گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک اعلان دیکھا کہ مفتی شمائل ندوی اور اختر صاحب کے درمیان مناظرہ ہوگا۔ دل میں تجسس جاگا کہ کل دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ نہ مفتی صاحب کو جانتا تھا نہ اختر صاحب کو۔ مگر وقتِ مقررہ پر جب فیس بک کھولا تو ہر جگہ ایک ہی صدا گونج رہی تھی: ویل ڈن مفتی صاحب!
یوٹیوب پر مناظرے کی مکمل ویڈیو ملی۔ دو گھنٹے کی اس علمی نشست کو دیکھا، اور یوں محسوس ہوا جیسے صدیوں پرانے اکابر علما کی آواز آج دوبارہ زندہ ہو گئی ہو۔ اتنے حساس موضوع پر اتنی پُرامن، شائستہ اور مدلل گفتگو دیکھ کر دل خوشی سے بھر گیا۔ ایک مدرسے کے طالب علم کو، جو اس وقت پی ایچ ڈی ریسرچ کر رہا ہے، اتنے اعتماد اور منطقی قوت کے ساتھ اپنے مخالف کو جواب دیتے دیکھنا ناقابلِ بیان مسرت کا باعث بنا۔
آج کئی سوالوں کے جواب ملے، کئی حقیقتیں آشکار ہوئیں۔ یہ احساس دل میں اتر گیا کہ اصل علم کا سرچشمہ اسلام ہے۔ عقل و منطق کی بنیاد اسلامی تعلیمات میں ہے، اور ان کو بروئے کار لانے کی صلاحیت سب سے زیادہ علما کے پاس ہے۔ وہ لوگ جو علما کو ماضی کی سوچ کا طعنہ دیتے تھے، آج حیران تھے کہ کس طرح ایک عالم اپنے مخالف کو دلائل سے لاجواب کر رہا ہے، وہ بھی اسلامی حلیے کے ساتھ۔
آج کے دن یہ حقیقت سامنے آئی کہ علم کے لیے چہرہ یا لباس بدلنے کی ضرورت نہیں۔ آج مدرسہ جیت گیا، اسکول اور فلمی دنیا ہار گئی۔ آج داڑھی نے فتح حاصل کی اور کلین شیو کا تصور شکست کھا گیا۔ آج جُبہ کلچر کامیاب ہوا اور مغربی تہذیب، جو علما کو 1400 سال پرانی سوچ کا حامل کہتی تھی، ہار گئی۔