خاموش حرام خوری

یہ کوئی مفروضہ نہیں، کوئی سنی سنائی بات نہیں، یہ وہ حساب ہے جو میری اپنی آنکھوں کے سامنے ہوا، میری اپنی جیب سے نکلا، اور میری اپنی عقل نے پکڑا۔ آٹو فل کروایا، مشین نے اسکرین پر لکھا: 14951.22 روپے۔ جب ادائیگی ہوئی تو رسید پر رقم تھی: 14952۔ بظاہر معمولی سا فرق، صرف 78 پیسے۔ عام آدمی کہے گا چھوڑو، کون سا خزانہ لٹ گیا۔ مگر یہی وہ جگہ ہے جہاں اصل کہانی شروع ہوتی ہے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں اجتماعی حرام خوری کو “سسٹم” کا نام دے کر جائز بنا دیا جاتا ہے۔

ایک گاڑی سے 78 پیسے۔ اگر ایک دن میں ایک لاکھ گاڑیاں آئیں اور بڑے شہروں، موٹرویز، اور مصروف پمپوں پر یہ تعداد کوئی غیر معمولی نہیں تو یہ بنتے ہیں 78,000 روپے روزانہ۔ اب ذرا ماہانہ حساب لگائیں: 23 لاکھ 40 ہزار روپے۔ سال کا حساب لگائیں تو کروڑوں۔ یہ سب بغیر شور، بغیر ہتھیار، بغیر ڈاکے، صرف ایک عدد کو اوپر کی طرف گول کر دینے سے۔ نہ کسی نے زبردستی کی، نہ کوئی چیخا، نہ کوئی پولیس آئی۔ سب کچھ قانون کے اندر رہ کر، مگر انصاف سے باہر۔

یہ وہ لوٹ ہے جس میں نہ چہرہ دکھانا پڑتا ہے، نہ ہاتھ گندا ہوتا ہے۔ ایک الگورتھم، ایک سافٹ ویئر، ایک “راؤنڈ آف”۔ سوال یہ نہیں کہ 78 پیسے کم یا زیادہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو یہ حق حاصل ہے؟ اگر مشین 14951.22 بتا رہی ہے تو وصولی بھی وہی ہونی چاہیے۔ اگر مشین 14951.22 نہیں سنبھال سکتی تو پھر قیمت 14951 ہی دکھائی جائے، 14952 کیوں؟

یہاں مسئلہ پیسے کا نہیں، نیت کا ہے۔ نیت یہ ہے کہ چونکہ فرد کمزور ہے، اکیلا ہے، بحث نہیں کرے گا، اس لیے ہر ایک سے تھوڑا تھوڑا کاٹ لیا جائے۔ یہی تھوڑا تھوڑا مل کر پہاڑ بنتا ہے۔ یہی وہ فلسفہ ہے جس پر ہماری بہت سی بڑی کمپنیاں، ادارے اور نظام کھڑے ہیں: فرد سے معمولی زیادتی، مگر تعداد اتنی کہ حساب لگانے والا بھی گھبرا جائے۔

ہم نے حرام کو صرف رشوت تک محدود کر دیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے حرام وہ ہے جو لفافے میں دیا جائے، یا میز کے نیچے سے لیا جائے۔ حالانکہ حرام وہ بھی ہے جو مشین کے ذریعے، رسید کے ذریعے، اور قانون کی اوٹ میں کاٹا جائے۔ اگر صارف نے 78 پیسے دینے پر رضامندی ظاہر نہیں کی، اگر اسے بتایا نہیں گیا، اگر اسے اختیار نہیں دیا گیا، تو یہ سیدھی سیدھی زیادتی ہے چاہے اسے “سسٹم چارج” کہہ دیں یا “ٹیکنیکل ایڈجسٹمنٹ”۔

یہ بھی دلچسپ ہے کہ اگر کبھی یہی مشین 14951.78 دکھا دے تو کیا 14951 وصول کیے جائیں گے؟ نہیں۔ وہاں گول نیچے نہیں ہوگا، وہاں پورا پورا وصول کیا جائے گا۔ یعنی اصول صرف ایک طرفہ ہے۔ فائدہ ادارے کا، نقصان عوام کا۔ یہی عدم توازن حرام کو جنم دیتا ہے۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں بڑے ڈاکے پر شور مچتا ہے، مگر چھوٹی چھوٹی کٹوتیوں پر سب خاموش رہتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بڑے ڈاکوں سے نہیں، مسلسل چھوٹی زیادتیوں سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔ جب آدمی کو یقین ہو جائے کہ اس کے 78 پیسے بھی محفوظ نہیں، تو پھر وہ نظام پر اعتبار کیسے کرے؟

میرے لیے یہ کوئی فلسفیانہ بحث نہیں، یہ ذاتی تجربہ ہے۔ میں نے پیسے دیے، میں نے حساب لگایا، اور میں نے دیکھا کہ یہ ایک منظم طریقہ ہے۔ کوئی ایک پمپ نہیں، کوئی ایک دن نہیں۔ یہ پورا ماڈل ہے۔ اور ماڈل جب حرام پر کھڑا ہو تو اس کی عمارت جتنی بھی چمکدار ہو، اندر سے کھوکھلی ہی ہوتی ہے۔

ہمیں بطور صارف سوال اٹھانا ہوگا۔ ہمیں رسید دیکھنی ہوگی، حساب مانگنا ہوگا، اور یہ کہنا ہوگا کہ “جو دکھایا ہے، وہی لو”۔ کیونکہ اگر آج 78 پیسے پر خاموشی ہے تو کل 7 روپے ہوں گے، پرسوں 70، اور پھر ہم کہیں گے کہ سب کچھ اچانک مہنگا کیسے ہو گیا۔

مہنگائی اچانک نہیں آتی، اسے آہستہ آہستہ، گول کر کے، اوپر کی طرف بڑھایا جاتا ہے۔ اور جب سب اس میں شریک ہو جائیں تو پھر کسی ایک کو الزام دینا بھی ممکن نہیں رہتا۔ مگر حق اور حرام کا فرق پھر بھی واضح رہتا ہے چاہے رقم 78 پیسے ہی کیوں نہ ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے