گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات(2026) کی فضا غیر معمولی طور پر گرم ہوتی جا رہی ہے۔ اس بار انتخابی معرکہ محض سیاسی نہیں بلکہ ایک گہری حکمت عملی اور خاموش صف بندی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ حافظ حفیظ الرحمان کو وزارت اعلیٰ اور اسمبلی سے باہر رکھنے کے لیے کئی سطحوں پر سرگرمیاں جاری ہیں، اور یہ کوئی اچانک ہونے والا عمل نہیں۔ گزشتہ چھ ماہ سے پس پردہ بہت سی غیر مرئی قوتیں متحرک ہو چکی ہیں، اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو کسی نہ کسی انداز میں اس کھیل کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ 2015 سے 2020 تک کا دور گلگت بلتستان کی ادارہ جاتی ترقی کا سنہرا باب تھا۔ اس عرصے میں گلگت بلتستان سطح پر نہ صرف درجنوں بڑے منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچے بلکہ کئی ایسے منصوبے بھی شروع کیے گئے جو بعد ازاں ثمر آور ثابت ہوئے۔ اسی طرح چھوٹے پیمانے پر بھی بے شمار ترقیاتی کام ہوئے جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، خصوصاً ان کے حلقۂ انتخاب میں۔
اب جبکہ مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت موجود ہے، صورت حال ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر آنے والے انتخابات میں حافظ حفیظ الرحمان کو وزارتِ اعلیٰ سے روک دیا گیا تو اس کا نقصان کسی ایک فرد کو نہیں بلکہ مجموعی طور پر گلگت بلتستان کو ہوگا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ وہ ذاتی طور پر گلگت بلتستان کے گورنر بن کر بھی ایک آرام دہ اور باوقار زندگی گزار سکتے ہیں، مگر سوال فرد کا نہیں، خطے کے مستقبل کا ہے۔ یقیناً اگر انہیں اسمبلی سے باہر رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی گئی تو اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بعض شخصیات صرف عہدوں سے نہیں، اپنے وژن اور سوچ سے قوموں کی سمت متعین کرتی ہیں، اور حافظ حفیظ الرحمان بھی انہی میں سے ایک ہیں۔
الیکشن اور گلگت بلتستان کی سیاست پر یہ ہلکی پھلکی نوک جھونک، اشاروں کنایوں میں بات کہنے کا سلسلہ فی الحال یہیں روکتے ہیں۔ سیاست کا موسم ابھی شروع ہوا ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا، کبھی مسکراہٹیں بولیں گی، کبھی معنی خیز خاموشیاں، اور کبھی ایسے انکشافات سامنے آئیں گے کہ سنجیدہ چہروں پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آ جائے گی۔فی الحال اتنا ہی… باقی قصے پھر سہی۔
احباب کیا کہتے ہیں؟