صاحب زادگان کاظمی : کردار کی میراث

جب بھی شخصیات پر لکھنے کی باری آتی ہے تو دل اس گمان کے ساتھ بھاری ہو جاتا ہے کہ کہیں کسی کی بے جا تعریف نہ ہو جائے، یا کسی ایسی خوبی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا گناہ سرزد نہ ہو جائے جو حقیقت سے متصادم ہو۔ اسی اندیشے کے باعث مہینوں گزر جاتے ہیں اور کسی ایک شخصیت پر چند الفاظ جوڑ کر مضمون کی صورت دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ گزشتہ تقریباً دو برس سے علامہ پیر سید امیر علی شاہ کاظمی (مرحوم) کے صاحبزادگان کی کمال خوبیوں پر کچھ لکھنے کا ارادہ کئی بار کیا، مگر کبھی کوئی مصروفیت آڑے آ گئی اور کبھی ذہن الجھ کر کہیں اور جا اٹکا، یوں یہ کام ادھورا ہی رہا۔

لیکن آج جب حضرت علامہ کاظمی صاحب (مرحوم) کی ایک ویڈیو (تقریر) فیس بک پر دیکھی تو خیال نے دستک دی اور ارادہ پختہ ہو گیا کہ اس بار یہ ادھورا کام مکمل کرنا ہے۔ چنانچہ یہ ٹوٹی پھوٹی سی تحریر قارئین کے سامنے ہے، تاکہ ایک حقیقی عالمِ دین کا عکس ان کے صاحبزادگان کے کردار میں دکھایا جا سکے۔

خیر !

لوگ بہت ہیں، بعض کے نمایاں کارنامے بھی ہوں گے، لیکن حضرت کاظمی صاحب (مرحوم) کے صاحبزادگان جیسے بااخلاق، جری، غیرت و حمیت کے جذبے سے لبریز، صبر و استقامت کے مینارے، منافقت سے پاک اور بے باک لوگ دورِ رواں میں کم ہی دستیاب ہوتے ہیں۔

علامہ کاظمی صاحب (مرحوم) کے بعد علامہ ساجد حسین شاہ کاظمی (مرحوم) وہ آئینۂ حق و صداقت تھے جو والدِ گرامی کے کردار کی واضح جھلک دکھاتا تھا، اور جن کی کمی اہلیان مانسہرہ رہتی دنیا تک محسوس کریں گے۔ انہوں نے علامہ کاظمی صاحب (مرحوم) کے نقشِ قدم پر چل کر عظیم باپ کے عظیم فرزند ہونے کا ثبوت دیا ہی تھا کہ داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔

﴿إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾

علامہ کاظمی صاحب (مرحوم) کے دیگر صاحبزادگان میں سید کوثر شاہ کاظمی، سید طاہر علی شاہ کاظمی، سید احمد علی شاہ کاظمی، سید زاید حسین شاہ کاظمی اور سید اظہر حسین شاہ کاظمی شامل ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک کی خوبیاں ذہن پر دستک دیتی ہیں۔ کس کا ذکر کیا جائے اور کسے چھوڑ دیا جائے، یہ بذاتِ خود ایک امتحان ہے۔ تاہم اختصار کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب غیرتِ ایمانی سے سرشار، دین، مسلک اور قومی غیرت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے والے، علم، عمل اور جرأت کے استعارے اور قول و فعل کے حسین امتزاج کے حامل وہ ہیرے ہیں جن کے اجتماعی کردار اور اخلاق کی تعریف سے گریز ممکن نہیں۔

ایسا کیوں نہ ہو کہ وہ ایک عظیم باپ، امیر علی شاہ کاظمی (مرحوم)، کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھے؛ وہ باپ جس نے ہمیشہ عارضی خوشیوں، حرص و لالچ اور مال و دولت پر جرأت، استقامت اور غیرت و حمیت کو ترجیح دینے کا درس دیا۔ جس کے علم، خطابت، حق گوئی، جرأت مندی اور دانش مندی کی گواہی خود زمانہ دیتا ہے۔

ایک ایسا باپ جو خود مستند، متوازن اور روایت و دلیل کا حامل عالمِ دین ہو؛ جس کا جلال منبر پر اور جمال محفلِ یاراں میں یکساں مقبول ہو؛ جس کی شخصیت درد، غیرت اور فکری گہرائی کے امتزاج کی تصویر ہو؛ جسے خواب میں رحمتِ عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی ہو اور جسے مرشد کے انتخاب کے لیے بھی خواب ہی میں رہنمائی عطا ہوئی ہو؛ جس کے شاگرد عالمِ باعمل بنے ہوں اور جو خود عرب و عجم میں خطابت کی پہچان رکھتا ہو، تو پھر ایسے باپ کی اولاد کی تربیت کا معیار کیا ہو گا اور اس کے بیٹوں کے اخلاق و کردار کا عالم کس قدر بلند ہو گا، اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

صاحبزادگانِ کاظمی (مرحوم) کی جملہ خوبیوں کا تذکرہ ایک طویل تحریر کا متقاضی ہے۔ اگر وقت اور گنجائش ہوتی، اور مقصد صاحبزادگان کے بجائے علامہ کاظمی صاحب (مرحوم) کی سیاسی، سماجی اور مذہبی خدمات کا احاطہ کرنا نہ ہوتا، تو خوشامد سے ہٹ کر تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر پانچوں صاحبزادگان کی ایک ایک خوبی کا علیحدہ علیحدہ ذکر کیا جا سکتا تھا، لیکن اس مقام پر زیادہ اہم علامہ کاظمی صاحب (مرحوم) کی گراں قدر خدمات کا تذکرہ ہے۔

علامہ کاظمی صاحب (مرحوم) کی سیاسی زندگی جدوجہد اور غیرتِ ایمانی کی روشن تصویر تھی۔ انہوں نے جمعیت علمائے پاکستان کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا اور ان کا شمار شاہ احمد نورانی (مرحوم) اور مولانا عبدالستار نیازی (مرحوم) کے رفقا میں ہوتا تھا۔ انہوں نے جنرل (ر) اصغر خان نیازی کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پینتالیس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ اس انتخاب میں دستبرداری کے بدلے اس وقت لاکھوں روپے کی پیشکش کو ٹھکرا کر یہ ثابت کیا کہ وہ مال و زر سے نہیں بلکہ مقصد سے محبت کرنے والے صاحبِ ویژن انسان تھے۔

وہ نہ بکے، نہ جھکے اور نہ ڈرے۔ مسئلۂ ختمِ نبوت ﷺ اور ناموسِ رسالت ﷺ پر انہوں نے دلیرانہ اور جرأت مندانہ موقف اختیار کیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کی زندگی دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف تھی اور ان کی سیاست فلاحِ انسانیت کے مقصد سے وابستہ رہی۔ بالآخر وہ وقت بھی آیا کہ اپر سرن ویلی میں میلاد النبی ﷺ کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے المناک روڈ حادثے میں شہادت کا بلند رتبہ پا کر داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔

﴿إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾

اللہ تعالیٰ علامہ پیر سید امیر علی شاہ کاظمی (مرحوم) کے درجات بلند فرمائے، آمین

آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ صاحبزادگانِ کاظمی (مرحوم) کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ اپنے عظیم والد کی علمی، اخلاقی اور فکری میراث کے امین ہیں۔ یہ میراث نہ نعروں میں سمٹتی ہے اور نہ لفظی مبالغے کی محتاج ہے، یہ کردار، استقامت اور غیرتِ ایمانی کی صورت خود بولتی ہے۔ اگر قلم اس حق کی ادائیگی سے قاصر بھی رہے تو نیت اور دردِ دل گواہ رہتے ہیں۔

؎متاح لوح و قلم چھن گیا تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے