کوئٹہ پریس کلب سے نکلیں تو دائیں جانب مسجد کے ساتھ کئی برسوں سے وائس فار مسنگ پرسن کا کیمپ لگا ہوا ہے۔ ماما قدیر بلوچ اس کیمپ میں لاپتہ افراد کی تصاویر آویزاں کیے بیٹھے ہیں۔ میں سال میں دو تین بار کوئٹہ کا چکر لگاتا ہوں اور ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئٹہ جاؤں اور پریس کلب نہ جاؤں، پریس کلب جاؤں اور ماما قدیر بلوچ کے کیمپ میں نہ پہنچوں۔

پریس کلب کے دامن میں شہزادہ ذوالفقار صاحب، سلیم شاہد صاحب، بنارس صاحب، عرفان سعید صاحب اور اکبر نوتیزئی صاحب سمیت کئی صحافی دوست جمع ہوتے ہیں اور شام اپنے غم بھلا دیتی ہے۔ کافی عرصہ پہلے کوئٹہ پہنچا تو میری سہیلی جلیلہ حیدر نے کہا کہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کا احتجاجی مظاہرہ ہے، وہاں چلتے ہیں۔ میں چلا گیا اور آئی بی سی اردو کے لیے ایک رپورٹ بھی بنائی، ساتھ ہی ماما کا انٹرویو بھی کیا۔
ماما سے تعارف اس وقت ہوا جب انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا تھا۔ میں جیو نیوز پر حامد میر صاحب کے پروگرام "Capital Talk” کے لیے رپورٹنگ کرتا تھا۔ حامد میر صاحب نے کہا کہ ہمیں اس مارچ کی مکمل کوریج کرنی ہے۔ میں نے پنجاب سے لے کر اسلام آباد تک ماما کے لانگ مارچ کو کور کیا۔ کوریج کے دوران ہر ضلع میں مقامی لوگ لانگ مارچ کے شرکاء کے لیے کھانا لاتے، پانی پیش کرتے اور جہاں پڑاؤ ہوتا، وہاں حفاظت کا بندوبست بھی کرتے۔ یہ بات ماما نے بڑے فخر کے ساتھ مجھے ریکارڈ کروائی تھی، پاکستان کا کوئی چینل اس مارچ کو کور نہیں کر رہا تھا۔
میرے لیے بھی رپورٹنگ کے مسائل پیدا ہوتے رہے۔ کبھی ہمیں ریکارڈنگ سے روکا جاتا، کبھی کوئی آکر پوچھتا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور ریکارڈنگ کے لیے اجازت کہاں سے لی ہے۔ کبھی کوئی کیمرے کے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا اور ریکارڈنگ کرنا مشکل ہو جاتا۔ اخبار خاموش تھے۔ ایک روز حامد میر صاحب نے کہا کہ میں بھی جاؤں گا۔انہیں سیکورٹی کے مسائل درپیش تھے لیکن خیر ہم مارچ میں پہنچے۔

ماما کے ساتھ لاپتہ افراد کےبچے تھے ، لاپتہ بھائیوں کی بہنیں تھیں. ماما خود ایک لاپتہ ہونے کے بعد ملنے والی مسخ شدہ لاش کے وارث تھے ماما کے قافلے میں ایک بچہ بھی تھا ، وہ بھی اس مسخ شدہ لاش کا وارث تھا. ماما کو کہا گیا تھا کہ تمھیں تمھارا بیٹا مل جائے گا ، وعدہ کرنے والوں نے جھوٹ نہیں بولا ، ماما کو اگلے روز کہا گیا کہ فلاں جگہ سےاپنا بیٹا اٹھا لو ، ماما اس جگہ پہنچا تو وہاں ایک مسخ شدہ لاش پڑی ہوئی تھی . ماما نے ایک بار بے اشک نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور پوتے کو ساتھ لیکر بیٹے کی لاش بلوچ مٹی میں دفنا دی .

ماما سے جب بھی بات ہوتی تھی، ان کے لہجے میں جذبات نہیں ہوتے تھے۔ ان کا چہرہ سپاٹ ہوتا، ملتے وقت مجبورا مسکرا دیتے۔ ان کے پاس مسکرانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ آنکھیں خشک تھیں اور زبان دکھ بیان کرنے سے قاصر تھی۔ ماما سے مل کر یوں لگتا تھا جیسے مختلف سمتوں میں جانے والے مسافر بس اڈے کی انتظار گاہ میں ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے ہوں۔ ماما کے پاس گہرے دکھ کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، اور انہیں حرف تسلی دینے کے بعد بھی ڈر لگتا تھا۔ سوال کرنا کار بیکار لگتا تھا۔
ماما کے پاس دکھ کی کوئی ایک کہانی تھوڑی تھی ، ان کے پاس ہر واقعے کی مکمل کہانی موجود تھی . کیمپ کی چاروں طرف لاپتہ افراد کی تصویریں آویزاں رہتی تھیں۔ ماما نے مجھے ایک ایک کر کے سب تصویروں کی کہانیاں سنائیں۔ ما ما کو ہر سیاسی جماعت کے رہنماؤں نے تسلیاں دیں ۔ ماما کو ہر سیاسی جماعت کی مرکزی رہنماؤں نے تسلیاں دی تھیں . ماما کے کیمپ میں جو داخل ہوتا ، ماما کو خوشی ہوتی نا غصہ آتا . وہ انہیں بے زبان مخلوق سمجھ کر احترام دیتے اور خاموشی سے ان کے وعدے اور دعوے سن کر انہیں رخصت کر دیتے . ان کی آنکھوں سے آنسو خشک ہو چکے تھے، زبان ان کے دل کے دکھ کو بیان کرنے سے قاصر تھی، ان کے دل کے ارمان دل میں ہی قبرستان بن چکے تھے .
تین روز پہلے وہی ہوا جسے ایک روز ہونا تھا۔ ماما کے پاس دکھوں کی اپنی پوٹلی تھی ، ماما تھکاوٹ کی حد سے بھی آگے نکل گیا تھا .ایک شام ماما نے سر سے کولہ اور پاؤں سے موچ اتاری۔بے حسی کی اس گلی پر چار حرف بھیج کر نکل کھڑا ہوا ۔ نہ کوئی خلا پیدا ہوا، نہ کوئی محروم ہوا۔، اسے جھکنا نہیں آتا تھا۔ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر جتنا لڑنا تھا، لڑا۔ جتنا چیخنا تھا، چیخا۔ اس کا ضمیر علی کل شئی قدیر تھا . اس کی جنگ تھی، وہ ہار جیت کے معنوں سےبے نیاز ہو کر اور بلند ہو کر لڑتا گیا . ماما نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی معاشرے میں انصاف ،عدم تشدد ، انسانی حقوق اور آئین و قانون کی پاسداری کی بات کی .
ماما قدیر بلوچ کوئی لیڈر، صحافی، ادیب، خطیب، شاعر، مفکر یا سیاسی و سماجی رہنما نہیں تھے۔ ان کے پاس بیرونی ویزے تھے اور ناہی کوئی فنڈنگ ، وہ کسی ایجنڈے یا دھندے کے لیے استعمال نہیں ہوئے . انہیں زیادہ کہنا نہیں آتا تھا، لیکن سہنے کا ہنر بہت تھا۔ ان کے نعرے نہیں لگے، لیکن بلوچوں کی بستیوں میں چولہے ان کے جانے پر نہیں جلے۔
تقریباً ایک سال گزر چکا ہے، میں کوئٹہ نہیں گیا، اور سچی بات یہ ہے کہ جانے کا دل بھی نہیں کرتا۔ کچھ عرصہ پہلے حافظ حسین احمد صاحب کا انتقال ہو گیا، دو ماہ پہلے معروف شاعر علی بابا بھی چھوڑ گئے، اور اب ماما بھی رخصت ہو گئے۔ کوئٹہ کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔

گذشتہ برس جب میں کوئٹہ میں تھا تو ماما کے کیمپ میں چلا گیا۔ ماما سے چائے پی، آدھا گھنٹہ بیٹھا۔ پہلی بار ماما نے کہا، "پہلے تو تم لوگ ہماری کچھ خیر خبر لگادیتے تھے، اب تو ہمارے لیے کہیں بھی آواز نہیں اٹھتی۔” میرے پاس جواب تو تھا نہیں، بات بدلنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ تھوڑی دیر خاموشی سے بیٹھا رہا پھر نکل آیا۔ ماما قدیر بلوچ کی اس کے بعد آواز نہیں سنی، اب تو سننے کا امکان ہی ختم ہوگیا۔