ڈاکٹر فاروق خان شہید ؛ ایک مسکراتا مبلغ

پاکستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف علم نہیں، اخلاق، فہم، برداشت اور جراتِ اظہار کا استعارہ بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد فاروق خان شہید انہیں گنے چنے روشن دماغوں میں سے ایک تھے۔ وہ نہ صرف ایک باعمل مسلمان اور مدبر استاد تھے بلکہ اعتدال پسند دینی فکر کے پُرامن علمبردار بھی تھے۔

ڈاکٹر صاحب سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر، اسلامی سکالر، معالج اور ایک خوش اخلاق انسان کے طور پر جانے جاتے تھے۔ مگر ان کی اصل پہچان یہ تھی کہ وہ خیبر پختونخوا میں فکری اعتدال دینی برداشت اور عقلی مذہبی بیانیے کو فروغ دینے والوں کی پہلی صف میں شامل تھے۔

ڈاکٹر فاروق خان کا چہرہ ہمیشہ مسکراہٹ سے روشن رہتا۔ ان کا اندازِ گفتگو کبھی جارحانہ نہیں ہوتا تھا، وہ دلیل سے بات کرتے، مخالف کی بات تحمل سے سنتے، اور ہمیشہ انسان کو مخاطب رکھتے تھے، فرقہ یا لیبل کو نہیں۔ ان کی گفتگو میں نہ اشتعال ہوتا تھا نہ تعصب۔ وہ علم سے بات کرتے اور اخلاق سے جیتتے تھے۔

وہ غامدی مکتبِ فکرکے ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے خیبر پختونخوا جیسے شدت زدہ خطے میں دین کو نرمی، عقل اور محبت کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا مقصد مذہب کو سیاسی ہتھیار نہیں، اصلاحی پیغام کے طور پر زندہ رکھنا تھا۔ وہ قرآن اور سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں دین کو پیش کرتے اور نوجوانوں کو دلیل و تحقیق کی طرف مائل کرتے تھے.

ڈاکٹر صاحب کی ایک سب سے بڑی جرات یہ تھی کہ انہوں نے کھل کر طالبان کے نظریات اور کاروائیوں کو چیلنج کیا۔ وہ خودکش حملوں کو حرام قرار دیتے، معصوم لوگوں کے قتل کو کھلم کھلا ظلم کہتے، اور ریاست کو شریعت کے نام پر بلیک میل کرنے کو فتنہ گردانتے تھے۔

یہی جرات، یہی راست گوئی، اور یہی حق گوئی بالآخر ان کی جان لے گئی۔

2010 میں طالبان نے ان پر حملہ کر کے ان کی جان لے لی، مگر ان کے افکار آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی شہادت خیبر پختونخوا میں نہ صرف ایک علمی شخصیت کا خاتمہ تھی بلکہ ایک فکری تحریک کا دھچکا بھی۔

آج جب ہم شدت پسندی، تعصب اور مذہبی بے سمتی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں، ڈاکٹر فاروق خان جیسے روشن چراغ کی یاد مزید شدت سے آتی ہے۔

ڈاکٹر فاروق خان ہمیں سکھا گئے کہ دین زور سے نہیں، دلیل سے سمجھایا جاتا ہے۔ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، اور دین کا اصل پیغام محبت، عدل اور فہم ہے نہ کہ دھونس، فتوے اور ہتھیار۔

اگر آج کوئی دین کو دلیل، اخلاق، اور تحقیق کے ساتھ پیش کرنے کا خواہش مند ہے تو وہ ڈاکٹر صاحب کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ شہید تو وہ ہوتا ہے جس کا خون رک جائے، لیکن پیغام چلتا رہے۔

ڈاکٹر فاروق خان شہید کا پیغام آج بھی چل رہا ہے ان کے چاہنے والوں کے دل میں، ان کی تحریروں میں، اور ان کے مسکراتے چہرے کی یاد میں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے