تعلیم کسی بھی معاشرے کی فکری اور اخلاقی بنیاد ہوتی ہے، اور اس بنیاد کو مضبوط یا کمزور بنانے میں استاد کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ استاد صرف کتابی علم منتقل کرنے والا فرد نہیں بلکہ وہ شخصیت ہے جس کے اندازِ گفتگو، رویے اور فیصلے شاگرد کے ذہن اور دل دونوں پر نقش ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کا ہر عمل محض ایک لمحے کا واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک طویل اثر چھوڑتا ہے، جو بعض اوقات پوری زندگی کے ساتھ چلتا ہے۔
اصلاح دراصل تعلیم کی روح ہے۔ غلطی انسان سے ہوتی ہے، اور سیکھنے کا عمل بھی غلطیوں ہی کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ ایک سمجھدار اور خیر خواہ استاد غلطی کو شرمندگی نہیں بناتا بلکہ سیکھنے کا دروازہ کھولتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم بار بار کسی مضمون میں کمزور ہے تو اس کی کمزوری کا اعلان کلاس میں کرنا یا اسے “نالائق” کہنا آسان راستہ ہے، مگر درست راستہ یہ ہے کہ استاد اسے علیحدہ سے وقت دے، مسئلہ سمجھے اور اس کی سطح کے مطابق رہنمائی کرے۔ یہی رویہ طالب علم کو سنبھالتا ہے اور اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی اداروں میں اکثر اصلاح اور تحقیر کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے۔ ڈانٹ، طنز، طعنے اور تمسخر کو نظم و ضبط کا نام دے دیا جاتا ہے۔ کسی بچے کے تلفظ پر ہنس دینا، کسی کی کمزور انگریزی یا عربی پر جملے کسنا، یا کسی طالب علم کے گھریلو پس منظر کو نشانہ بنانا وہ زخم ہیں جو نظر نہیں آتے مگر اندر ہی اندر شخصیت کو توڑ دیتے ہیں۔ ایسے بچے خاموش ہو جاتے ہیں، سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اور بعض اوقات ذہنی طور پر تعلیم سے کٹ جاتے ہیں۔
اسکول کی سطح پر یہ رویہ خود اعتمادی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ بچہ وہی بنتا ہے جو وہ اپنے بارے میں سن کر یقین کر لے۔ اگر اسے بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ وہ کمزور ہے، نالائق ہے یا دوسروں سے کم تر ہے تو وہ یہی مان لیتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک حوصلہ افزا جملہ، جیسے “تم بہتر کر سکتے ہو” یا “غلطی سیکھنے کا حصہ ہے”، بچے کے اندر چھپی صلاحیت کو جگا دیتا ہے۔
کالج اور یونیورسٹیوں میں مسئلہ ایک اور شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں تحقیر زیادہ تر علمی اور فکری سطح پر ہوتی ہے۔ کسی طالب علم کے سوال کو فضول قرار دینا، تحقیقی خیال کا مذاق اڑانا، یا اختلافِ رائے کو ذاتی انا کا مسئلہ بنا لینا تعلیمی ماحول کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ طالب علم سوال کرنا سیکھے، دلیل دے اور نئی راہیں تلاش کرے۔ اگر استاد ہی سوال سے خوفزدہ ہو جائے یا اسے اپنی توہین سمجھے تو پھر علم آگے نہیں بڑھتا۔
دینی درسگاہوں میں استاد کا کردار اور بھی زیادہ حساس ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں علم کے ساتھ اخلاق اور کردار کی تربیت بھی مقصود ہوتی ہے۔ اگر یہاں سختی انصاف اور شفقت کے ساتھ ہو تو فائدہ دیتی ہے، مگر اگر وہ سختی ذلت، گالی یا بے عزتی میں بدل جائے تو نقصان دوگنا ہو جاتا ہے۔ طالب علم نہ صرف استاد سے بددل ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات دین کے تصور سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ حالانکہ دینی تعلیم کا اصل مقصد دلوں کو جوڑنا اور کردار سنوارنا ہے، نہ کہ خوف پیدا کرنا۔
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اخلاق کے دائرے میں رہ کر اصلاح کرنے کا مطلب کمزوری نہیں۔ اصل مضبوط استاد وہ ہوتا ہے جو غصے میں بھی خود پر قابو رکھے، جو سزا دینے سے پہلے وجہ سمجھے، اور جو شاگرد کی نیت اور حالات کو بھی پیش نظر رکھے۔ استاد کا وقار اس کے بلند لہجے میں نہیں بلکہ اس کے منصفانہ فیصلے میں ہوتا ہے۔ جو استاد عزت دیتا ہے، وہ عزت پاتا بھی ہے۔
اساتذہ پر دباؤ، نصاب کی سختی، وقت کی کمی اور انتظامی مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں، مگر ان سب کے باوجود استاد کا رویہ ایک شعوری انتخاب ہوتا ہے۔ ہر استاد کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا میرا یہ عمل شاگرد کو بہتر بنا رہا ہے یا صرف میری برتری ثابت کر رہا ہے؟ کیا میرا مقصد اصلاح ہے یا غصے کا اظہار؟
اگر تعلیمی ادارے واقعی معاشرے کی بہتری چاہتے ہیں تو انہیں اس پہلو پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ تربیتی ورکشاپس، اساتذہ کی اخلاقی رہنمائی، اور ایک ایسا نظام جو تحقیر کے بجائے اصلاح کو فروغ دے، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم صرف ڈگری دینے کا نام نہیں بلکہ انسان بنانے کا عمل ہے۔
آخرکار، استاد کا ایک جملہ کسی بچے کو حوصلہ دے کر آگے بڑھا سکتا ہے، اور وہی جملہ کسی اور بچے کو خاموشی کے اندھیرے میں دھکیل بھی سکتا ہے۔ یہی فرق اصلاح اور تحقیر کے درمیان ہے۔ انتخاب استاد کے ہاتھ میں ہے، اور اسی انتخاب سے یا تو شخصیت بنتی ہے یا ٹوٹ جاتی ہے۔