کیا خدا موجود ہے“ کی بجائے پوچھیے ”کیا انسان موجود ہے؟

رات کے اس یخ بستہ تنہائی ڈوبے ہوئے آخری پہر نے مجھے پھر سے وہ سب یاد دلا دیا جو میں دہائیوں سے محسوس کر تا آیا ہوں۔ یہ چنگاری ان روزمرہ کی نظروں نے دہکائی ہے جو شک و نفرت، خواہشاتِ نفس، سرد آہوں، خالی آنکھوں، دھوکہ دہی، بددیانتی، سفاکی، بے حسی اور دشمنی سے بھری ہوتی ہیں۔ اسی لیے میرے محبوب، کیا میں یہ پوچھنے کی جرات کر سکتا ہوں” کیا انسان واقعی موجود ہے؟“

صدیوں سے الہیٰات (Theology) اور فلسفے کے مابین ہونے والے مناظرے ایک ہی سوال کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں کہہ ”کیا خدا موجود ہے؟ “۔ ہم نے ہمیشہ ایک خالق کی تلاش میں آسمانوں کی طرف دیکھا اور اپنی زندگیوں کے اس شکستہ ڈھانچے کا ذمہ دار کسی معبود کو ٹھہرایا۔ مگر آج جب ہم تیسری ہزاریے کے تیسری دہائی میں داخل ہوئے ہیں تو ایک زیادہ پریشان کن خاموشی اس وقت ابھرتی ہے جب ہم اس سوال کا رخ اپنی طرف موڑتے ہیں۔ ہمیں اپنی اجتماعی انا کو پاش پاش کر دینے والے اس ہولناک سوال کو پوچھنا ہوگا کہ ”کیا انسان موجود ہے؟“

ماہرِ الہیات اور اخلاقیات کے علمبردار ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ایک ممتاز مخلوق ہیں، اشرف المخلوقات ہیں جسے ”آذاد ارادہ“ (Free will)“) عطا کیا گیا ہےجو ان کے نزدیک یا تو قدرت کا کوئی کرشمہ ہے یا ارتقاء کا وہ شاہکار جس نے ہمیں اپنی حیوانی جبلتوں سے ماورا ہونے کی قوت بخشی ہے۔ لیکن وقت کے آئینے میں اپنی نوع کا سنجیدہ مطالعہ ایک مختلف حقیقت کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ ہمیں اس دنیا میں کہیں ”انسان“ نظر نہیں آتے بلکہ ہمیں صرف وہ حیاتیاتی ڈھانچے دکھائی دیتے ہیں جن پر ثقافتی سدھاؤ (social conditioning) کے آسیبوں کا قبضہ ہے۔ یہ ”آذاد ارادہ“ درحقیقت محض ایک سراب ہے۔ حقیقت میں یہ ثقافت کا ایک پیچیدہ پروگرام ہے جو پیدائش کے لمحے سے ہی اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ اس سے پہلے کہ بچہ ”انسانیت“ کے تصور کو زبان دے سکے، اسے خاندان، قبیلے، مذہب اور قوم کی شناختوں کے قماط (Swaddle) میں باندھا جاتا ہے۔

یوں ثقافت انسان کو آزاد نہیں بلکہ اسے پابند کرتی ہے۔ یہ اسے ٹھپے، لیبلز، تعصبات اور رسومات جیسے اوزاروں کا مجموعہ تو فراہم کرتی ہےمگر اس ”خالص انسانیت“ کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے جسے ہمارا بنیادی جوہر ہونا چاہیے تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہم ”عقل“ اور ”زبان “ جیسی نعمتوں سے مالا مال نوع ہیں۔ یعنی وہ خصائل جو ہمیں جنگل کی حیوانی برائیوں سے بلند رکھنے کے لیے تھے۔ مگر تاریخ اور ذاتی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ عقل محض وہ وکیل ہے جسے ہماری حیوانی جبلتوں کے دفاع کے لیے مامور کیا گیا ہے اور زبان وہ لبادہ/بھیس (Camouflage) ہے جو ان جبلتوں کو چھپانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یوں ہم کسی فرد کو دیکھتے ہیں تو ہمیں وہاں ”انسانیت کی کوئی دھندلی تصویر“ بھی نہیں ملتی۔ اس کے بجائے ہمارا سامنا ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو حسد، دھوکہ دہی اور ایک ایسی بڑی انا سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں جسے پارسائی یا پیشہ ورانہ مہارت کے نقاب اوڑھنے پڑتے ہیں۔ کوئی مذہب درحقیقت اس حیوان کو ”انسان“ میں نہیں ڈھال سکا۔ کوئی سماجی یا سیاسی نظام ہمارے اندر کے درندے کو نہیں مار سکا۔ ہم نے تو بس اپنے ”بھیس“ کو تہذیب بخشی ہے۔ وہ حسد جو کسی دور میں محض لاٹھی مارنے پر اکساتا تھا اب کارپوریٹ سطح کی منظم دھوکہ دہی یا لطیف سماجی تخریب کاری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور جسے ”مقابلے“ اور ”برتری“ کی بہترین زبان کا لبادہ پہنایا جاتا ہے۔

اجتماعی سطح پر یہ المیہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ ہم خود کو ایسی نسلوں اور شناختوں کے ساتھ وابستہ پاتے ہیں جو ”دوسرے“ کی نفی اور اکثر اس کی تباہی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ عالمی سطح پر تو ”انسان“ مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ متصادم لیبلز /ٹھپوں کا ایک بازار سج جاتا ہے جیسے مسلمان، مسیحی، لبرل، ملحد، انتہا پسند، دہشت گرد، سرمایہ دار اور سوشلسٹ۔ یہ محض القابات نہیں ہیں۔ یہ قلعہ بند ذہنی خندقیں ہیں۔ ہر گروہ کا اپنا اخلاق اور اپنے ”مقدس“ مفادات ہیں جن کے لیے وہ قتل کرنے پر آمادہ ہے۔ لبرل ”آزادی“ کے نام پر مار سکتا ہے، صاحبِ ایمان ”سچائی“ کے نام پر، سرمایہ دار ”ترقی“ کے نام پر اور مذہبی ”خدا“ کے نام پر۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر صورت میں مقتول کبھی ”انسان“ نہیں ہوتا ب بلکہ وہ محض ایک ”ہدف“، ایک ”غدّار“ یا ”جنگ کا ضمنی نقصان“ )Collateral) قرار پاتا ہے۔

یہی نکتہ ہمیں وجودی بحران کے مرکز تک لے آتا ہے۔ اگر ”انسانیت“ کی تعریف آفاقی ہمدردی، معروضی عقل اور قبائلی انا کی زنجیروں سے آزاد روح ہے تو پھر ”انسان“ ایک فرضی مخلوق ہے ۔ ہم اپنے دماغ کے ترقی یافتہ حصوں کو ایک مشترکہ انسانی شناخت کے لیے نہیں بلکہ اپنی قدیم جبلتوں کے لیے زیادہ پیچیدہ جواز تراشنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لہٰذا کسی معبود کے وجود کا سوال ثانوی بلکہ غیر متعلقہ ہو جاتا ہے۔ دنیا کی حالتِ زار کا ذمہ دار کسی ہستی کو ٹھہرانا اس حقیقت سے چشم پوشی کرنا ہے کہ اس اسٹیج کا اصل اداکار یعنی ”انسان“ ہی غائب ہے۔ ہم اداکاروں کی وہ قسم ہیں جنہوں نے ہر وہ بھیس بدل رکھا ہے جو تصوراتی یا معاشرتی طور پر قابلِ قبول ہو سوائے اس ایک روپ کے جس کا ہم دعویٰ کرتے ہیں۔ ہم نے تہذیبیں بنائیں، ایٹم کو پاش پاش کیا اور انسانی جینوم کے نقشے مرتب کیے مگر ہم اسی ”انسانیت“ کے لیے اجنبی رہے جس کا جشن ہم اپنی شاعری، مذہب اور ازموں (isms) میں مناتے ہیں۔

مستقبل کا اصل کام خدا کی تلاش نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہم بالآخر ایک ”انسان“ کو جنم دے سکتے ہیں۔ جب تک ہم حسد کی تہوں، شناخت کے نقابوں اور قتل کو جائز قرار دینے والے ”اخلاقیات“ کو ادھیڑ نہیں دیتے ہم وہی رہیں گے جو ہمیشہ سے تھے: اپنے ہی بنائے ہوئے لبادے میں کھویا ہوا ایک چالاک جانور!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے