حال ہی میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی زندگی پر لکھا گیا ناول پڑھنے کا اتفاق ہوا، جو معروف مصنف عنایت اللہ التمش کی تحریر ہے۔ اسی کے ساتھ مشہور یوٹیوبر، صحافی اور اینکر پرسن جناب فیصل وڑائچ صاحب کی Dekho, Suno, Jano پر معلوماتی سیریز “The Great Generals and Battles” بھی دیکھی۔ اس سیریز میں بیان کیا گیا ایک واقعہ دل کو ہلا کر رکھ دینے والا تھا، یونس بن مرقس کی کہانی۔
یہ کہانی دمشق کی فتح سے جڑی ہوئی ہے، لیکن یہ محض ایک جنگی حکمتِ عملی یا فوجی کامیابی کا ذکر نہیں، بلکہ محبت، قربانی، ایمان اور شہادت کا ایک ایسا باب ہے جو شاید تاریخ کی کتابوں میں دب کر رہ گیا، مگر دلوں پر گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے۔
یونس بن مرقس دمشق کا رہائشی نہیں تھا، بلکہ ایک یونانی عیسائی نوجوان تھا۔ وہ شہر کے ایک معزز تاجر خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اسی شہر کی ایک رئیس زادی کا عاشق تھا۔ ان کا رشتہ طے ہو چکا تھا اور زندگی کی راہیں ہموار دکھائی دیتی تھیں، مگر وقت نے پلٹا کھایا۔
جب حضرت خالد بن ولیدؓ کا لشکر دمشق کی فصیلوں تک پہنچا تو یونس کے دل میں اسلام کی روشنی چمکی۔ اس نے خفیہ طور پر اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کو دمشق کے ایک پوشیدہ دروازے کا راستہ دکھا دیا۔ یہی وہ راستہ تھا جس سے داخل ہو کر مسلمانوں نے شہر فتح کر لیا۔
فتح کے بعد یونس نے اپنی منگیتر کو سچ بتا دیا کہ وہ مسلمان ہو چکا ہے۔
یہ سن کر وہ لڑکی، جو کٹر عیسائی تھی، تڑپ اٹھی۔ اس نے کہا:
“اب میں تم سے شادی نہیں کر سکتی… تم میرے مذہب سے نکل چکے ہو۔”
اسی دکھ اور شدتِ جذبات میں اس نے خودکشی کر لی۔
یونس ٹوٹ گیا، بکھر گیا ،اس کا عشق، اس کی امید، سب کچھ مٹی ہو گیا۔
مگر اس نے ایمان کو نہیں چھوڑا۔
اس نے نہ انتقام لیا، نہ واپسی کا سوچا، بلکہ اس دکھ کو دل میں دفن کر کے اللہ کی رضا پر راضی ہو گیا۔
دو سال بعد، جب جنگِ یرموک برپا ہوئی، یونس اسلامی لشکر میں شامل ہوا۔
وہی یونس، جو کل تک عیسائیوں کے درمیان تھا، آج اسلام کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑ رہا تھا۔
اور پھر…
وہ میدانِ یرموک میں شہید ہو گیا۔
یہ کہانی ایک عبرت بھی ہے، ایک سبق بھی اور ایک ایمان افروز پیغام بھی۔
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچا عشق وہی ہے جو اللہ تک لے جائے، اور جب دل میں ایمان آ جائے تو دنیا کی کوئی محبت، کوئی نقصان اور کوئی غم اس راستے سے ہٹا نہیں سکتا۔
یونس بن مرقس نہ کوئی مشہور صحابی ہے اور نہ ہی کسی کتاب کا مرکزی کردار، مگر اس کی کہانی بتاتی ہے کہ تاریخ صرف تلوار سے نہیں، دلوں سے بھی لکھی جاتی ہے۔
اللہ ہمیں بھی ایسا ایمان، ایسی قربانی اور ایسی استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔