کسی بھی قوم کی ثقافت اس کی شناخت اور اجتماعی روح کی علامت ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں اسی ثقافت کو متنازع بنانے کی منظم کوششیں کی گئیں۔
ملاکنڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ساجد محسود کے اتن سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں، حالانکہ اتن میں کسی بھی طالبہ کی شرکت موجود نہیں تھی۔ اس کے باوجود دانستہ طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک مخلوط ثقافتی اتن تھا، تاکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور پروفیسر ساجد محسود کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ سوشل میڈیا مہم، پریس کانفرنسز اور آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد واضح طور پر یونیورسٹی پر دباؤ ڈالنا، ثقافتی سرگرمیوں پر قدغن لگوانا اور اتن جیسے قدیم روایتی عمل کو جرم کے طور پر پیش کرنا تھا، حالانکہ یہ ہماری تاریخ اور تہذیب کا بنیادی جزو ہے۔
یہ معاملہ محض ثقافتی اختلاف تک محدود نہیں بلکہ نئی نسل کے فکری شعور پر براہِ راست حملہ ہے۔ شدت پسند عناصر نوجوانوں کو ثقافت، محبت اور اپنی پہچان سے دور کر کے انتہاپسندانہ سوچ کی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ پختون ثقافت کا خاتمہ خود پختون نوجوانوں کے ہاتھوں ہو۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی قوم کو اس کی شناخت سے محروم کر دیا جائے تو وہ دوسروں کے مفادات کی آلہ کار بن جاتی ہے، جس کے نتیجے میں پورا خطہ نفرت اور تشدد کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ ثقافتی سرگرمیوں کا دفاع دراصل امن، شعور اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کا تحفظ ہے، اور ایسے مواقع پر خاموشی سب سے بڑی کوتاہی بن جاتی ہے۔
اسی تناظر میں میں نے ملاکنڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ساجد محسود سے گفتگو کی۔ ان کے مطابق اتن پشتون قوم کا قدیم اور معتبر رقص ہے جو افغانستان سے ليکر بلوچستان، سابقہ فاٹا اور کوہاٹ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ محض رقص نہیں بلکہ ایک اجتماعی ثقافتی اظہار ہے، جس کے ذریعے لوگ خوشیاں بانٹتے، باہمی رشتوں کو مضبوط کرتے اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ ماضی میں شادی یا خوشی کے مواقع پر پورا گاؤں شریک ہوتا تھا؛ مرد اور خواتین اپنی روایات کے مطابق مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ تاہم گزشتہ دہائیوں میں جنگ اور دہشت گردی نے ان روایات کو شدید متاثر کیا، اگرچہ اتن کا جذبہ آج بھی مردوں اور خواتین میں زندہ ہے۔
پروفیسر محسود کے مطابق اتن تفریح سے کہیں بڑھ کر اجتماعیت اور سماجی ربط کو مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے۔ ڈول یا نغارہ مختلف مواقع پر مختلف انداز میں بجایا جاتا ہے، جس سے پیغام فوراً سمجھ لیا جاتا ہے۔ خطرے کی صورت میں مخصوص آواز لوگوں کو جمع کرتی ہے تاکہ فوری ردعمل ممکن ہو، جبکہ شادی یا جشن میں ڈول کی لے خوشی اور مسرت کی علامت ہوتی ہے۔ اس طرح اتن اور اس سے جڑی موسیقی اجتماعی زندگی میں بیداری، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اتن اور دیگر فنونِ لطیفہ ثقافت، تاریخ اور امن پسند رویّوں کو نئی نسل میں منتقل کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ گزشتہ پچیس برسوں میں دہشت گردی نے سماجی رشتوں کو کمزور کیا ہے، ایسے میں ثقافت اور فنونِ لطیفہ نوجوانوں کو سکون، انسانی محبت اور رواداری سکھاتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ اپنے تاریخی ورثے سے جڑتے، اجتماعی رویّوں کو سمجھتے اور معاشرتی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر اتن یا فنونِ لطیفہ پر پابندی عائد کر دی جائے تو نئی نسل اپنی ثقافت کے ساتھ ساتھ امن پسند تربیت سے بھی محروم ہو جائے گی، جو سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
پروفیسر محسود نے واضح کیا کہ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا۔ تمام پروگرامز روایتی اصولوں اور ثقافتی حدود کے مطابق ترتیب دیے گئے۔ یونیورسٹی میں مخلوط مشاعرے، نعت خوانی اور اسلامی مقابلے بھی ہوتے ہیں، جہاں لڑکے اور لڑکیاں مناسب فاصلے کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد پشتون روایات کی تضحیک نہیں بلکہ طلبہ کو حجرہ، جرگہ، اتن اور نماز جیسے تصورات سے عملی طور پر روشناس کرانا تھا تاکہ وہ اپنی تہذیب کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو قوم اپنی ثقافت کو زندہ رکھتی ہے، وہ فطری طور پر تشدد سے دور اور ترقی کی طرف گامزن رہتی ہے۔ چترال کا شندور فیسٹیول، سوات کی سواتی ٹوپی، سندھ کی سندھی ٹوپی اجرک ڈے اور دیر و ملاکنڈ ڈویژن میں روایتی ٹوپی کے دن منانا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ثقافت لوگوں کے دلوں میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔
ایسی سرگرمیاں محض تہوار نہیں بلکہ سماجی شعور، برداشت اور امن کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں، جو معاشرے کو انتشار اور تشدد سے محفوظ رکھتی ہیں۔
اس حوالے سے میں نے ملاکنڈ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ سوسائٹیز، ڈاکٹر مقصود الرحمان عشرت سے بھی بات کی۔ ان کے مطابق یونیورسٹی کے پچیس سالہ جشن میں اتن اور ثقافتی سرگرمیوں کا مقصد طلبہ کو ان کی شناخت، اقدار اور تاریخی ورثے سے جوڑنا تھا۔ ثقافت نہ صرف ماضی سے رشتہ قائم کرتی ہے بلکہ امن اور اجتماعی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی قوت بھی فراہم کرتی ہے۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی اور تشدد نے سماجی تعلقات کو متاثر کیا، ایسے حالات میں اتن اور فنونِ لطیفہ نوجوانوں کے لیے سکون، محبت اور باہمی ربط کا مؤثر راستہ بنے۔
ڈاکٹر عشرت کے مطابق یونیورسٹی کے ثقافتی پروگرامز طلبہ میں اجتماعیت، ثقافتی آگاہی اور امن پسندی پیدا کرنے کے لیے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ اگر اتن یا فنونِ لطیفہ پر قدغن لگائی گئی تو نئی نسل نہ صرف اپنی ثقافت بلکہ امن اور محبت کے اسباق سے بھی محروم ہو جائے گی۔ گزشتہ پچیس برسوں کی دہشت گردی نے نوجوانوں کے تعلقات میں جو خلا پیدا کیا ہے، اسے پُر کرنے کا سب سے مضبوط ذریعہ ثقافت اور فنونِ لطیفہ ہی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یونیورسٹی میں کبھی مخلوط یا غیر مناسب ثقافتی سرگرمیاں منعقد نہیں کی گئیں اور نہ ہی پشتون یا اسلامی روایات کی بے حرمتی کا کوئی ارادہ رہا۔ سوشل میڈیا اور پریس کانفرنسز کے ذریعے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں پر مقامی جرگے، وائس چانسلر اور یونیورسٹی نمائندوں نے بیٹھ کر بات کی، تمام نکات واضح کیے گئے، غیر ارادی خامیوں کو تسلیم کیا گیا اور آئندہ پروگرامز میں مقامی روایات کے مکمل احترام کا یقین دلایا گیا۔
اسی موضوع پر پشتون دانشور، شاعر، ادیب اور محقق نورالامین یوسف زئی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اتن اور دیگر زیبا ہنر انسان کی فطرت کا حصہ ہیں۔ شاعری، موسیقی، مصوری، خطاطی اور فنِ تعمیر انسان کو تخلیق، محبت اور امن کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ معاشرے جہاں فنونِ لطیفہ کو فروغ ملتا ہے، وہاں تشدد کمزور پڑتا ہے اور انسان زیادہ مہذب، حساس اور متوازن بنتا ہے۔
نورالامین یوسف زئی کے مطابق اتن پختونوں کے غیر مادی ثقافتی ورثے کا اہم جزو ہے۔ یہ رقص خوشی، زندگی سے محبت اور تاریخی جنگی مشقوں کی علامت بھی ہے۔ اتن میں نہ فحاشی ہے اور نہ ہی بدنامی، بلکہ یہ نوجوانوں میں وقار، خوبصورتی اور اپنی جڑوں سے وابستگی پیدا کرتا ہے۔ ہر خطے کا مخصوص رقص نوجوانوں کو اپنی شناخت سے جوڑتا ہے اور اجتماعی شعور کو مضبوط کرتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ معاشرتی حالات میں معاشرہ ایک پرتشدد ہجوم کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں منطق، فن اور فلسفہ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ایسے عناصر درحقیقت ان قوتوں کے معاون بن رہے ہیں جو پختونوں کو نوآبادیاتی حالت میں رکھ کر ان کے وسائل اور شناخت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ پختون ثقافت، جرگہ، حجرہ، اتن اور زبان کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ قوم کی اجتماعی روح کمزور کی جا سکے۔ حجروں کو ویران کرنا اور زیبا ہنر کو مشکوک بنانا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ حجروں اور مساجد تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ ثقافتی شعور ماند پڑ جائے۔
ملاکنڈ یونیورسٹی کے پروفیسروں اور پشتون دانشور نورالامین یوسفزئی صاحب کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کی ہر ترقی یافتہ قوم نے اپنے کلچر کی حفاظت کی ہے، اسی لیے وہ زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کر سکی ہے جبکہ وہ قومیں جو اپنے ثقافت کی حفاظت اور احترام نہیں کرتیں، وہ آہستہ آہستہ صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آج سے نصف صدی قبل پشتون علاقوں میں جہاں بھی شادی یا کوئی خوشی کی تقریب ہوتی تھی، وہاں پورا گاؤں اکٹھا ہو جاتا تھا، کیونکہ ایک ہی گاؤں میں ایک ہی قبیلے کے عزیز و رشتہ دار رہتے تھے۔ مرد اور خواتین مل کر خوشی کے اظہار کے لیے اتن کرتے تھے جو ایک پاکیزہ رقص ہے، جس میں نہ کوئی ہوس شامل ہوتی ہے اور نہ ہی روایات کی پامالی۔ یہ دراصل خوشی اور اجتماعی مسرت کے اظہار کا ایک فطری اور ثقافتی انداز تھا۔
لیکن افغان انقلاب کے بعد جہاد کے نام سے شروع ہونے والے جنگ کی وجہ گہری تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ سماجی ڈھانچہ متاثر ہوا، مقامی اقدار اور روایات کو نقصان پہنچا اور ایک مخصوص پروپیگنڈے کے تحت لوگوں کو اپنے کلچر سے دور کر کے جہاد کے نام پر گمراہ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں پورے خطے میں دہشت گردی کی ایک لہر اٹھی جس نے معاشرتی توازن کو بگاڑ دیا اور مرد و خواتین کے فطری، ثقافتی اور اجتماعی اتن پر قدغنیں عائد کر دی گئیں، یہاں تک کہ خوشی، جوش اور زندگی کی رنگینی بھی محدود ہو کر رہ گئی۔
ملاکنڈ یونیورسٹی کے اس واقعہ کو ديکها جائے تو میرے نزدیک اگر یہ عناصر واقعی علاقے کے خیر خواہ ہوتے تو گیارہ برس قبل قائم ہونے والے تیمرگرہ میڈیکل کالج لوئر دیر کی غیر فعالیت پر آواز اٹھاتے، جہاں درجنوں ملازمین تنخواہیں اور کروڑوں کے فنڈز تو وصول کر رہے ہیں مگر کالج تاحال فعال نہیں۔ یہ وہی خطہ ہے جہاں لڑکیوں کی میڈیکل تعلیم اور خواتین ڈاکٹروں کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو دور دراز شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے اور علاقے میں علم و شعور کی روشنی پھیلے۔
میری رائے میں تعلیم اور ثقافت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جہاں تعلیم کا چراغ روشن ہوتا ہے وہاں شدت پسندی دم توڑ دیتی ہے، اور جہاں ثقافت کو دبایا جاتا ہے وہاں اندھیرا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اگر ثقافتی اظہار اور تعلیمی اداروں کو کمزور کیا گیا تو نئی نسل سوال کرنے کے بجائے خوف اور خاموشی کی عادی ہو جائے گی۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کے لیے روشنی چاہتے ہیں یا تاریکی۔ ثقافت، تعلیم اور مکالمہ ہی وہ راستے ہیں جو اس خطے کو تشدد سے نکال کر امن، ترقی اور اجتماعی شعور کی سمت لے جا سکتے ہیں۔