پاکستان ایک خواب تھا، ایک تصور تھا، جو علامہ اقبال کی فکر اور قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد سے حقیقت میں ڈھلا۔ اس خواب میں ایک ایسا ملک دکھایا گیا تھا جہاں انصاف ہو، مساوات قائم ہو، تعلیم کو ترجیح دی جائے، معاشی خودمختاری حاصل ہو، اور مسلمانوں کی دینی و ثقافتی شناخت محفوظ رہے۔ یہ وہی "خیال کا پاکستان” تھا جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، جائیدادیں قربان کیں، رشتہ داروں سے جدائی برداشت کی، حتیٰ کہ جان تک کی قربانیاں دیں۔
یہ فیصلہ آسان نہ تھا۔ مستقبل کے حالات کا کچھ پتہ نہ ہونے کے باوجود صرف ایک امید پر یہ مشکل قدم اٹھایا گیا۔ مگر آج جب پاکستان کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالی جاتی ہے تو ایک مزدور سے لے کر پی ایچ ڈی اسکالر تک، جوتے پالش کرنے والے سے لے کر عمارتیں ڈیزائن کرنے والے انجینئر تک، تقریباً 90 فیصد لوگوں کی خواہش پاکستان کو چھوڑنے کی ہے۔
چھوڑ کر جانے والوں سے جب وجہ پوچھی جاتی ہے تو جواب ملتا ہے: "پاکستان میں مستقبل نہیں۔”
یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ مستقبل کیوں نہیں؟ کیا اقبال نے غلط خواب دیکھا تھا؟ کیا قائد کی جدوجہد بے معنی تھی؟ یا وہ لاکھوں لوگ جنہوں نے قربانیاں دیں، نادان تھے؟
حقیقت یہ ہے کہ اقبال کا خواب درست تھا، قائد کی محنت سچی تھی، اور قربانیاں دینے والے بہتر مستقبل کے لیے آئے تھے۔ مگر سیاستدان اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں ناکام رہے۔ ریاستی ادارے اپنی حدود میں رہ کر ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے۔ عوام کے لیے روٹی کھانا مشکل بنا دیا گیا، علاج مہنگا کر دیا گیا، انصاف ناپید ہوا، تعلیم کمزور ہوئی۔ حکمران طبقہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں مصروف رہا اور عوام ان کی عیاشیوں کے بوجھ تلے کچلے جاتے رہے۔
آج وہ وقت آ گیا ہے کہ اقبال کے مثالی پاکستان کے جوان، قائداعظم اور لاکھوں قربانی دینے والوں کے احسان کو پسِ پشت ڈال کر پاکستان کو چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ المیہ صرف ماضی کی قربانیوں کا نہیں بلکہ مستقبل کی امیدوں کا بھی ہے۔
پاکستان کا خواب غلط نہیں تھا، مگر اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جس قیادت، جس ادارہ جاتی دیانت اور جس عوامی شعور کی ضرورت تھی، وہ فراہم نہ ہو سکا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی اس خواب کو زندہ کر سکتے ہیں؟ یا یہ خواب صرف تاریخ کی کتابوں میں ایک باب بن کر رہ جائے گا؟