ماورائے قانون نجی جرگے

معاشرے کے بااثر افراد کے ہاتھوں ہونے والے ظلم و جبر کے بیشتر واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے۔ اس کی ایک اہم وجہ نجی جرگوں اور پنچایتوں کا وہ فرسودہ نظام ہے جو قانون سے عاری اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ خصوصاً جنسی جرائم، خواتین پر تشدد، وراثت کے تنازعات اور دیگر سنگین معاملات میں کمزور فریق کے دلائل سننے، ان کی غیر جانبدارانہ تحقیق کرنے اور طاقتور فریق سے حق دلوانے کی جرات نجی پنچایتی نظام میں شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔

اکثر یہ ہوتا ہے کہ کمزور فریق کو پورا مؤقف بیان کرنے اور اپنے دلائل پیش کرنے کا حق دیے بغیر ہی معاشرتی دباؤ کے تحت صلح پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ یوں نہ صرف مظلوم انصاف سے محروم رہتا ہے بلکہ معاشرے میں انصاف کے لیے آواز اٹھانے کی جرات بھی جنم لینے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔

اگر پنچایتوں اور جرگوں میں فریقین کو برابر کی حیثیت دی جائے، کمزور اور مظلوم کے مؤقف کو دیانت داری سے سنا اور سمجھا جائے، حقائق کی روشنی میں فیصلے کیے جائیں اور مظلوم کو انصاف دلوانے کے لیے عملی کردار ادا کیا جائے تو شاید معاشرہ واقعی امن کا گہوارہ بن سکے، مگر افسوس کہ عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔

کیا ہوتا ہے؟

ایک طرف ظلم، حق تلفی اور درندگی جاری رہتی ہے، تو دوسری جانب پنچایتی کمزور یا مظلوم فریق کو قانونی راستہ اختیار کرنے سے روکنے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ معاملے کو دبانے اور ختم کرنے کے لیے نجی پنچایت یا جرگے کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں فاتح ہمیشہ طاقتور فریق ہوتا ہے۔ بدنامی، دباؤ اور شرمندگی کا بوجھ کمزور اور مظلوم کے حصے میں آتا ہے، جبکہ صلح نامے پر دستخط کے لیے بھی اسی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

ہمارے فریب زدہ معاشرے میں یہی المیہ روزانہ کی بنیاد پر دہرایا جا رہا ہے۔ پنچایتی نظام انصاف کی فراہمی کے بجائے انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ بعض صورتوں میں مالی طور پر مضبوط اور بااثر فریق سے بھتہ وصول کر کے فیصلہ کمزور فریق پر زبردستی مسلط کیا جاتا ہے، جبکہ کمزور سے ناغے (غیر قانونی جرمانے) کے نام پر رقوم بٹوری جاتی ہیں۔

جرگوں کی تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو کہ ناغے کے نام پر وصول کی گئی رقم سے مظلوم یا کمزور کو کوئی فائدہ پہنچا ہو۔ عموماً یہ رقم پنچایتی خود ہضم کر جاتے ہیں۔ کئی کیسز ایسے بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جہاں کمزور فریق سے لیا گیا ناغہ طاقتور اور پنچایتی مل کر آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ناغہ طاقتور فریق سے وصول بھی کر لیا جائے تو کمزور یا مظلوم کو پنچایت چھوڑنے یا واپس کرنے کا پابند بنا دیا جاتا ہے۔

یہ تمام طرزِ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ آئینی اصولوں کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 10-A کے تحت ہر فرد کو منصفانہ سماعت اور شفاف انصاف کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 25 قانون کے سامنے تمام شہریوں کی برابری کا اعلان کرتا ہے۔ نجی پنچایتوں اور جرگوں کے ذریعے کسی شہری کو عدالت سے رجوع کرنے سے روکنا یا دباؤ کے تحت فیصلے مسلط کرنا ان آئینی ضمانتوں کو عملاً بے معنی بنا دیتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (UDHR) ہر انسان کو انصاف تک رسائی، انسانی وقار اور جبر سے تحفظ کا حق دیتا ہے۔ کسی غیر رسمی اور غیر جوابدہ نظام کے ذریعے مظلوم کو خاموش کرانا دراصل اس کے بنیادی انسانی حقِ انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔

الغرض، نجی پنچایتی نظام کی یہ تمام خامیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس فرسودہ نظام کو یا تو ختم کیا جائے یا پھر اسے قانون کی واضح سرپرستی میں لایا جائے، تاکہ بااثر طبقہ قانون اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔

اس مقصد کے لیے ڈی آر سی (Dispute Resolution Committees) جیسے ادارے موجود ہیں، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مزید فعال بنایا جائے۔ علاقائی سطح پر مخلص، باخبر اور باکردار افراد پر مشتمل ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جن کی نگرانی صحافیوں اور پولیس افسران کے ذمے ہو۔

یا پھر اس فرسودہ اور انصاف شکن نجی پنچایتی نظام کو کنٹرول کرنے کی کم سے کم صورت یہ ہوگی کہ ہر جرگے اور پنچایت میں صحافتی نمائندگی کو لازمی قرار دیا جائے۔ اس کے بغیر منعقد ہونے والے جرگے کو غیر قانونی قرار دے کر منتظمین اور فریقین کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ کسی بھی فریق پر معاشرتی دباؤ ڈال کر اسے زبردستی صلح پر آمادہ نہ کیا جا سکے، اور نہ ہی کسی کمزور کے مقابلے میں طاقتور اور بااثر افراد کے ظلم کو چھپایا جا سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے