سفارت کاری، تجارت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر بھی عربی زبان کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں انٹرنیٹ پر سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی زبانوں میں عربی کا شمار ہونا اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان کے تناظر میں عربی زبان کی اہمیت محض مذہبی نہیں بلکہ آئینی اور عملی بھی ہے۔ 1973 کے آئین میں ریاست کو عربی زبان کی ترویج کی ذمہ داری سونپی گئی۔ حالیہ برسوں میں تعلیمی سطح پر کچھ مثبت اقدامات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں نصاب میں عربی زبان اور قرآن فہمی کی شمولیت شامل ہے۔ یہ کوششیں قابلِ قدر ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم عربی زبان کو محض ایک مضمون سمجھ کر پڑھا رہے ہیں یا ایک زندہ مہارت کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں عربی زبان کی تدریس کا بڑا مسئلہ طریقۂ کار ہے۔ اکثر جگہوں پر زبان سکھانے کا آغاز قواعد کے پیچیدہ مباحث سے کیا جاتا ہے، سننے اور بولنے کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، اور خود عربی زبان کے بجائے اردو یا انگریزی کے ذریعے عربی پڑھائی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ برسوں پڑھنے کے باوجود طالب علم عربی سمجھنے اور بولنے میں جھجھک محسوس کرتا ہے۔ جدید لسانی اصول اس بات پر متفق ہیں کہ زبان سیکھنے کے لیے فطری ماحول، عملی مشق، مکالمہ اور تدریس بذریعہ زبان بنیادی شرط ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جدید تعلیمی اداروں کا کردار سامنے آتا ہے۔ اکیڈمی آف لینگویجز، یونیورسٹی آف لاہور اس حوالے سے ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ یہاں عربی زبان کو محض نصابی ضرورت کے طور پر نہیں بلکہ عملی، پیشہ ورانہ اور عصری تقاضوں کے مطابق پڑھایا جا رہا ہے۔ سمعی و بصری ذرائع، جدید تدریسی اسالیب، اسکل بیسڈ کورسز اور مقصدی نصاب کے ذریعے طلبہ کو عربی زبان سے جوڑا جا رہا ہے۔ خواہ مقصد فہمِ قرآن ہو، تدریس، ترجمہ، میڈیا، سفارت کاری یا پیشہ ورانہ میدان، ہر سطح پر زبان کو قابلِ استعمال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عربی زبان کے مستقبل کا دارومدار اسی بات پر ہے کہ ہم اسے وقت کے ساتھ ہم آہنگ کس حد تک کرتے ہیں۔ عربی زبان تحقیق کے لیے ایک وسیع میدان رکھتی ہے، خاص طور پر عربی بطور ثانوی زبان، جدید تدریسی طریقے، ڈیجیٹل عربی، اور پیشہ ورانہ عربی جیسے موضوعات پر کام کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ عرب دنیا کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات، روزگار کے مواقع اور سفارتی روابط اس بات کے متقاضی ہیں کہ عربی زبان کو عملی سطح پر فروغ دیا جائے۔

عربی زبان کا عالمی دن ہمیں محض ماضی پر فخر کرنے کا موقع نہیں دیتا بلکہ مستقبل کی سمت بھی دکھاتا ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ زبانیں نعروں سے نہیں، سنجیدہ منصوبہ بندی، جدید تعلیم اور اجتماعی شعور سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر ہم واقعی عربی زبان کو اس کا جائز مقام دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے کلاس روم سے نکال کر زندگی کے مختلف شعبوں سے جوڑنا ہو گا۔ یہی رویہ عربی زبان کے شایانِ شان بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے