قسمت تو ان کی بھی ہوتی ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے

2010 کی بات ہے کہ کسی رنجش پر مجھے خیبر ٹی وی کو چھوڑنا پڑا۔ پانچ سال خیبر نیوز میں گزارنے کے بعد اچانک بیروزگاری کا سامنا ہوا، تو جیسے میرے اوسان خطا ہو گئے۔ وقتاً فوقتاً جانے کہاں کہاں اپلائی نہیں کیا، مگر وہی ہوا جو اللہ کو منظور تھا۔ اسی دوران اچانک وزارتِ امورِ نوجوانان، حکومتِ پاکستان کا ایک پیغام موصول ہوا۔

یہ سول سروس کے ہر وقت تازہ دم چہرے اور توانائی سے بھرپور آواز کے مالک عباس خان صاحب کی کال تھی۔ وہ جب بولتے تھے نا: ‘Hello Rahim’، تو ان کا ہیلو مجھ میں زندگی کی لہر دوڑا دیتا۔ انہوں نے میرے ساتھ بہت شفقت کی ہے اور میں تاحیات ان کا احسان مند رہوں گا۔ کیا لاجواب شخصیت ہے ان کی! وہ کئی سالوں تک افغان مہاجرین کے کمشنر رہے اور آج کل حکومتِ پاکستان کے ساتھ جوائنٹ سیکرٹری ہیں۔

انہوں نے فرمایا: "رحیم شاہ! ۲۸ یوتھ ممبرز ترکی جائیں گے۔ میری کوشش ہے کہ آپ کو بھی لے جاؤں اور آپ نے پھر سے چائنا ٹور کی طرح ہمیں ایک ڈاکومنٹری بنانی ہوگی۔” تازہ تازہ بیروزگار کو ایسا موقع ہاتھ آئے تو وہ بھلا کہاں چھوڑتا ہے۔ کیا تازہ ہوا کا جھونکا تھا ‘Hello Rahim Shah’ عباس صاحب کی کال کا، دل جھوم اٹھا۔ مگر ایک مسئلہ تھا؛ حکمرانِ بالا کسی اور شخص، غالباً کسی تگڑی سفارش والے کو بھیجنا پسند کر رہے تھے۔ میرے ساتھ والدہ کی دعائیں اور عباس صاحب کی سپورٹ تھی۔

میرے نام اور ڈیلیگیشن پر بہت ڈسکشن ہوئی۔ ایک موقع پر عباس صاحب آئے اور کہنے لگے: "یار! میں نے تو پورا زور لگا دیا مگر بات نہیں بن رہی۔” یہ سن کر دل بیٹھ سا گیا، مگر عابد شاہ بھائی جن کا میں اکثر تذکرہ کرتا رہتا ہوں کہ بھائی کے ساتھ ساتھ میرے محسن بھی ہیں۔ میں جہاں کہیں پھنس جاتا ہوں، ان کی طرف دوڑتا ہوں۔ مولوی کی دوڑ مسجد تک اور رحیم شاہ کی دوڑ عابد شاہ تک۔ جب کبھی میں شرم کے مارے ان سے کسی مسئلے پر بات نہ کر سکوں، تو جانے کیسے غیب سے ان کو علم ہوتا ہے اور وہ انڈائرکٹلی سپورٹ کرتے ہیں۔ سچ کہتے ہیں پشتو میں کہ: اللہ بڑے سے کسی دشمن کو بھی محروم نہ کرے۔

عابد بھائی نے نجانے کہاں کال ملائی اور ان صاحب سے درخواست کی کہ "بھائی ہے اور ٹیلنٹڈ ہے، اگر اس کو بھی چانس مل جائے۔” اللہ کی کرنی کو کون ٹال سکتا ہے؛ بھاگ دوڑ کی، کوشش کی اور دعائیں مانگیں۔ میرے گھر والے اکثر مجھ پر ہنستے ہیں کہ بیرونِ ملک کا ٹور ہو تو رحیم شاہ تہجد پڑھنا شروع کر دیتا ہے اور بعد میں چھوڑ دیتا ہے۔ میرے سب سے بڑے بھائی اور بابا مرحوم کہتے تھے:
"دا لیوانی ارمان پوره شو، په کانو ولې زیارتونه”
(کہ دیوانے کا ارمان پورا ہو گیا ہے، اب پتھروں سے مزار کو مارتا پھرتا ہے)۔

بات سچ بھی ہے مگر ایسی بھی کوئی بات نہیں۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ لوگوں سے درخواستیں کرنے سے بہتر ہے بندہ اللہ سے مانگے تہجد میں۔ تجربہ اور وساطت سے کہتا ہوں دعائیں قبول ہوتی ہیں، دھڑا دھڑ قبول ہوتی ہیں۔ مانگنے میں تھوڑی عاجزی اور محتاجی ہو تو اللہ کیا کچھ نہیں کر سکتا۔ خیر، ہفتہ بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد میں **اس ۲۸ رکنی ڈیلیگیشن کا اہم ستون ٹھہرا اور چل پڑے ہم بہار کے موسم میں ترکی۔

پہلا پڑاؤ ہوا استنبول میں۔ وہی پرانی عادت، وہی پرانا قصہ؛ کیمرہ میرے ہاتھ میں اور استنبول میرے پیروں کے نیچے۔ سب سے پہلے ہمیں ایشیا اور یورپ کے اس پل پر لے جایا گیا جو آدھا ایشیا میں ہے اور آدھا یورپ میں۔ ترکی کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کا ذکر، ۱۹۲۴ کے حالات اور میٹرک و ایف ایس سی کی کلاسوں میں مسلمانانِ ہند کی عثمانیہ سلطنت کے لیے کوششیں ذہن میں چلتی رہیں اور ہم استنبول میں گھومتے رہے۔ اس کے بعد ہمیں براستہ ہوائی جہاز انقرہ (ترکی کے دارالخلافہ) لے جایا گیا۔ وہاں ایک زبردست ہوٹل میں ٹھہرایا گیا اور ایک گائیڈ دیا گیا جو ہر وقت بس میں بیٹھ کر ہمیں تاریخ کے اوراق پڑھاتا، وہ اپنی مستی میں رہتا، ہم اپنی موج میں۔

وہاں انقرہ میں ایک پورا کمپلیکس تیار ہوا تھا جہاں کلچرل پرفارمنس اور اسٹیج تھا۔ اس ایونٹ کا نام تھا "دی گریٹ اناطولی میٹنگ آف ورلڈ کلچرز اینڈ یوتھ”۔ یہاں یہ بتانے چلوں کہ اناطولی (Anatolia) کا مطلب ہے سورج یا مشرق، اور اسی مناسبت سے اس کا نام رکھا گیا تھا۔ وہاں ایک دنیا آئی ہوئی تھی؛ وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، یورپ اور فار ایسٹ ایشیا وغیرہ سے لگ بھگ پچاس ممالک کے وفود آئے تھے۔ پاکستان کا بھی اچھا خاصا تگڑا ڈیلیگیشن تھا جس کے سربراہ عباس خان صاحب (دی فیمس Hello Abbas) تھے۔ مجھے ان سے دلی لگاؤ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نوجوان لوگوں کو جس انداز میں اپریشی ایٹ کرتے ہیں اور حوصلہ بڑھاتے ہیں، اس کا کوئی ثانی نہیں۔ آپ جب ان سے ملیں، جہاں ملیں، وہ ایک انرجی سے بھرپور شخصیت ہیں۔ اللہ ان کو مزید ترقیاں دے، آمین۔ عباس صاحب کہتے: "بس لگے رہو”۔

اس میٹنگ میں بہت کچھ تھا یوتھ کے لیے۔ ایک تو مقابلے بہت زبردست تھے جن کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا؛ مثلاً میوزک انسٹرومینٹس، ڈانس، فوٹوگرافی اور پینٹنگ کا مقابلہ وغیرہ۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ ڈیلیگیشن زیادہ ہونے کی وجہ سے ۱۵ سے ۲۱ مئی کے وقت وہاں ایک میلہ لگا ہوا کرتا تھا۔ ترک لوگ ہوتے بھی خوبصورت ہیں اور بہت زیادہ سمجھدار بھی۔ میری دوستی ہو گئی ان کے ساتھ؛ میں بغیر کسی جھجک کے ان کے ساتھ نکل جاتا اور وہ مجھے مختلف جگہیں دکھاتے جو ڈیلیگیشن والے کبھی بھی نہ دکھاتے۔ نہ صرف فوٹوگرافی کے مقابلوں میں شرکت کی بلکہ ایک عمدہ قسم کا سرٹیفکیٹ بھی لیا، جسے آج بھی نکال کر دیکھتا ہوں اور یادیں تازہ کرتا رہتا ہوں۔ کیمرے نے بھرپور ساتھ دیا، جو سامنے آیا ریکارڈ کیا اور ایک بہترین قسم کی ڈاکومنٹری تیار کی جو اب یوٹیوب پر موجود ہے۔ ڈاکومنٹری کے اختتام پر عباس خان کا انٹرویو قلم بند کیا اور ان سے ایک عمدہ سرٹیفکیٹ آف اپریسی ایشن بھی لیا جو اب میری دیگر ڈگریوں کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔

ترکی میں گزرے وہ دن کسی خواب سے کم نہیں تھے۔ اس کی دو تین وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ ترکی خوبصورت تھا۔ دوسرا یہ کہ پاکستانی ڈیلیگیشن نے وہاں کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ پینٹنگ کے مقابلے میں ہمارے ایک ڈیلیگیٹ، جس کے دونوں ہاتھ کرنٹ لگنے کی وجہ سے بازو تک کٹ گئے تھے، اس ہمت کے پیکر محمد اویس نے بغیر ہاتھوں کے، پیروں سے اور اپنے لبوں میں پینسل تھامے اللہ پاک کا نام لکھا اور وہ پینٹنگ مقابلہ پاکستان جیت گیا۔ یقین جانیے، پاکستان کے تمام تر ڈیلیگیٹس رو رہے تھے۔ میں نے "Hello Abbas” کی آنکھوں میں آنسو دیکھے اور جس انداز سے عباس صاحب نے اویس رضا کو گلے لگایا، میں سمجھ گیا کہ عباس صاحب صرف آفیسر ہی نہیں ایک بہترین شخصیت کے حامل انسان بھی ہیں۔

ہم نے اویس کی جیت کا جشن منایا، اور اویس کو صرف ہم نے نہیں بلکہ پوری دنیا نے جھک کر خراجِ تحسین پیش کیا۔ اویس رضا کا ایک شعر آج بھی دل کو چھوتا ہے:

کیا دیکھتے ہو ہاتھوں کی لکیروں میں
قسمت تو ان کی بھی ہوتی ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے

ڈانس مقابلہ ہوا، ہمیں سرٹیفکیٹ ملے، جیتے نہیں مگر پنجابی بھنگڑے نے پورے ہال کو گرمایا۔ گلگت بلتستان کے احمد اور ایک اور ڈیلیگیٹ نے وہ اسٹیج پھاڑ پرفارمنس دی کہ ہال میں موجود لوگ پہلے ہنسے، پھر حیران ہوئے اور بعد میں پوچھنے پر مجبور ہوئے کہ یہ کون سا ڈانس ہے۔

ہنسی خوشی دن گزرے اور ہم پاکستان واپس آئے۔ واپسی پر میں نے ایک سنجیدہ کوشش کی جس پر عباس صاحب نے میری بہت مدد کی۔ ہم اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے مگر اب بھی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی موقع پر یہ کام ضرور سرانجام دوں گا۔ وہ کام تھا پاکستان میں "Delphic Council” کا قیام۔ آسان الفاظ میں آرٹ سے تعلق رکھنے والے ہنرمندوں کا مقابلہ۔ اس ادارے کا مرکز جرمنی میں ہے اور وہ ڈلفک مقابلے کرواتے ہیں۔ جب میں نے عباس صاحب سے تذکرہ کیا تو انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔ پاکستان کو ممبرشپ بھی ملنی تھی اور ہر سال مقابلوں میں شرکت بھی یقینی تھی، مگر اس کے لیے سالانہ کچھ فیس درکار تھی۔ میں اس وقت بیروزگار تھا اور حکومت کا کوئی ایسا ترغیبی طریقہ موجود نہ تھا کہ اس وقت ہم داخلہ فیس اور سالانہ فیس جمع کراتے۔ ڈلفک کونسل اولمپکس کی طرح مقابلے منعقد کرواتے ہیں مگر آرٹس کے شعبوں میں۔ اگر پاکستان کو موقع ملے تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان "Delphic Council” میں اپنا ایک الگ مقام بنا لے گا، ان شاءاللہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے