سردار محمد یوسف صاحب (وفاقی وزیرِ مذہبی امور) کی شرافت کی سیاست پر شک کی گنجائش نہیں۔ موصوف کی پِسے ہوئے طبقات کے لیے سیاسی خدمات، جاگیردارانہ نظام کو شکست دینے، مفلوک الحال لوگوں کو ظالم کے سامنے کھڑا ہونے کا شعور دینے جیسی سیاسی بصیرت اور کامیابی پر ان کی تعریف بنتی ہے۔ یہ کریڈٹ عوام ان کے علاوہ کسی کو نہیں دے سکتے۔
لیکن عوامی امیدوں اور بنیادی ضرورتوں، مثلاً سڑک، پانی، صحت اور تعلیم وغیرہ کی عدم دستیابی یا اس جانب کم توجہ کی صورت میں عام آدمی کا جمہوری و آئینی حق ہے کہ وہ سوال اٹھائے، اور منتخب نمائندے کا فرض ہے کہ عوامی شکایات کا ازالہ کرے اور اپنے ووٹر یا عام آدمی کو مطمئن کرے۔
ہزارہ ڈویژن میں ضلع مانسہرہ سیاحت کے اعتبار سے ٹاپ آف دی لسٹ مانا جاتا ہے۔ ضلع مانسہرہ میں سب سے زیادہ خوب صورت، سب سے زیادہ موزوں اور سیاحوں کے لیے قابلِ رسائی وادی سرن ویلی ہے۔ سرن ویلی کی قدرتی خوب صورتی کی انتہا، قدرتی کرشمات اور یہاں کے مہمان نواز لوگ اپنی مثال آپ ہیں۔
ہر سال ہزاروں سیاح اس وادی کا رخ کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ سرن ویلی میں سیاحتی سہولیات (معیاری ہوٹل، رہائش وغیرہ) محدود ہیں۔ یہاں کی سڑکیں تنگ، خطرناک اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ خانپور (سرن ویلی انٹری پوائنٹ) سے نواز آباد تک مرکزی شاہراہ ناکافی ہونے کے سبب سیزن میں سیاحوں کی آمد کے ساتھ سنگین ٹریفک مسائل جنم لیتے ہیں۔ گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے، سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کے لیے بھی سفر کڑا امتحان بن جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں نواز آباد تا منڈہ گُچھہ روڈ کی خستہ حالی کو لے کر عوام میں تشویش کی لہر دیکھی گئی ہے۔ یہ شاہراہ اہم سیاحتی مقام جچھہ پوائنٹ اور موسیٰ مصلّیٰ سمیت اَپر سرن ویلی کے درہ پنجول تک رسائی کا اہم اور واحد ذریعہ ہے۔ اس کی حالت یہ ہے کہ نواز آباد سے منڈہ گُچھہ کی طرف ڈیڑھ سے دو کلو میٹر تک کچی سڑک لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے مسلسل دوچار رہتی ہے۔ بارش کے موسم میں محض ڈیڑھ کلو میٹر کا سفر پھسلن اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے سبب کڑا امتحان بن جاتا ہے۔
یہ سڑک مرکزی شاہراہ ہے۔ متذکرہ ڈیڑھ کلو میٹر (کچی سڑک) کے علاوہ جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ نہیں یا کم ہے، وہاں بھی یہ سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس سڑک کو تقریباً بیس سال قبل آخری مرتبہ تعمیر کیا گیا تھا، اس کے بعد اس کی مرمت یا تعمیرِ نو نہیں ہو سکی۔ اب یہ سڑک ہر گزرتے دن کے ساتھ ناقابلِ استعمال حالت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے اور سنگین ٹریفک حادثات کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
آغاز سردار محمد یوسف صاحب (وفاقی وزیرِ مذہبی امور) کی شرافت کی سیاست کے ذکر کے ساتھ اس لیے کیا گیا کہ اس علاقے سے ہمیشہ سردار صاحب ہی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے ہیں۔ یہاں ان کا کوئی بھی سیاسی حریف انہیں شکست نہیں دے سکتا، اور اس بار ان کے گھر سے اس حلقے کی نمائندگی کے لیے دو نشستیں موجود ہیں۔ سردار شاہجہان یوسف صاحب (ایم پی اے) اور وہ خود (ایم این اے، وفاقی وزیر) اسی حلقے سے منتخب ہوئے ہیں۔ لہٰذا یہاں کے مسائل کی ذمہ داری دیگر سیاسی نمائندوں کے ساتھ ساتھ ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کا فرض ہے کہ بنیادی اور اہم عوامی مسائل پر توجہ دیں۔ اگر یہ سڑک کسی متعلقہ محکمے کی غفلت کے سبب تباہ حال ہے تو سردار صاحب بحیثیتِ سیاسی نمائندہ اس محکمے کا محاسبہ کر سکتے ہیں، اور اگر اپنی عدم توجہی یا علاقے کو نظر انداز کرنے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے تو اس کا سدِباب بھی وہی کر سکتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ سردار صاحب کا ووٹ بینک مضبوط ہے اور ان کی سیاسی عوامی وابستگی مستحکم بنیادوں پر قائم ہے، لیکن چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں ان کے مخالفین کے حق میں عوامی رائے کو وسیع کرنے اور ان کے مخالف بیانیے کو تقویت دینے کا سبب بن سکتی ہیں، جو ان کی مضبوط بنیادوں پر کھڑی سیاسی عمارت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اب دور بدل چکا ہے۔ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، جہاں ایک سچ کے ساتھ دس جھوٹ ملا کر سیاسی مخالف کامیاب پروپیگنڈا کر سکتے ہیں۔ لوگ اب چالیس سال پرانی سیاسی کامیابیوں پر مسلسل داد دینے اور ووٹ ڈالنے سے اکتا چکے ہیں۔ اب عوام کام چاہتے ہیں، کارکردگی دیکھتے ہیں اور سوال پوچھتے ہیں۔ صرف قومیت کی بنیاد پر الیکشن لڑنا اور جیتنا عنقریب تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ جمہوری اقدار کا شعور آئے دن مضبوط ہو رہا ہے، اور نوجوانوں کی انقلابی سوچ بیدار ہونے کے ساتھ سردار صاحب کی شرافت کی سیاست بھی سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔
لہٰذا سردار محمد یوسف صاحب (ایم این اے، وفاقی وزیر) اور ان کے سیاسی جانشین سردار شاہجہان یوسف صاحب (ایم پی اے) سے ان کے ووٹرز اور سپورٹرز مطالبہ کرتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو، نواز آباد تا منڈہ گُچھہ مرکزی شاہراہ کی حالتِ زار کا خود دورہ کریں، متعلقہ محکموں کو متوجہ کریں اور اس مرکزی شاہراہ کی تعمیرِ نو کو یقینی بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں، تاکہ ان کی مضبوط اور مربوط سیاسی عمارت مخالفین کے سیاسی وار سے محفوظ رہ سکے۔