پاکستانی معاشرے کی ایک بڑی مگر مسلسل نظر انداز کی جانے والی آبادی خواجہ سرا افراد پر مشتمل ہے، جن کی اکثریت محض اپنی صنفی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک، تشدد اور محرومی کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ افراد کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوتے، لیکن اس کے باوجود انہیں ذہنی، جسمانی، نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی سطح پر ایسی اذیتیں دی جاتی ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہئیں۔ عام سماجی رویوں میں خواجہ سرا افراد کو کمزور، نازک اور بے اختیار سمجھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ ہراسانی، تشدد، جنسی استحصال اور بعض اوقات قتل جیسے سنگین جرائم بھی آسانی سے روا رکھے جاتے ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر لیتی ہے جب یہی خواجہ سرا افراد ایچ آئی وی یا ایڈز جیسی بیماری کا شکار ہو جائیں۔ ایچ آئی وی پہلے ہی ایک شدید سماجی بدنامی، خوف اور نفرت سے جڑی بیماری سمجھی جاتی ہے، اور جب یہ مرض خواجہ سرا کمیونٹی کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے تو تعصب کی شدت دوگنی ہو جاتی ہے۔ ایسے افراد نہ صرف ایک دائمی بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں بلکہ انہیں معاشرتی تضحیک، تنہائی اور بے دخلی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بدنامی کے باعث بہت سے خواجہ سرا افراد ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانے سے گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بیماری خاموشی سے پھیلتی رہتی ہے۔
ہر سال یکم دسمبر کو ایڈز کا عالمی دن منایا جاتا ہے، تاہم یہ دن اکثر رسمی تقاریب اور بیانات تک محدود رہتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ان متاثرہ افراد میں ایک نمایاں تناسب خواجہ سرا کمیونٹی کا بھی شامل ہے، مگر ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بدنامی اور خوف کے باعث بڑی تعداد رجسٹریشن اور اسکریننگ سے باہر رہ جاتی ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ ایچ آئی وی کی منتقلی صرف جنسی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ غیر محفوظ طبی طریقۂ کار، آلودہ آلات اور خاص طور پر سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے بھی ہوتی ہے، جس کے اثرات اب ہائی رسک گروپس سے نکل کر عام آبادی تک پھیل رہے ہیں۔
اگرچہ ایچ آئی وی اب لاعلاج مرض نہیں رہا اور حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، لیکن اصل مسئلہ ان سہولیات تک رسائی کا ہے۔ صوبے میں ایچ آئی وی کے علاج اور اسکریننگ کے مراکز محدود اضلاع تک قائم ہیں، جس کی وجہ سے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے خواجہ سرا افراد عملاً صحت کی بنیادی سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ بہت سے خواجہ سرا افراد کے پاس ٹیسٹ کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں ہوتی، جبکہ ہسپتالوں میں موجود تعصبانہ رویوں کے باعث وہ وہاں جانے سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔ اسی پس منظر میں خواجہ سرا کمیونٹی کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ تمام اضلاع میں ایچ آئی وی مراکز قائم کیے جائیں اور خاص طور پر خواجہ سرا افراد کے لیے ڈور ٹو ڈور مفت اسکریننگ کا باقاعدہ نظام شروع کیا جائے۔
ہسپتالوں میں علاج کے دوران بھی خواجہ سرا افراد کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعدد واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ جب کسی خواجہ سرا کو علاج کے لیے وارڈ میں داخل کیا جاتا ہے تو اسے تماشہ بنا دیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف اس کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے بلکہ وہ علاج سے بدظن ہو جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ مطالبہ نہایت اہم ہے کہ اگر کسی خواجہ سرا کو ایچ آئی وی کے علاج کے لیے داخل کرنا ناگزیر ہو تو اسے الگ اور محفوظ کمرہ فراہم کیا جائے، تاکہ وہ خوف، تضحیک اور نفرت کے بغیر اپنا علاج جاری رکھ سکے۔
اس تمام بحران کا ایک بنیادی اور سنگین پہلو خیبرپختونخوا میں مؤثر صوبائی سطح کے قانون کی عدم موجودگی ہے۔ خواجہ سرا افراد، بالخصوص ایچ آئی وی سے متاثرہ خواجہ سرا، آج بھی واضح اور مضبوط قانونی تحفظ سے محروم ہیں۔ کسی جامع صوبائی قانون کے بغیر نہ تو صحت کے مراکز میں امتیازی سلوک کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہے اور نہ ہی معاشرتی تشدد، نفرت انگیز رویوں اور انسانی تضحیک کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔ ایک مضبوط قانون نہ صرف خواجہ سرا افراد کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ صحت، علاج، تعلیم اور سماجی تحفظ تک ان کی مساوی اور باعزت رسائی کو بھی یقینی بنا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایچ آئی وی اور خواجہ سرا کمیونٹی سے جڑا مسئلہ محض طبی نہیں بلکہ گہرا سماجی مسئلہ ہے۔ جب تک معاشرے میں شعور اور آگاہی کو فروغ نہیں دیا جائے گا، اس تعصب کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اسکولوں، کالجوں، جامعات، گھروں، مدارس اور دیگر سماجی اداروں میں یہ تعلیم دینا ناگزیر ہے کہ خواجہ سرا بھی اسی معاشرے کے برابر کے شہری ہیں۔ ان کا مذاق اڑانا، توہین آمیز زبان استعمال کرنا اور غیر انسانی رویہ اختیار کرنا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر مہذب طرزِ عمل ہے۔
ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے خواجہ سرا افراد درحقیقت دوہری سزا بھگت رہے ہیں: ایک بیماری کی اور دوسری معاشرتی نفرت کی۔ اس خاموش بحران کو تسلیم کرنا، مؤثر قانون سازی کرنا، صحت کی سہولیات کو سب کے لیے قابلِ رسائی بنانا اور سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی لانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جب تک یہ ذمہ داری پوری نہیں کی جاتی، انسانی وقار، مساوات اور سماجی انصاف کے تمام دعوے محض الفاظ تک محدود رہیں گے.